’کبھی شدید خوشی کبھی شدید غم، بائی پولر ڈس آرڈرمیری جوانی کھاگیا‘

بائی پولر ڈس آرڈر میں عام طور پر مزاج میں اتنی شدید تبدیلیاں ہوتی ہیں کہ انسان کے معیار زندگی میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ برطانوی مصنفہ کا اس بیماری سے نمٹنے کا تجربہ

اپنی عمر کی تیسری دہائی کا زیادہ تر حصہ، جو مجھے یاد پڑتا ہے، میں نے زندگی شروع ہونے کا انتظار کرتے گزار دیا (فوٹو: پکسابے)

جب مجھ میں بائی پولر ڈس آرڈر ٹو کی نفسیاتی بیماری کی تشخیص ہوئی تو اس وقت میری عمر 32 سال ہو چکی تھی۔

یہ ایک ایسا مرض ہے جس میں عام طور پر مزاج میں اتنی شدید تبدیلیاں ہوتی ہیں کہ انسان کے معیار زندگی میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔

جب میرے والد کی وفات ہوئی تب میری عمر 17 سال تھی۔ 20 سال کی عمر میں میں نے پہلی بار اس بیماری کا تجربہ کیا جسے میں اب ’ہائپو مینیا‘ کے نام سے جانتی ہوں اور 29 سال کی عمر میں مجھے اینگزائٹی کے لیے استعمال ہونے والی پروپرانولول نامی دوا زیادہ مقدار میں لینے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔

میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ یہ میری تکلیف کی ڈائری کی طرح دکھائی دے بلکہ میں محض ان کیفیات کو نمایاں کرنا چاہتی ہوں جو اس بیماری سے جڑی ہوئی ہیں۔ محققین نے بتایا ہے کہ ابتدائی علامات ظاہر ہونے کے بعد مرض کی درست تشخیص میں تقریباً نو سال لگ سکتے ہیں اور اوسطاً ساڑھے تین گنا زیادہ غلط تشخیص ہو سکتی ہے۔ یہ بیماری خواتین میں اور بھی عام ہے اور اس کی جڑیں بچپن میں پہنچنے والے کسی جذباتی صدمے میں ہو سکتی ہیں، جیسے کہ والدین میں سے کسی کا فوت ہو جانا۔

مجھے یہ اعدادوشمار درست معلوم ہوتے ہیں۔ والد کی وفات کے تھوڑے عرصے بعد ہی میں خاندانی گھر چھوڑ کر قریبی کاؤنٹی میں واقع یونیورسٹی کی رہائش گاہ میں منتقل ہوگئی۔ میں جلد ہی ہر وقت خود سے بیزار رہنے لگی۔ میں خود کو بے وقوف اور ایسا فرد سمجھنی لگی جس کے سامنے کوئی مقصد نہیں تھا۔ میں زیادہ تر شام کے وقت خود کو چھوٹے سے کمرے میں بند کر لیتی اور سسکیاں بھرتی رہتی۔ میں دروازے کی دوسری جانب اسی منزل میں مقیم اور زندگی کی سرگرمیوں میں مگن افراد کی آوازیں سنتی رہتی۔

لیکچرز میں بیٹھنے اور سماجی زندگی میں حصہ لینے، جس کی مجھے شدید خواہش ہوا کرتی تھی، کی بجائے میں آئیکیا کمپنی کی ایک میلی چادر کے نیچے سمٹ جاتی اور کھانے کے وقفے بغیر کئی گھنٹے تک امریکی ڈراما سیریز ’گلمور گرلز‘ دیکھتی رہتی۔ میری واحد خوشی تعلیم کے لیے ملنے والے قرضے کا بڑا حصہ ایک ہی بار خرچ کرنا تھا۔ میں نے ڈھیروں سی ڈیز، ڈیزائنر میک اپ، غیر ملکی فیشن میگزین اور ملبوسات کے برطانوی برانڈ ٹاپ شاپ کی ہر چیز خریدی، لیکن بالآخر اس خوشی کے موڈ کی جگہ مالی حالات کی وجہ سے پیدا ہونے والی گہری پریشانی نے لے لی۔ ایسی صورت حال نہیں پیدا ہونی چاہیے تھی۔

آخر میں کیمپس کے ڈاکٹر کے پاس گئی اور انہیں کم عمر لڑکی والی معصومیت کے ساتھ بتایا کہ گذشتہ نو ماہ سے میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر نے فوری طور پر جواب دیا کہ مجھے ’ہلکا ڈپریشن‘ ہے اور پروزیک نامی دوا کا ایک نسخہ میری نم آلود ہتھیلی پر رکھ دیا۔ یہ یونہی سی ایک بات تھی جیسے کہ ڈینٹسٹ کے پاس کسی کو دلیری کے مظاہرے کے لیے لالی پوپ دے دیا جائے۔

میں جلد ہی ہر وقت خود سے بیزار رہنے لگی۔ میں خود کو بے وقوف اور ایسا فرد سمجھنی لگی جس کے سامنے کوئی مقصد نہیں تھا۔ میں زیادہ تر شام کے وقت خود کو چھوٹے سے کمرے میں بند کر لیتی اور سسکیاں بھرتی رہتی۔

 

مزاج بہتر کرنے والی مخصوص ادویات، مبینہ طور پر ڈیپریشن کم کرنے والی مانع حمل کی گولیوں اور نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے پاگل کر دینے والے قواعد اور ضوابط سے میرا دس سال تک واستہ شروع ہوا۔ میں نے یونیورسٹی (اور مبینہ طور پر اپنا غم) پیچھے چھوڑ دیا اور نوجوان اور ماڈرن لڑکی کی شہری زندگی جینے لندن منتقل ہو گئی۔ میرا خیال تھا کہ یہ سال ڈالسٹن کے سپر کلبز، دوستوں کے ساتھ تفریح کرتے اور سوہو میں صرف ممبرز کے لیے مخصوص کلبوں میں میڈیا سے وابستہ لوگوں کی قربت میں گزریں گے۔ لیکن ان تمام باتوں کی بجائے میرے ساتھ صرف فاسٹ فوڈ، منسوخ شدہ پارٹیاں، عارضی ملازمتیں اور سال میں دو مرتبہ ڈاکٹروں کی آمد تھی کیونکہ میں اکثر خود کو نقصان پہنچا لیتی تھی۔

مایوسی کی یہ کفییت مجھ پر غلبہ پا لیتی تھی جبکہ خوشی کے مختصر لمحات کی بھی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آ رہی تھی۔ میں نہیں جانتی تھی کہ اس کا کیا مطلب ہے جبکہ طبی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو بھی اس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حالات خراب ہونے کے بعد میں نے جس ڈاکٹر سے بھی معائنہ کرایا وہ اس کو کوئی نام دینے کی بجائے نیا طریقہ علاج آزماتا رہا کہ شاید کچھ کام کر جائے، لیکن کسی کا طریقہ کام نہ کر سکا اور طویل عرصے تک تو کچھ بھی نہ چل پایا۔ مجھے اپنا آپ تجربے کے لیے استعمال کی جانے والی چیز کے طور پر محسوس ہو رہا تھا، جس کے لیے میری رضامندی نہیں لی گئی تھی۔

اپنی عمر کی تیسری دہائی کا زیادہ تر حصہ، جو مجھے یاد پڑتا ہے، میں نے زندگی شروع ہونے کا انتظار کرتے گزار دیا۔ میں اس سیاہ بادل کے چھٹنے کا انتظار کرتی، جو بن بلائے اکثر مجھ پر چھا جاتا اور مجھے ایسے انسان میں تبدیل کر دیتا جسے میں خود نہیں پہچانتی تھی۔ میں انتظار کرتی رہتی کہ کوئی اس بات کی نشاندہی کر سکے کہ میں خوشی کیوں نہیں محسوس کرتی یا روز مرہ کی زندگی میں خود کو جذباتی طور پر ٹوٹا ہوا محسوس کیے بغیر دن نہیں گزار سکتی۔ میں انتظار کرتی رہی کہ مجھے کوئی ایسی وضاحت ملے جو میں اپنے چند پیاروں پر مشتمل احباب کو دے سکوں۔

دوا کے اوور ڈوز اور این ایچ ایس کی کم فنڈڈ اور کم عملے سے نمٹتی ذہنی صحت کی سروسز کے ساتھ کئی مایوس کن لمحات کے بعد میں خود کو بہت مراعات یافتہ خیال کرتی ہوں کہ میرے اہل خانہ میرے لیے ایک نجی ماہر نفسیات کا بندوبست کر سکے۔ یہ کہنا کچھ زیادہ نہیں ہوگا کہ ان کی تشخیص جو دو روزہ جانچ کے بعد سامنے آئی زندگی تبدیل کرنے والی اور معجزاتی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یقینی طور پر بائی پولر ڈس آرڈر ایک ناپسندیدہ حریف ہے۔ وہ میرے مصنف کے کیریئر سے زیادہ متاثر نہیں۔ اسے ہرٹ فورڈ شائر کی دیہی خوبصورتی سے کوئی سروکار نہیں، جہاں میں اب رہتی ہوں۔ اسے سماجی رکھ رکھاؤ کا بھی خیال نہیں اور عین اس وقت حاضر ہوسکتا ہے جب میں پیرس کے سیاحتی بار میں اپنے دیرینہ دوستوں کے ساتھ کاک ٹیل کے گلاس ٹکرا رہی ہوں یا ایک خاموش اتوار کی صبح اپنی نانی کے گھر ناشتہ کر رہی ہوں۔

بائی پولر پوری کوشش کرتا ہے کہ میں اس بات کو تسلیم کرلوں کہ شدید جذبات اور غیر یقینی رویہ ہی وہ دوہری حالت ہے جس میں مجھے ہمیشہ رہنا ہوگا، لیکن ساتھ ہی ساتھ میں خود کو یہ یاد دلانے سے پیچھے نہیں ہٹتی کہ ایک متبادل اور مستقل راستہ بھی موجود ہے۔

لیکن اب میں اسے سمجھ چکی ہوں اور دانشورانہ انداز میں اسے دیکھ سکتی ہوں۔ اب میں اس کے دورے سے قبل اس کی علامتوں کو بھی سمجھ سکتی ہوں۔ میں جس سب سے گزر چکی ہوں، اب میں اس کی وجہ کو سمجھتی ہوں کیونکہ میں اس کا درست نام جانتی ہوں اور اب میرے اندر اس کو قابو کرنے کی ایک نئی طاقت موجود ہے۔

وہ لمحات جب میں زیادہ خرچ کرتی ہوں یا  1940 کی دہائی کی فلموں کی طرح زیادہ بولتی ہوں، اب میں ان پر قابو پا سکتی ہوں۔ درست ادویات میری پست ہوتی ہمت کو بلند کر کے میرے کام کو ختم کرنے، بہتر انداز میں رابطہ کرنے اور اپنا خیال رکھنے کی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہیں۔

میں اپنی ذہنی بیماری کے نام کو استعمال کرنے سے نہیں گھبراتی اور اس کی حدود میں محفوظ محسوس کرتی ہوں۔ بائی پولر ڈس آرڈر وہ واحد چیز نہیں ہے جو مجھے بیان کر سکے، لیکن یہ جاننا کہ یہ میرا حصہ ہے میری عمر کی چوتھی دہائی کو اس سے بہتر بنا رہا ہے جو اس سے پہلے گزر چکا ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل