محمد عامر نوجوان کرکٹرز کے لیے بری مثال قائم کر رہے ہیں: کنیریا

’مجھے کوئی تکلیف نہیں کہ عامر برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں یا آئی پی ایل میں حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ عامر نے اس مقام سے عزت اور احترام پایا جہاں سے بہت سے دوسرے کھلاڑیوں کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔‘

عامر نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 50 ٹی ٹوئںٹی میچ کھیلے ہیں(اے ایف پی)

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق لیگ سپنر دنیش کنیریا نے کہا ہے کہ سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ ساتھی کھلاڑیوں اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو مایوس کیا۔

عامر نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے 36 ٹیسٹ، 61 ون ڈے اور 50 ٹی ٹوئںٹی میچ کھیلے ہیں۔

بھارتی ٹیلی ویژن چینل انڈیا ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے عامر کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ برطانوی شہریت کے لیے درخواست دے رہے ہیں اور یہ کہ ان کی خواہش ہے کہ وہ انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کھیلیں۔

کنیریا نے انڈیا ٹی وی کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ انہیں اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں کہ عامر نے آئی پی ایل کھیلنے کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ پاکستان میں نئے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے بری مثال قائم کر رہے ہیں۔

’مجھے کوئی تکلیف نہیں کہ عامر برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں یا آئی پی ایل میں حصہ لینا چاہتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ عامر نے اس مقام سے عزت اور احترام پایا جہاں سے بہت سے دوسرے کھلاڑیوں کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ وہ خوش قسمت ہیں لیکن انہوں نے اس کا احساس نہیں۔‘

انہوں نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ عامر اپنی ریٹائرمنٹ کے فیصلے سے بری مثال قائم کر رہے ہیں۔ وہ نوجوان کھلاڑی جو ان کی طرف دیکھ رہے ہیں انہیں ٹیم میں جگہ نہ ملنے پر شہریت تبدیل کر لینا آسان راستہ دکھائی دے گا اور یہ بات غلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے عامر کی اس وقت مدد کی جب وہ برطانیہ میں سپاٹ فکسنگ کیس میں الجھ کر مصیبت میں گرفتار تھے۔

’جب عامر سپاٹ فکسنگ کیس میں برطانیہ میں قید کاٹ رہے تھے اور آٹھ، 10 سال تک برطانیہ نہیں آ سکتے تھے تو ان حالات میں پی سی بی اور برطانوی کرکٹ بورڈ نے انہیں سفر کرنے کے لیے خصوصی سہولت دی۔

’پی سی بی نے محمد عامر کی مدد اس وجہ سے کی کہ سبھی کو علم تھا کہ نوجوان کھلاڑی کی حیثیت سے ان میں ٹیلنٹ موجود ہے۔‘

جہاں کنیریا نے عامر کے حوالے سے بات کی، وہیں انہوں نے پی سی بی کے اپنے ساتھ سلوک کا گلہ کرتے ہوئے کہا عامر کی کرکٹ میں واپسی ممکن بنانے کے لیے ان کے ساتھ ’خصوصی مہربانی‘ کی گئی۔

’سپاٹ فکسنگ میں برطانیہ میں سزا پانے والے سلمان بٹ جب واپس آئے تو انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنا شروع کر دی لیکن انہیں انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کا موقع نہیں دیا گیا۔‘

کنیریا کہتے ہیں کہ قانون سب کے لیے ایک جیسا ہونا چاہیے۔'اس معاملے میں خود بھی شامل ہوں۔ وہ وقت کہ جب پی سی بی کا نظام نجم سیٹھی کے ہاتھ میں تھا مجھ پر پابندی لگی اور اب 11 سال ہو گئے ہیں یہ پابندی برقرار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں کہ جب عامر پر پابندی لگی تو پاکستان نے جنید خان، محمد عرفان اور عمران خان جونیئر جیسے متعدد کھلاڑیوں کو موقع دیا لیکن جونہی عامر واپس آئے ان سب پلیئرز کو سائیڈ لائن کر دیا گیا۔

’ان سب کھلاڑیوں کا کیریئر تو ختم کر دیا گیا لیکن بات یہ ہے کہ خصوصی رعایت کے بدلے میں عامر نے آپ کو کیا دیا؟‘

ان کے مطابق جب 2016 میں عامر کی واپسی ہوئی تو ٹیم کے کئی کھلاڑی اس سے خوش نہیں تھے۔ ’صرف مصباح الحق ہی ایسے پلیئر تھے جنہوں نے واپسی میں عامر کی مدد کی۔

’عامر کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں پھر سے پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملا۔ لیکن اب جب کہ وہ ریٹائر ہو گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ وقار یونس اور مصباح الحق کی مینیجمنٹ کے ساتھ نہیں چل سکتے تو بات یہ ہے کہ مصباح ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے واپسی کے لیے عامر کی مدد کی۔

’محمد حفیظ عامر کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے سخت خلاف تھے۔ پی سی بی نے ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ فاسٹ بولر کی واپسی کی حمایت کریں۔‘۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم میں اور بھی کھلاڑی تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ عامر واپس آئیں لیکن اس کے باوجود پی سی بی نے ان کی مدد کی۔ ان کے لیے پلیٹ فارم تیار کیا تاکہ وہ واپس آکر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ