سعودی عرب میں سوا تین لاکھ سال قدیم آثار کی دریافت

معروف سائنسی جریدے نیچر میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے صحرائے نفود کے علاقے النسیم میں پتھر کے زمانے کے ایسے اوزار ملے ہیں جن کا تعلق MIS 9 دور سے ہے جو آج سے تقریباً سوا تین لاکھ سال قبل بنتا ہے۔

اس علاقے سے 354 دستی کلہاڑیاں ملی ہیں (تصویر بشکریہ نیچر ڈاٹ کام)

معروف سائنسی جریدے نیچر میں بدھ کو شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے صحرائے نفود کے علاقے النسیم میں پتھر کے زمانے کے ایسے اوزار ملے ہیں جن کا تعلق MIS 9 دور سے ہے جو آج سے تقریباً سوا تین لاکھ سال قبل بنتا ہے۔

اس طرح النسیم سعودی عرب کی وہ قدیم ترین سائٹ بن جاتی ہے جہاں آثار قدیمہ پائے گئے ہیں۔

جریدے کے مطابق اس علاقے سے جو اوزار ملے ہیں انہیں ’اشولین کلہاڑیاں‘ کہا جاتا ہے۔

یہ افریقہ اور ایشیا کے مختلف علاقوں میں سے ملی ہیں اور ان کا زمانہ 17 لاکھ قبل سے لے کر ایک لاکھ 30 ہزار سال قبل تک بنتا ہے۔ 

یہ اوزار ایک خاص قسم کے سخت پتھر سے بڑی محنت سے تراش کر بنائے جاتے تھے۔ ایک طرف انہیں پکڑنے کی جگہ ہوتی تھی اور دوسری جانب تیز دھار جو مختلف اشیا کو کاٹنے یا شکار وغیرہ کرنے اور اس کا گوشت کاٹنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

اس قسم کے اوزار انسان سے پہلے آنے والی مختلف انسان نما نسلوں کے زیرِ استعمال رہے ہیں۔ 

اس سے قبل وسطی سعودی عرب کے علاقے صفاقہ سے اشولین کلہاڑیاں ملی تھیں۔ سائنٹفک رپورٹس نامی میگزین میں 2018  میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اس علاقے میں دو لاکھ سال قبل قدیم انسان آباد تھا۔

گذشتہ ماہ کے آخر میں مغربی سعودی عرب میں مستطیل کہلانے والی پتھر کی تعمیرات کے بارے میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ یہ مصر کے اہرام سے بھی پہلے کی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ پتھر کے زمانے کے آخری دور میں ہوئی یہ دیوقامت تعمیرات سات ہزار سال سے زیادہ پرانی ہیں۔

تاہم حالیہ دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم انسان اس بھی کہیں پہلے عربستان کے صحراؤں میں آباد تھا۔ تاہم نیچر کی رپورٹ کے مطابق اس زمانے میں اس علاقے کا ماحول بہت مختلف تھا، یہاں دریا بہتے تھے اور جھیلیں اور چراگاہیں بکھری ہوئی تھیں۔

سائنس دانوں کے مطابق النسیم کے علاقے میں لاکھوں سال پہلے میٹھے پانی کی ایک جھیل تھی جہاں سے 354 آثار ملے ہیں جن میں ہاتھ سے پکڑے جانے والے کلہاڑیاں اور ان کے ٹکڑے شامل ہیں۔ 

پتھر کے ان اوزاروں اور صحرائے نفود کی کلہاڑیوں میں مماثلت سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید وہاں بسنے والے قدیم انسانوں کا آپس میں رابطہ تھا۔ 

جدید سائنسی نظریے کے مطابق انسان کا آغاز افریقہ سے ہوا، تاہم وہ ہزاروں سال قبل سعودی عرب کے راستے دنیا کے باقی ملکوں تک پھیلا۔

یہ تحقیق ’گرین اریبین پروجیکٹ‘ کا حصہ ہے جو دس سال پہلے شروع کیا گیا تھا اور اسے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیویلپمنٹ کا تعاون شامل ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس