گورنر بلوچستان کا روزنامہ جنگ کو ’جھوٹی خبر‘ پر قانونی نوٹس

روزنامہ جنگ میں جمعرات کو شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گورنر بلوچستان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔

گورنر  بلوچستان امان اللہ خان یٰسین زئی (تصویر فیس بک اکاؤنٹ)

بلوچستان کے گورنر امان اللہ خان یٰسین زئی نے ایک مقامی اخبار میں اپنے حوالے سے شائع ہونے والی خبر پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اخبار کو قانون نوٹس بھیج دیا ہے۔

روزنامہ ’جنگ‘ میں جمعرات کو ایک خبر شائع ہوئی، جس میں گورنر بلوچستان جسٹس (ر) امان اللہ یٰسین زئی کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ خبر میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’گورنر بلوچستان نے وزیراعظم کی طرف سے لکھے گئے خط کے ردعمل میں کہا کہ وزیراعظم کو معلوم نہیں کہ استعفیٰ لینا صدر پاکستان کی ذمہ داری ہے نہ کہ وزیراعظم کی۔‘ 

اس پر گورنر بلوچستان نے ردعمل دیتے ہوئے ایک بیان میں اس خبر کو ’جھوٹ، من گھڑت اور بے بنیاد‘ قرار دیتے ہوئے اخبار کو قانونی نوٹس بھیج دیا۔

گورنر بلوچستان کے سرکاری لیٹر پیڈ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر بلوچستان کی تمام خبریں اور تصاویر سرکاری میڈیا ہی کے ذریعے شائع ہوتی ہیں۔ 

مذکورہ خبر کے حوالے سے گورنر بلوچستان نے واضح کیا کہ انہوں نے نہ تو کسی سے بات کی اور نہ کسی ٹی وی چینل یا اخبار کو کوئی انٹرویو دیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جان بوجھ کر انتشار پھیلانے والے بیانات سے گورنر بلوچستان کا کوئی تعلق نہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی حلقے میں اگر کوئی غلط فہمی موجود ہے تو اسے فوری طور پر ختم ہو جانا چاہیے۔ 

گورنر بلوچستان کے استعفے کے حوالے سے بازگشت اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ ہفتے وزیراعظم عمران خان نے کوئٹہ کا دورہ کیا تھا۔

دورے سے قبل پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی صدر اور دیگر رہنماؤں نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کا بائیکاٹ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ 

وزیراعظم عمران کے دورے کے دوران انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت سے ملاقات کر کے ان کے تحفظات حل کرنے کے لیے وفاقی وزیر اسد عمر کو رابط کار بنا دیا تھا جس پر رہنماؤں نے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے کر تمام تقریبات میں شرکت کی۔

وزیراعظم عمران کے دورے کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے ایک خط جاری ہوا جس میں گورنر بلوچستان امان اللہ یٰسین زئی سے مستعفی ہونے کا کہا گیا تھا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم ہاؤس سے اس خط کی تصدیق تو ہو گئی مگر گورنر بلوچستان کے آفس سے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔ 

ادھر روزنامہ ’جنگ‘ کی خبر میں لکھا گیا ہے کہ گورنر بلوچستان کے مطابق ’سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں اور نہ ہی ان کی مجھ سے استعفیٰ لینے کی حیثیت ہے۔‘ 

اس پر گورنر بلوچستان کی طرف سے جاری بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ ’عزت ماب عمران خان کی تہہ دل سے عزت کرتے ہیں اور ان کے بارے میں ایسا بیان دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔‘

گورنر بلوچستان نے اس خبر کو اپنے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے اپنے وکلا کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ اخبار کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانہ کا مطالبہ دائر کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان