لاہور قلندرز اب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رحم وکرم پر

ملتان سلطانز کے خلاف میچ میں بلے بازوں کی ایک اور مایوس کارکردگی نے لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کے پلے آف سے باہر ہونے کے قریب کر دیا۔

لاہور قلندرز کا پلے آف میں جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سنیچر کی شام کو کراچی کنگز کو ہرا دے (پی سی بی)

بلے بازوں کی مایوس کارکردگی نے لاہور قلندرز کے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کے پروقار آغاز کو مغموم انجام میں بدل دیا۔

لاہور  نے  جس طرح کراچی کے نیشنل سٹیڈیم سے موجودہ سیزن کا شاندار آغاز کیا تھا، ابوظہبی پہنچ کر اس کی کارکردگی میں گراوٹ آگئی۔

یہاں  ابتدائی میچ میں فتح حاصل کرنے کے بعد  جب مقابلےاپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں تو اگلےمحاذ پر لڑنے والے اس کے بلے باز ہمت ہار گئے۔

دو روز میں دو شکستیں تو کھیل کا حصہ ہیں لیکن ان شکستوں کا سکرپٹ اس طرح تحریر ہوگا یہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا ۔

ٹیم کی طاقت بیٹنگ تھی لیکن اسے دفاعی شکل ایسی دی  گئی کہ تجربے کار اور جارحانہ بلے باز رنز بنانا بھول گئے۔

ملتان سلطانز جس کے لیے جمعے کا میچ اتنا ہی اہم تھا جتنا لاہور قلندرز کے لیے ، دونوں کی جیت اگلے مرحلے کی ضامن تھی لیکن ساحل تک کامیاب  سفر سلطانز کا ہی ہوسکا اور قلندرز کی کشتی وقت سے پہلے ڈوب گئی۔

ٹاس جیت کر ایک اچھی بیٹنگ وکٹ پر بولنگ کرنا روایت کی پاسداری تو ہوسکتی ہے لیکن فتح کی بنیاد نہیں کیونکہ ابوظہبی کی پچ پرجو غلطی دو دن قبل کوئٹہ نے کی تھی وہی لاہور نے کل کی۔

ملتان  نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور لاہور قلندرز کی اچھی بولنگ کے باوجود 169 رنز بنا لیے۔

صہیب مقصود نے تواتر کے ساتھ اس لیگ میں رنز کیے ہیں اور اس میچ میں بھی مرد میدان ثابت ہوئے۔ ان کی  60 رنز کی اننگز نے ٹیم کے پیر جمادیےلیکن قلندرز کی صفوں پر کاری ضرب آخری اوور میں سہیل تنویر نے لگائی۔

انہوں نے  حارث رؤف کے آخری اوور میں 24 رنز بناکر سلطانز کی پوزیشن مستحکم کردی۔

لاہور قلندرز کی مضبوط بیٹنگ لائن کے لیے 170 رنز کا ہدف مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اوپنر فخر زمان کے پہلی گیند کھیلنے سے اندازہ ہوگیاکہ آج چاند کو گرہن لگنے والا ہے۔

  بین ڈنک دوسرے اوپنر تھے جو کچھ کیے بغیر لوٹ گئے۔ تجربہ کار محمد حفیظ کی بیٹنگ بھی گھبراہٹ کا نمونہ تھی۔  فخر زمان سے رنز نہیں بن رہے تھے  تو وہ بھی نروس ہوکر آؤٹ ہو گئے۔

لاہور کے بلے باز اتنی تیزی سے آؤٹ ہورہے تھے کہ ملتان کے بولرز بھی حیران تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیمس فالکنر نے کچھ ہمت دکھائی اور 22رنز بنائے ورنہ باقی تمام کھلاڑیوں نے تو بس آنے جانے کی پریکٹس کی ۔ پوری ٹیم 15.1 اوور میں 89 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

ملتان سلطانز نے 80 رنز سے میچ جیت کر آگے کا سفر شروع کردیا۔

ملتان کی طرف سے شاہنواز دہانی نے ایک دفعہ پھر عمدہ بولنگ کی اور صرف پانچ رنز دے کر چار وکٹیں حاصل کیں ۔ان کی میچ وننگ کارکردگی انھیں ایک اور مین آف دی میچ دلا گئی۔

لاہور قلندرز کا اب پلے آف میں جانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سنیچر کی شام کو کراچی کنگز کو ہرا دے ورنہ کراچی  میچ جیت کر اگلے مرحلے میں پہنچ جائے گی۔

کوئٹہ پہلے ہی لیگ سے باہر ہوچکی ہے لیکن وہ اپنے الوداعی میچ کو شاندار بنانے کاعزم لےکر میدان میں اترے گی اور شاید اس کی محنت کسی اور کے کام آ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ