سات سالہ بچہ والد اور بہن کو بچانے کے لیے ایک گھنٹہ تیرتا رہا

امریکی ریاست فلوریڈا میں جب والد اور ایک بہن دریائے سینٹ جونز میں پھنس گئے تو سات سالہ چیز پاؤسٹ تیر کر ساحل پر آئے اور مدد حاصل کی۔

چیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پشت کے بل  تیراکی کی تاکہ وہ زیادہ دیر تک اپنی توانائی برقرار رکھ سکیں(سکرین گریب: WJXT4) 

امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والا ایک سات سالہ بچہ اپنے والد اور بہن کو دریائے سینٹ جونز میں ڈوبنے سے بچانے کے لیے ایک گھنٹہ تک تیرتا رہا۔

مقامی ٹی وی سٹیشن جیکس فور کے مطابق جیکسن ول کے ایک خاندان نے میموریل ڈے اور اختتام ہفتہ کے موقع پر بوٹنگ ٹرپ کا ارادہ کیا۔

اس ٹرپ میں اچانک ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب والد سٹیون پاؤسٹ نے اپنے سات سالہ بیٹے سے مدد حاصل کرنے کے لیے تیر کر جانے کو کہا۔

والد نے بتایا کہ انہوں نے کشتی کو دریا میں لنگر انداز کیا اور وہ مچھلیاں پکڑنے لگے جبکہ ان کے بچے سات سالہ چیز اور چار سالہ ابیگیل نے کشتی پر کھیلنا شروع کر دیا۔

ابیگیل پانی میں تھی مگر اس نے کشتی کو پکڑ رکھا تھا لیکن لہروں کی شدت کے باعث وہ اسے زیادہ دیر تک پکڑ نہ سکی۔

چیز پہلے تو اپنی بہن کے ساتھ ہی پانی میں رہا مگر جیسے ہی وہ دور ہونے لگے تو ان کے والد سٹیون نے کشتی کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

چیز نے ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہم تینوں ہی کشتی سے دور ہوتے چلے گئے۔ مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹیون کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دونوں بچوں کے ساتھ رہنے کی کوشش کی۔ ان میں سے صرف ابیگیل نے ہی جان بچانے والی جیکٹ پہن رکھی تھی۔

’میں نے ان سے کہا کہ میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ‘

یہ وہ وقت تھا جب انہوں نے چیز سے کہا کہ وہ تیر کر کنارے تک جائے اور مدد حاصل کرنے کی کوشش کرے اور وہ خود ابیگیل کے ساتھ ہی رہے۔

چیز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پشت کے بل ڈاگی پیڈل کرتے ہوئے تیراکی کی تاکہ وہ زیادہ دیر تک اپنی توانائی برقرار رکھ سکیں۔

’پانی کا بہاؤ مخالف سمت تھا اور پانی کنارے کے بجائے کشتی کی جانب بہہ رہا تھا اس لیے اس طرف تیر کر جانا بہت مشکل تھا۔ ‘

کنارے پر پہنچتے ہی انہوں نے مدد کے لیے قریبی گھر کی جانب دوڑ لگا دی۔ اس کے بعد جیکسن ول فائر اینڈ ریسکیو ڈپارٹمنٹ کی ٹیم تیزی سے اس مقام کی جانب روانہ ہو گئی اور والد اور بیٹی کو تلاش کر لیا جو اپنی کشتی سے ایک میل دور موجود تھے۔

سٹیون بتاتے ہیں کہ ’میں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی ہماری آواز سن لے گا۔ میں مدد کے لیے زور سے چلانا شروع کر دیا اور ہاتھ ہلائے۔‘

’لٹل مین (چیز) بھی کنارے تک پہنچ گیا تھا اور مدد کا بندوبست کر لیا اور اس طرح ہماری جان بچی۔ ‘

ترجمان ایرک پروس سوئمر نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ جے ایف آر ڈی نے کشتی تک پہنچنے کے لیے دوسرے اداروں سے بھی مدد طلب کی۔

’ہمارے پاس تمام ضروری وسائل موجود تھے اور ہمیں یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ تینوں کو بچا لیا گیا ہے اور تینوں ٹھیک ہیں۔ ‘

’ہم اس سے بہتر کی توقع نہیں کر سکتے۔ ‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا