اٹلی کی تاریخ میں خفیہ ایجنسی کی پہلی خاتون سربراہ

اٹلی میں پہلی بار ملک کی خفیہ سروس کی سربراہی کے لیے ایک خاتون کو مقرر کیا گیا ہے۔

بیلونی 1958 میں دارالحکومت روم میں پیدا ہوئی تھیں(اے ایف پی)

اٹلی میں پہلی بار ملک کی خفیہ سروس کی سربراہی کے لیے ایک خاتون کو مقرر کیا گیا ہے۔

اس بات کا اعلان وزیر اعظم ماریو ڈریگی نے کیا جن کا کہنا تھا کہ سفارت کاری کے شعبے میں ملک کے لیے خدمات انجام دینے والی ایلیزیٹا بیلونی کو ملک کی پرائم انٹیلی جنس ایجنسی کا سربراہ مقرر کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم کے بیان کے مطابق بیلونی اس سے قبل وزارت خارجہ کے اہم عہدوں پر فائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں اور اب وہ اٹلی کے سکیورٹی انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ (ڈی آئی ایس) کی سربراہی کریں گی جو براہ راست کابینہ کو رپورٹ کریں گی۔

ڈی آئی ایس کی ذمہ داریوں میں داخلی اور خارجی انٹیلی جنس اور سکیورٹی معاملات کے ساتھ ساتھ  ملک میں جاسوسی نیٹ ورک کا سراغ لگانا اور سائبر سکیورٹی بھی شامل ہے۔

بیلونی نے عوامی مقبولیت اس وقت حاصل کی جب وہ 2004 اور 2008 کے درمیان وزارت خارجہ میں کرائسس یونٹ کی سربراہی کر رہی تھیں۔ اس وقت انہوں نے بیرون ملک ہونے والے حملوں یا قدرتی آفات میں زخمی یا ہلاک ہونے والے اطالوی شہریوں کے لیے بے مثال خدمات انجام دی تھیں۔

وہ اس عہدے پر بھی فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس یونٹ نے اغوا کے واقعات کی بھی نگرانی کی اور افغانستان سے اغوا کیے گئے اطالوی صحافی ڈینیئل ماستروجیاکومو کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

انہوں نے تھائی لینڈ میں دسمبر 2004 کے سونامی میں زندہ بچ جانے والے اطالوی شہریوں کی تلاش کا بھی انتظام سنبھالا تھا۔

بیلونی 1958 میں دارالحکومت روم میں پیدا ہوئی تھیں اور پہلی بار 1985 میں وزارت خارجہ میں بطور سفارت کار خدمات انجام دینا شروع کیں۔ وہ آسڑیا اور سلوواکیا میں اٹلی کی نمائندگی کر چکی ہیں۔

62 سالہ بیلونی وزارت خارجہ کی سینیئر ترین سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دینے والی پہلی خاتون تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین