محمد عامر کو لارڈز سے اوول تک سات سال لگے

2010 میں لارڈز گراؤنڈ میں جس خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس داغ کو دھونے کے لیے عامر کو 2017 کا انتظار کرنا پڑا۔

محمد عامر کے مختصر کیرئیر میں بہت سی ایسی بولنگ پرفارمنس ہیں جب ان کی بازؤں کی تپش نے سامنے والے کو جلا ڈالا (اے ایف پی)

کرکٹ کی جنم بھومی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے سرے اوول کا فاصلہ چند میل ہے۔ گاڑی سے زیادہ سے زیادہ دس منٹ میں آپ اوول کے تاریخی میدان پہنچ جائیں گے اور اگر انڈر گراؤنڈ ٹرین سے جائیں تو سینٹ جیمس ووڈ کے سٹیشن سے دو ٹرینیں تبدیل کرکے شاید 30 منٹ میں پہنچ جائیں لیکن پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کو اس مختصر سے فاصلے کو طے کرنے میں سات سال لگے۔

2010 میں لارڈز گراؤنڈ میں جس خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا اس داغ کو دھونے کے لیے عامر کو 2017 کا انتظار کرنا پڑا۔

چیمپئینز ٹرافی 2017 کے فائنل میں جب پاکستان  بھارت کے سامنے آیا تو ہر ایک کی نظر میں بھارت کی فتح یقینی تھی۔ میچ سے ایک روز قبل معروف کمنٹریٹر رمیز راجہ سے بات ہوئی تو کہنے لگے پاکستان بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔

گذشتہ ریکارڈز کو دیکھتے ہوئے بات ان کی صحیح تھی کیونکہ پاکستان ہر عالمی مقابلے میں بھارت سے شکست خوردہ ہی رہا ہے۔

لیکن اس فائنل میں پاکستان نے تاریخ بدل دی۔

اگر فخر زمان نے بیٹنگ میں سنچری بنائی تو محمد عامر نے بولنگ میں تباہی مچا دی۔

عامر کی دو گیندیں جنہوں نے روہیت شرما اور ویرات کوہلی کا صفایا کیا شاید ان کی زندگی کی سب سے یادگار گیندیں تھیں۔ تیز اور بالکل صحیح لینتھ پر بولنگ جس میں کاٹ بھی تھی اور سوئنگ بھی۔۔ ان دو گیندوں نے عامر پر لگے ہوئے دھبے کو دھویا ہو یا نہیں۔۔۔ لیکن بھارت کی کمر ضرور توڑ دی تھی۔ 

محمد عامر کے مختصر کیرئیر میں بہت سی ایسی بولنگ پرفارمنس ہیں جب ان کی بازؤں کی تپش نے سامنے والے کو جلا ڈالا۔

پنجاب کے چھوٹے سے شہر گوجر خان میں پیدا ہونے والے محمد عامر کا ابتدائی دور پسماندہ علاقے میں گزرا، جہاں کرکٹ کی نہ سہولیات تھیں اور نہ مناسب میدان، لیکن ہاکی کے لیے مشہور اس شہر میں عامر نے دوسرے کئی پاکستانی بولرز کی طرح ٹیپ بال سے بولنگ شروع کی اور جلد ہی مشہور ہو گئے۔ ان کی خاص بات تیز اور نپی تلی بولنگ تھی۔

گلی محلوں سے ہوتی ہوئی شہرت راولپنڈی تک پہنچ گئی اور پھر جلد ہی کچھ قدر دانوں کی نظر پڑی تو وہ قومی ٹیم تک پہنچ گئے۔

2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ عامر کا پہلا کوئی بڑا ایونٹ تھا اور وہ 17 سال کی عمر میں اس ٹورنامنٹ کی دریافت بن گئے۔ ان کی تیز شارٹ پچ گیندیں پورے ٹورنامنٹ میں بلے بازوں کو تنگ کرتی رہیں۔ وہ ایک طرف سے بلے بازوں کو رنز  بنانے نہیں دیتے اور دوسری طرف سے عمر گل وکٹ لے لیتے۔

اس ورلڈ کپ کے فائنل میں ان کا پہلا اوور قابل دید تھا جب پورے ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ رنز کرنے والے تلکرتنا دلشان صفر پر ان کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔

وہ جس تیزی سے اوپر آرہے تھے ماہرین ان کو تاریخ کے عظیم بولر کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔

سب کو یقین تھا کہ وہ ایک اور وسیم اکرم بن جائیں گے۔

لیکن پھر کچھ ایسا ہوا جس نے صرف عامر کا کیرئیر نہیں تباہ کیا بلکہ کرکٹ سے ایک عظیم کھلاڑی چھین لیا۔

2010 کی سیریز میں لارڈز ٹیسٹ میں جب سیریز کی اختتامی تقریب ہوئی تو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ محمد عامر کو بند کمرے میں دیا گیا جہاں سوگ کا ماحول تھا اور سب خاموش تھے، کیونکہ ایک روز قبل سلمان بٹ اور محمد آصف کے ساتھ عامر بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے تھے اور پولیس ان سے پوچھ گچھ کر رہی تھی۔

کم عمری میں ہی ایک سنگین جرم کی پاداش میں پانچ سال کی پابندی نے ان کی وہ کرکٹ چھین لی جس کو تاریخ رقم کرنا تھی۔

اپنی سزا کاٹ کر جب عامر 2015 میں کرکٹ میں واپس آئے تو ان کا سایہ بھی ساتھ نہیں دے رہا تھا، حالانکہ فکسنگ کیس میں سچ بولنے اور اعتراف جرم نے ان کی سزا بہت کم کر دی تھی لیکن ساتھی کھلاڑیوں میں ان کے لیے کوئی اچھے جذبات نہیں تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ نے تو برملا کہہ دیا کہ اگر عامر کھیلے تو وہ نہیں کھیلیں گے۔

عامر نے 2016 کے پہلے پی ایس ایل ایڈیشن سے اپنی کرکٹ دوبارہ شروع کی اور کراچی کنگز کی طرف سے لاہور قلندرز کے خلاف ہیٹ ٹرک کرکے سب کو حیران کر دیا۔

دوبارہ کرکٹ میں آنے کے بعد بھی وہ اسی تیزی سے بولنگ کر رہے تھے لیکن پانچ سال دور رہنے کے باعث ان کا جسم اب ان کے ذہن کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ بولنگ تو اب بھی وہ بہت اچھی کر رہے تھے لیکن پہلے جیسی کاٹ نہیں تھی۔

چیمپئینز ٹرافی 2017 میں ان کی بولنگ کو ردھم ملا تو وہ پھر سے بلے بازوں کے لیے مشکل ترین بولر ثابت ہونے لگے۔  ابتدائی میچوں میں کوئی وکٹ تو نہیں مل سکی لیکن انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں وہ بولنگ کے ساتھ بیٹنگ بھی اچھی دکھا گئے اور پاکستان کو فائنل میں پہنچا دیا، جہاں بھارت کی پہلی تین وکٹیں معمولی سے سکور پر لے کر میچ کا پانسہ پاکستان کے حق میں پلٹ دیا۔

محمد عامر نے جب 2019 کے ورلڈ کپ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کیا تو سب کو بہت حیرت ہوئی کیونکہ عامر ابھی جوان بھی ہیں اور مکمل فٹ بھی اور مزید کھیل سکتے تھے۔

ان کے اس فیصلہ پر بہت تنقید ہوئی اور ’خود غرض‘ اور ’لالچی‘ کھلاڑی کے خطاب ملنے لگے کیونکہ اکثریت کا یہ خیال تھا کہ وہ صرف لیگز کھیلنا چاہتے ہیں جس میں پیسہ زیادہ ہے اور کم جان مارنی پڑتی ہے۔

عامر نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ان کا جسم  طویل دورانیے کی کرکٹ کا متحمل نہیں ہوسکتا اور وہ صرف مختصر دورانیے کی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ مینیجمنٹ کو ان کا یہ اعلان پسند نہیں آیا اور اس ہی دن سے ان کے اور مینیجمنٹ کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی۔

’سزا‘ کے طور پر انہیں آسٹریلیا کے دورے سے ڈراپ کر دیا گیا۔

ٹیم کے بولنگ کوچ وقار یونس تو برملا کہہ چکے ہیں کہ عامر نے ورک لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ نہیں چھوڑی بلکہ وہ اب صرف لیگز کھیلنا چاہتے ہیں۔

شاید وقار یونس اور مصباح الحق کے مشورے سے بورڈ نے عامر کو نیوزی لینڈ کے دستے سے بھی ’باہر‘ کر دیا جس کا عامر کو بہت قلق تھا۔

گذشتہ روز ایک انٹرویو میں عامر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے علیحدگی کا یہ کہہ کر اعلان کر دیا کہ اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ وہ بہت ذہنی اذیت برداشت کرچکے ہیں اور اب اس مینیجمنٹ کے ساتھ کوئی مستقبل نہیں دیکھ رہے۔

عامر کی اس ریٹائرمنٹ پر سب حیران ہوئے اور بڑا نقصان قرار دیا لیکن اگر حقائق کو سامنے رکھا جائے تو محمد عامر کی کارکردگی دن بدن تنزل پذیر تھی وہ پابندی ختم ہونے کے بعد  سو انٹرنیشنل میچز میں 160 وکٹیں لے سکے ہیں جسے کسی طرح بھی غیر معمولی نہیں کہہ سکتے۔ وہ پچھلے 30 ایک روزہ میچوں میں اپنے کوٹہ کے دس اوورز بھی پورے نہ کر سکے۔

پی سی بی ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ تھا اور دوسرے نوجوان بولرز کی موجودگی میں ان کے لیے جگہ نہیں دیکھ رہگ تھا، اب شاید اس کے لیے آسان ہوگا کہ وہ عامر کو الوداع کہہ دے۔

ویرات کوہلی کے پسندیدہ بولر محمد عامر کے لیے اب پاکستان کرکٹ کے دروازے ممکنہ طور پر بند ہوگئے ہیں۔ بورڈ کے وسیم خان نے ان سے بات تو کی ہے لیکن کوئی مثبت رد عمل نہیں دیا۔

پاکستان کے لیے 139 انٹرنیشنل میچوں میں ان کی 255 وکٹوں کی تعداد کسی  طرح ان کی صلاحیتوں کی آئینہ دار نہیں ہے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ وکٹیں لے سکتے تھے لیکن اپنے کیرئیر کے نشیب وفراز میں وہ اپنی بولنگ کے عروج پر نہ آسکے جب ان کا سورج طلوع ہو رہا تھا تو سپاٹ فکسنگ کے سکینڈل نے جکڑ لیا اور دوبارہ واپس آنے کے بعد ان کے بازوؤں میں پہلے جیسا دم خم نہ رہا۔

کرکٹ کے شائقین شاید اب محمد عامر  کو سبز ستارہ  کیپ میں نہ دیکھ سکیں لیکن وہ رنگ برنگی کٹ کے ساتھ لیگز میں ضرور نظر آئیں گے۔

عامر کو کیرئیر کے اس موڑ پر اپنا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ کیا ان کی کارکردگی میں تنزلی کا سبب مصباح الحق اور وقار یونس ہیں یا پھر ان کا لاابالی پن۔۔ جس نے پہلے ہی ان کی زندگی کے پانچ سال تاریک کردیے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ