مسجد اقصیٰ میں 200 افراد زخمی، اسرائیل کے خلاف مظاہرے

امریکہ، یورپی یونین اور علاقائی طاقتوں کی حالیہ تشدد کے بعد فریقین سے پرسکون رہنے کی اپیل۔

مقبوضہ بیت المقدس میں حرمین کے بعد مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصیٰ میں 200 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے بعد ہفتے کو اسرائیل مخالف مظاہرے ہوئے۔

امریکہ، یورپی یونین اور علاقائی طاقتوں نے حالیہ تشدد کے بعد فریقین سے پرسکون ہونے کی اپیل کی ہے۔

نماز جمعہ کے بعد ہونے والی بدامنی میں اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر ربڑ کی گولیوں اور سٹین گرنیڈ فائر کیے جس کے جواب میں انہوں نے اسرائیلی اہلکاروں پر پتھراؤ، بوتلیں اور آتش گیر مادہ پھینکا۔

اسرائیلی پولیس نے بتایا کہ اس کے 18 اہلکار زخمی ہوئے جب کہ فلسطینی ریڈ کریسنٹ نے اطلاع دی ہے کہ 205 فلسطینی زخمی ہوئے، جن میں 80 سے زائد افراد کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال داخل کرایا گیا۔

تشدد کی ویڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی اہلکار مسجد کے وسیع و عریض عمارت پر دھاوا بول رہے ہیں جہاں خواتین اور بچوں سمیت متعدد نمازی رمضان کے آخری جمعے کو نماز ادا کر رہے تھے۔

اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر تالے لگا دیے، جس سے لوگ ایک گھنٹے تک پھنسے رہے۔ سینکڑوں فلسطینیوں نے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

یہ جھڑپیں اس وقت ہوئیں جب رمضان کے دوران پرانے شہر کے کچھ حصوں تک اسرائیلی پابندیوں کو بڑھا دیا گیا اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے چار فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی تنظیم حماس نے فلسطینیوں سے رمضان کے اختتام تک مسجد اقصیٰ کے احاطے میں موجود رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تحریک کسی بھی قیمت پر مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ہفتے کو اسرائیل کے درجنوں عرب شہریوں نے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ناصرت میں مظاہرہ کیا اور اسرائیلی کارروائی کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا۔

اسرائیل میں عربوں کی کمیٹی نے، جو ملک کی 20 فیصد اقلیت کی نمائندگی کرتی ہے، نے دوسرے اسرائیلی شہروں اور بیت المقدس میں احتجاج کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ انہیں ان واقعات پر ’انتہائی تشویش‘ ہے اور دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ ’ایسے تنازعات سے گریز کریں جو تناؤ کو بڑھائیں یا امن میں خلل پیدا کریں۔‘

امریکی بیان میں کہا گیا: ’ان اقدامات میں مشرقی یروشلم میں بے دخلیاں، یہودی آباد کاری کی سرگرمیاں، گھروں کو مسمار کرنے اور دہشت گردی کی کارروائیاں شامل ہیں۔‘

ادھر یورپی یونین نے دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ موجودہ کشیدگی کو دور کرنے کے لیے فوری طور پر کارروائی کریں۔ یونین نے مزید کہا کہ ’تشدد اور اشتعال انگیزی ناقابل قبول ہے اور دونوں جانب مجرموں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔‘

فلسطینی صدر محمود عباس نے حالیہ بدامنی کے لیے اسرائیلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور ’اقصیٰ کے ہیروز‘ کی مکمل حمایت پر زور دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی جگہ مخلوط حکومت بنانے کی کوشش کرنے والے اسرائیلی سیاست دان یائر لاپڈ نے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے ٹویٹ کیا: ’اسرائیلی ریاست تشدد کو پھلینے اور دہشت گرد گروہوں کو دھمکی دینے کی اجازت نہیں دے گی۔ جو بھی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے اسے ضرور جان لینا چاہیے کہ وہ اس کی بھاری قیمت ادا کرے گا۔‘

ادھر اردن نے اسرائیل کے ’وحشیانہ حملے‘ کی مذمت کی۔ اس کے علاوہ مصر، ترکی ، تیونس، پاکستان اور قطر نے محاذ آرائی کے لیے اسرائیل کی مذمت کی۔

حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھی تل ابیب کی تنقید کی گئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا