قومی سلامتی اجلاس سے غائب رہنے کا فیصلہ

انتہائی مستند اور معتبر ذرائع سے علم ہوا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے پارلیمانی اجلاس سے تین روز قبل ہی وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی کو پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

عسکری قیادت سمیت کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ وزیراعظم  اس اہم ترین اجلاس سے غیرحاضری اختیار کریں گے (فائل فوٹو: اے ایف پی)

چار مرتبہ برطانیہ کے وزیراعظم رہنے والے ولیم گلیڈ سٹون سے کسی نے ایک بار پوچھا کہ خارجہ پالیسی کے لیے سب سے اہم چیز کیا ہے؟ ولیم گلیڈ سٹون نے جواب دیا: ’ملک کے اندر اتحاد۔‘

افسوس کی بات ہے کہ جمعرات کے روز جبکہ ملک کی تمام تر اعلیٰ سول اور عسکری قیادت خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کو درپیش اہم ترین اور سنگین مسائل کے حل کے لیے مل کر بیٹھی تو جو شخصیت اس موقع پر غیرحاضر تھی وہ ملک کے اعلیٰ ترین اور اہم ترین منصب کے حامل جناب وزیراعظم عمران خان صاحب تھے۔

عسکری قیادت سمیت کسی کو بھی توقع نہیں تھی کہ وزیراعظم صاحب اس اہم ترین اجلاس سے غیرحاضری اختیار کریں گے۔ انتہائی مستند اور معتبر ذرائع سے علم ہوا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے پارلیمانی اجلاس سے تین روز قبل ہی وزیراعظم نے سپیکر قومی اسمبلی کو پیغام بھجوا دیا تھا کہ وہ اس اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

باوجود اس کے کہ دو اہم وفاقی وزرا نے  عدم شرکت کو غیرصائب قرار دیتے ہوئے کمیٹی اجلاس میں ضرور شرکت کا مشورہ بھی دیا مگر وزیراعظم اپنے ذاتی فیصلے پر قائم رہے۔ اس حیران کن اور غیرمناسب فیصلے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے یہ تو وزیراعظم صاحب خود ہی بتا سکتے ہیں مگر منصب سنبھالنے کے بعد سے خان صاحب جس طرح مسلسل اپوزیشن کو سیاسی تنقید کا خاص طور پر جارحانہ انداز میں نشانہ بناتے رہے ہیں اور اہم ترین قومی معاملات کی بیٹھکوں پر مسلسل غیرحاضر بھی رہے ہیں، انہی قرائن کو دیکھتے ہوئے حالیہ وجۂ عدم شرکت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

حالانکہ صرف ایک روز پہلے قومی اسمبلی میں اپنے روایتی انداز سے ہٹ کر مفاہمانہ، دوستانہ اور دور اندیشانہ خطاب کرتے ہوئے خان صاحب نے جس طرح اپنے شائقین، ناقدین اور مخالفین سبھی کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا تھا اور ایک موہوم سی امید دلائی تھی کہ شاید خان بدل گیا ہے، خود اسی کی نفی اگلے ہی روز قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اپوزیشن سے ’منہ روٹھائی‘ دکھا کر فوراً کر ڈالی۔

یہ داستان تو قطعی طور پر غلط اور بے بنیاد ہے کہ اپوزیشن کے چند رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم کی شرکت پر اعتراض کیا گیا تھا، جس کی بنا پر وزیراعظم اجلاس سے دور رہے۔ عمران خان کو جاننے والے یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایسا ممکن ہی نہیں اور یہ بے پَر کی مبنی بر افواہ قسم کی داستان پھیلائی ہی اسی وقت گئی جب قومی سلامتی کے اہم ترین اجلاس میں عدم شرکت پر وزیراعظم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو بھی اس افواہ کے پھیلاؤ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اگر واقعی چند اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے قومی سلامتی کے معاملات پر وزیراعظم کی شرکت کے بارے میں ناپسندیدگی اور واک آؤٹ جیسی شرط عائد کی گئی تھی اور سپیکر قومی اسمبلی سے اس کا اظہار کیا گیا تھا تو عوام کے اعلیٰ ترین نمائندہ فورم کے کسٹوڈین ہونے کے ناطے سپیکر قومی اسمبلی پر قوم کا قرض بطور فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان ناموں سے عوام کو آگاہ کریں جو قومی سلامتی کے سنگین، سنجیدہ اور پیچیدہ معاملات پر بھی قومی وحدت کے در پے ہیں۔

ان (فرضی افواہی) ناموں کا منظرعام پر آنا تو سیاسی اعتبار سے تحریکِ انصاف کے لیے فائدہ مند اور اپوزیشن جماعتوں کے لیے باعثِ ہزیمت ثابت ہوگا، لہٰذا اگر رَتی برابر بھی اس داستان میں حقیقت ہے اور اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کی شرکت میں رکاوٹ ڈالی گئی تو سپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے فوراً ان قومی سلامتی کے مجرموں کو بے نقاب کیا جانا چاہیے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہاں مگر دوسری جانب یہ حقیقت ہے کہ اجلاس سے قبل کچھ اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے استفسار کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شرکت کر رہے ہیں یا نہیں جس پر باضابطہ اعلان کر دیا گیا کہ وزیراعظم اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

اپوزیشن کے اعتراض والی پَخ اگر ذرا بھی درست ہوتی تو پہلے ہی اس کی اناؤنسمنٹ شروع کروا دی جاتی۔ ایک روز کی تاخیر اور شدید تنقید کے ردعمل کے طور پر دی جانے والی یہ افواہی وضاحت محض ’ترکیب اَمّا بعد‘ ہی معلوم ہوتی ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

انتہائی اہم اجلاس میں وزیراعظم کی عدم شرکت سے نہ صرف بطور چیف ایگزیکٹو خان صاحب کی اتھارٹی پوزیشن کمپرومائز ہوئی ہے بلکہ اس تاثر کو مزید تقویت ملی ہے کہ خارجہ پالیسی اور دفاع جیسے اہم اور سنجیدہ معاملات پر فیصلہ سازی کے ’باس‘ کم از کم وزیراعظم عمران خان نہیں ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان امریکہ دو طرفہ تعلقات ہوں یا افغانستان کی بدلتی صورتحال کی پیشرفت، بائیڈن انتظامیہ کی گفتگو اور ملاقات وزیراعظم ہاؤس کی بجائے کہیں اور ہی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر کے فون کی مترنم گھنٹیوں کی جھنکار سے تاحال ایوانِ وزیراعظم کے در و دیوار محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافی امریکی اڈے دینے یا نہ دینے کے متعلق’ Absolutely Not‘ کو کافی نہیں سمجھتے اور اصل سوال کا تسلی بخش جواب کہیں اور سے پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت سے بھی بیک ڈور چینل روابط ہوں تو تانے کہیں اور سے ہی بندھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور سعودی عرب جیسے دیرینہ دوستانہ اور برادرانہ ممالک کے دورے بھی ہوں تو پیشرفت اور پیش قدمی کہیں اور سے ہی ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک اجلاس کی ایک خالی کرسی کی کہانی نہیں یہ ایک مِسنگ پرائم منسٹر کی طویل داستان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ