سورج کی پہلی کرنیں اور جنگلی بھینسے

نیشنل جیوگرافک کے سفری تصاویری مقابلے کے آخری ہفتے کی نو سحرانگیز تصاویر۔

تصویر: پینی ہیگی

دنیا بھر سے فوٹوگرافرز نیشنل جیوگرافک کے سفری مقابلے کے لیے اپنی تصاویر بھیج رہے ہیں جن میں طلوع ہوتے ہوئے سورج کی پہلی کرن میں لندن کے ٹاور برج کا عکس اور کڑکتی آسمانی بجلی کے طوفان کے دوران گینڈوں کی لی گئی تصاویر شامل ہیں۔

چھ ہفتوں سے جاری اس مقابلے کا آخری مرحلہ 3 مئی کو اختتام پذیر ہوا۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان اسی سال ہوگا۔

جیتنے والے امیدوار کو نہ صرف انعامی رقم دی جائے گی بلکہ ادارہ ان کے کام کی پذیرائی بھی کرے گا۔

آخری ہفتے کی انٹریوں میں سے نو بہترین تصاویر نیچے دیکھیے۔

فوٹوگرافر کیلوین یوین نے کہا: ’یہ میرا افریقہ کا پہلا دورہ تھا۔ سفر کے دوران مجھے پانی کے ایک جوہڑ میں چند گینڈوں کا ایک گروہ نظر آیا۔ کڑکتی آسمانی بجلی کے دوران میں نے ان کی دس ہزار تصاویر کھینچیں، جن میں سے یہ شاٹ مقابلے کے لیے بھیجا۔ یہ تصویر قدرت اور جنگلی حیات کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہے۔ جنگلی حیات ہمارے ماحول کا حصہ ہیں اور انہیں بچانے کی ضرورت ہے۔‘ 

 چِن کیو نے کہا: ’بولیویا میں رنگا رنگ ’اورورو کارنیول‘ سیاحوں کے لیے بڑی کشش رکھتا ہے جس میں دنیا بھر سے چار لاکھ افراد شرکت کرتے ہیں۔ ویسے تو یہ تہوار ملک بھر میں منایا جاتا ہے لیکن اورورو میں اس کے رنگ الگ ہی ہوتے ہیں جہاں یہ بلاشبہ سب سے زیادہ پسند کیے جانے والا ایونٹ بن جاتا ہے۔‘

 

نارا لیئٹ کے مطابق: ’صبح سورج کی پہلی کرنیں جب لندن پر پڑیں تو میں نے اس منظر کو اپنے کیمرے میں قید کر لیا۔ اس منفرد تصویر میں ٹاور برج اور ٹاور آف لندن نارنجی روشنی سے دمک رہے ہیں۔‘

پینی ہیگی نے کہا: ’ہجرت کے دوران جنگلی بھینسے دریا کے دوسرے کنارے پہنچنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر دریا پار کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جبکہ کچھ بدقسمت بھینسے مگرمچھوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔‘ 

ٹونگ سن کے مطابق: ’قومی دن کے موقع پر وطن پرستی کے اظہار کے لیے سنگاپور کے لوگ اپنے اپارٹمنٹس کے باہر قومی پرچم آویزاں کرتے ہیں۔ سنگاپور کی 80 فیصد آبادی حکومت کی جانب سے تعمیر کیے گئے اپارٹمنٹس میں رہتی ہے۔ یہ تصویر بھی ایک ایسی ہی پرانی عمارت سے لی گئی ہے۔‘

اگیتھی برنارڈ نے کہا: ’بھارت میں کمبھ میلے کے دوران لاکھوں ہندو یاتری دریائے گنگا پر قائم عارضی پل عبور کرکے تریوینی سنگم تک پہنچ رہے ہیں۔ سنگم اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں دریائے گنگا، جمنا اور دیو مالائی تخیلاتی دریا سرسوتی آپس میں ملتے ہیں۔ یہاں لاکھوں ہندو یاتری اشنان لے کر اپنے پاپوں سے مکتی لیتے ہیں۔‘

راگھیو سیٹھی نے کہا: ’پیرس کے بِرہیکیئم اور پیسی سٹیشنز کے درمیان سفر کرتے ہوئے آئرن لیڈی (ایفل ٹاور) کی ایسی نایاب تصویر کشی مشکل کام تھا۔ اس منظر کو کیمرے کے پردے پر اتارنے کے لیے مجھے ان دو سٹیشنز کے درمیان لاتعداد چکر کاٹنے پڑے۔‘ 

ٹوبی ہیریمن کے مطابق: ’برما کی انلے جھیل پر تیرتی ہوئی نیم پین مارکیٹ پانچ روز تک لگتی ہے۔ ڈرون کے ذریعے اس کی منظرکشی کرنے کے لیے یہ بہترین دن تھا اور ہم خوش قسمت تھے کہ ہم اس وقت وہاں موجود تھے۔‘ 

جیسن جیانگ کا میلان سے سوئٹزرلینڈ جاتے ہوئے ٹرین سے لیا گیا فلیش شاٹ۔

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی