قطر ایئرویز کا ایئربس سے کیا ’خفیہ تنازع‘ چل رہا ہے؟

ایئرلائن کے سی ای او اکبر البکر نے ایک انٹرویو کے دوران کہا: ’بدقسمتی سے میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ یہ مسئلہ ہے کیا۔‘

قطر ایئرویز کے چیف نے ایئربس کے بڑے A380 جیٹ طیاروں کو ان کی نا اہلی اور آپریشنل  لاگت کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا تھا(فائل تصویر: اے ایف پی)

قطر ایئرویز کے سی ای او اکبر البکر نے رواں ماہ دوسری بار ایئربس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متنبہ کیا کہ ان کی ایئر لائن ایک غیر طے شدہ ’سنگین‘ مسئلے پر رواں سال فرانسیسی طیارہ ساز کپمنی سے ڈیلیوری کو روک سکتی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق انہوں نے بلومبرگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ’ہمارا ایئربس کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے جس کو طے کرنے کی ضرورت ہے اور اگر ہم ان کے ساتھ موجود اس سنگین مسئلے کو حل نہیں کرسکے تو ہم ان سے کوئی بھی طیارہ نہیں لیں گے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’قطر ایئرویز کے ساتھ مسائل ایئربس کے لیے آئی اے جی، لاتام اور دیگر ایئر لائنز کے ساتھ تعلقات میں تناؤ کا سبب بنیں گے ، جن میں ہماری حصہ داری ہے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا: ’بدقسمتی سے میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ یہ مسئلہ ہے کیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب ایئربس کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ فرانس میں واقع کمپنی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ صارفین سے ان کی ضروریات کے بارے میں مستقل بحث و مباحثے میں مصروف ہیں اور اس بات چیت سے متعلق تفصیلات ’خفیہ رہیں گی۔‘

واضح رہے کہ حال ہی میں قطر ایئرویز کے چیف نے ایئربس کے بڑے A380 جیٹ طیاروں کی نا اہلی اور آپریشنل لاگت کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ ان طیاروں کے حوالے سے ان کا عدم اطمینان حالیہ تنازع کے باعث نہیں ہے۔

قطر ایئرویز کے سی ای او نے انکشاف کیا کہ ایئرلائن نے کرونا وائرس کی وبا کے آغاز کے بعد قطری حکومت کی طرف سے تین ارب ڈالر کی امداد قبول کی ہے۔ بلومبرگ نے رپوٹ کیا کہ گذشتہ سال ایئرلائن کے نصف حصص میں نقصان کے بعد سرکاری سطح پر چلنے والی فضائی کمپنی کو پہلی امداد دی گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا