سندھ: نو جیلوں میں 151 ایچ آئی وی مثبت قیدیوں کا انکشاف

محکمہ جیل خانہ جات کی رپورٹ کے مطابق 24 جیلوں میں موجود قیدیوں کی سکریننگ کے دوران سینٹرل جیل کراچی میں 59 اور ملیر جیل میں 80 ایچ آئی وی پازیٹو کیس سامنے آئے۔

سندھ میں کل 27 جیلیں ہیں، جن میں سے تین بند ہیں جبکہ بقیہ 24 میں موجود قیدیوں کی سکریننگ کی گئی ہے (فوٹو: امر گرڑو)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کی ایک حالیہ رپورٹ میں صوبے کی کُل 22 جیلوں میں سے نو میں ایچ آئی وی سے متاثرہ 151 قیدیوں کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے، جن میں سے صرف دو جیلوں میں ایچ آئی وی پازیٹو قیدیوں کی تعداد 139 ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو کو پیر کی شام سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات سے ملنے والی تفصیلی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کل 27 جیلیں ہیں، جن میں سے تین بند ہیں۔ بقیہ 24 جیلوں میں موجود قیدیوں کی ہونے والی سکریننگ کے دوران سینٹرل جیل کراچی میں 59 اور ملیر جیل میں 80 ایچ آئی وی پازیٹو کیس سامنے آئے۔

اس کے علاوہ رپورٹ کے مطابق چار کیس حیدرآباد سینٹرل جیل جبکہ نارا جیل حیدرآباد، سکھر اور لاڑکانہ جیل میں دو، دو کیس سامنے آئے۔ خیرپور، میرپور خاص اور بچہ جیل حیدرآباد میں بھی ایک، ایک کیس سامنے آیا۔

اس طرح سندھ کی نو جیلوں میں ایچ آئی وی کے مثبت کیسوں کی تعداد 151 ہوگئی ہے۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان عاطف وگھیو نے بتایا: ’صوبے میں 21 جون کو ہونے والی سکریننگ میں 149 کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ 28 جون کو یہ تعداد 151 ہوگئی، مگر یہ تین نئے کیس جیلوں کے اندر رپورٹ نہیں ہوئے ہیں، بلکہ 21 جون سے 28 جون کے درمیان سندھ کی جیلوں میں 50 سے زائد نئے قیدی آئے ہیں اور سکریننگ کے دوران تین مزید کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔‘

 

عاطف وگھیو کے مطابق 2019 میں سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے شہر رتودیرو میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد ایڈز (یو این ایڈز) نے خدشہ ظاہر کیا کہ سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی ہونے کے باعث ایچ آئی وی کا پھیلاؤ ہوسکتا ہے، جس کے بعد صوبے کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی سکریننگ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

یو این ایڈز اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) اور سندھ ایڈز کنٹرول نے جیلوں میں موجود قیدیوں کی سکریننگ کی۔ 

عاطف وگھیو کے مطابق: ’اب تو سندھ کی جیلوں میں ہر مہینے کئی بار سکریننگ کی جاتی ہے اور ہر نئے آنے والے قیدی کی بھی سکریننگ کی جاتی ہے اور جب تک تمام رپورٹس نہ آجائیں، انہیں قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے بعد ہی انہیں وارڈز میں چھوڑا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیل میں ایچ آئی وی پازیٹو قیدیوں سے دیگر قیدیوں کو مرض لگنے سے بچانے کے انتظامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں عاطف وگھیو نے بتایا: ’سندھ کی جیلوں میں موجود ایچ آئی وی پازیٹو قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے علیحدہ رکھا جاتا۔ جیل کے اندر ان سے کوئی کام بھی نہیں لیا جاتا اور ان کی خوراک بھی دیگر قیدیوں سے الگ ہے جبکہ ڈاکٹر کی تجویز پر انہیں دودھ اور دیگر غذائیں بھی دی جاتی ہیں۔‘

سندھ میں ایچ آئی وی پر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرنے والی ’نئی زندگی ٹرسٹ‘ کے آپریشن مینیجر ڈاکٹر غوث بخش ملک نے انڈپینڈنٹ اردو کو اس حوالے سے بتایا: ’ہم نے جیل انتظامیہ کو ایچ آئی وی کی تشخیص کے لیے میڈیکل کٹس مہیا کی ہیں اور جیل انتظامیہ قیدیوں کی مسلسل سکریننگ کرکے مثبت کیسز کے بارے میں ہمیں بتاتی ہے اور ہم جاکر ان قیدیوں کو ایچ آئی وی کی ادویات مہیا کرتے ہیں۔‘

نشے کے عادی اور ٹی بی کے مریض 

محکمہ جیل خانہ جات کی رپورٹ کے مطابق 28 جون تک سندھ کی جیلوں میں نشے کے عادی مریضوں کی تعداد 280 ہے، جن میں سے کراچی کی ملیر جیل میں 110 اور کراچی سینٹرل جیل میں 61 قیدی ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کی جیلوں میں 61 مریض ٹی بی کے بھی ہیں۔

عاطف وگھیو کے مطابق نشے کے عادی مریضوں کو نشے سے نجات دلانے کے لیے جیلوں میں ری ہیبلیٹیشن مراکز بھی قائم ہیں، تاکہ نشے کے عادی قیدیوں کا علاج کرکے اس لت کو ختم کیا جاسکے اور اس کے علاوہ ٹی بی کے مریضوں کو بھی ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت سندھ کی 24 جیلوں میں 18 ہزار 440 قیدی ہیں جبکہ سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین منگن کے مطابق سندھ کی جیلوں میں 13 ہزار قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس وقت صوبے کی جیلوں میں گنجائش سے ساڑھے پانچ ہزار زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت