بھارت کو شکست، نیوزی لینڈ پہلا ٹیسٹ چیمپیئن

بھارتی ٹیم دوسری اننگز میں کیویز کے فاسٹ بولرز کا مقابلہ نہ کرسکی اور 170 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن فاتح ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کی ٹرافی اٹھائے ہوئے ہیں  (اے ایف پی)

عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل موسم کی بھرپور مداخلت کے باوجود نیوزی لینڈ کے نام رہا اور بڑے ناموں سے سجی بھارتی ٹیم لڑے بغیر پسپا ہوگئی۔

دو سال تک ٹیسٹ کرکٹ چیمپیئن شپ جاری رہنے کے بعد ساؤتھ ہیمپٹن میں بدھ کے دن بھارتی ٹیم کی شکست پر ختم ہوگئی۔

نیوزی لینڈ کی ٹیم نے مشکل وکٹ پر 139 رنز کا ہدف آسانی سے حاصل کرلیا جس کا کریڈٹ عالمی نمبر ایک بلے باز کین ولیمسن کے سر رہا جنھوں نے راس ٹیلر کے ساتھ 96 رنز کی پارٹنر شپ کر کے ایک مشکل جیت کو آسان بنادیا۔

موسم کی مداخلت اور بارشوں کے باعث ٹیسٹ میں چھٹا دن بھی رکھا گیا تھا تاکہ فیصلہ ہوسکے چھٹے دن کا آخری گھنٹہ فیصلہ کن ثابت ہوا۔

فائنل ٹیسٹ میں پہلا پورا دن بارش کی نذر ہوگیا تھا تاہم دوسرے دن نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا جودرست ثابت ہوا اور بھارتی ٹیم پہلی اننگز میں 217 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

جوابی اننگز میں نیوزی لینڈ نے محتاط اندازمیں بیٹنگ کی اور 249 رنز بناکر 32 رنز کی سبقت حاصل کرلی جس نے جیت میں اہم کردار ادا کیا۔ بھارتی ٹیم دوسری اننگز میں کیویز کے فاسٹ بولرز کا مقابلہ نہ کرسکی اور 170 رنز بناکر آؤٹ ہوگئی۔

ٹم ساؤتھی بولٹ اور جیمیسن نے خطرناک بولنگ کرتے ہوئے بھارتی بلے بازوں کو دن میں تارے دکھا دیے۔ نیوزی لینڈ نے 139 کا  مطلوبہ ہدف آسانی سے حاصل کرکے پہلی ٹیسٹ چیمپیئن شپ جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی ٹیم کی شکست میں سب سے اہم کردار صف اول کے بلے بازوں ویرات کوہلی روہت شرما اور رہانے کی غیر ذمہ دارانہ بیٹنگ نے ادا کیا۔ بھارتی بلے باز کیویز بولرزکے لیے تر نوالہ ثابت ہوئے۔

نیوزی لینڈ کے کائل جیمیسن نے میچ میں 7 وکٹس لے کر جیت میں اہم کردار ادا کیا اور مین آف دی میچ ایوارڈ حاصل کیا۔ عالمی ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا فائنل بلے بازوں کے لیے سخت امتحان ثابت ہوا چار اننگز میں صرف دو نصف سنچریز بن سکیں۔

جبکہ کوئی بلے باز سنچری نہیں بناسکا جس سے وکٹ پر باؤنس اور پیس کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تاہم بھارتی بلے بازوں کی سراسرناکامی نے بھارتی شائقین کو حیران کردیا ہے۔

ایک ایسا ٹیسٹ میچ جس کے لیے دو سال تک میچز کھیلے جاتے رہے ہوں، اس کا فائنل کسی بھی طرح شایان شان نہیں تھا۔

پہلے تو بارشستم ڈھاتی رہی اور پھر بلے بازوں کی بے بسی نے میچ کو مزید ناخوشگوار بنا دیا۔ کین ولیمسن نے ایک بار پھر اپنی صلاحیتوں کا شاندار نمونہ پیش کیا اور ایک مشکل وکٹ پر تیزی سے 54 رنز بناکر جیت کا تاج پہن لیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ