قومی سلامتی اور اندر کی لڑائی

اصل لڑائی بارڈر پار نہیں بارڈر کے اندر ہے جو ہم کسی صورت ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں گذشتہ سنیچر کی نیوز کانفرنس کے دوران (اے ایف پی)

کرتار پورہ راہداری بنانے کے باوجود بھارت نے پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی نہیں بدلی۔ چلیں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی یہ خوش فہمی بھی دور ہو گئی کہ نریندرمودی کے ہندوستان میں انتخابات جیتنے کے بعد کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں مدد ملے گی۔

پچھلے ہفتے وادی نیلم میں بھارت کی جانب سے بڑی توپوں کے ذریعے جو حملہ کیا گیا اس نے دونوں ممالک کے درمیان کچھ عرصہ پہلے ہونے والے اس خاموش عہد کو ریزہ ریزہ کر دیا کہ ان علاقوں میں اشتعال انگیز فائرنگ میں بڑے ہتھیار استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ ویسے بھی پچھلے تین سالوں میں لائن آف کنٹرول پر تاریخی اعتبار سے سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں ہیں۔

جنرل راحیل شریف کے دور میں ایک سال میں ہونے والے شدید ترین حملوں کے جن میں سیالکوٹ سیکٹر کی کارروائیاں بھی شامل تھیں علاوہ باقاعدہ جنگوں میں بھی اس شدت کے ساتھ پاکستان بھارت کے درمیان متنازعہ علاقوں سمیت سرحدوں پر ایسی کشیدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ چونکہ ہم دفاع کے معاملات پر رپورٹنگ کو لائیو پریس کانفرنسز کر کے کہی ہوئی باتوں کو دہرانے تک محدود کر چکے ہیں چنانچہ کبھی اصل اعداد و شمار کے ساتھ بگڑتی ہوئی صورت حال میڈیا میں بطور خبر شائع نہیں ہوتی۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کے معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں ہو پائی۔ بھارت کی قیادت کی بات سنیں تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ جیسے انہوں نے اپنی اس پالیسی کو طویل المدت بنیاد پر استوار کر لیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نازک موڑ پر ہی ٹہرائے رکھنا ہے۔

سفارت کاری ہائی کمشنرز کی غیرفعالیت کے باعث ویسے ہی غیرموثر ہو چکی ہے۔ اس کے بیچ جنگی ماحول مزید خطرناک حالات کا باعث بن سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی کارروائیوں پر بھرپور پریس کانفرنسز کی گئیں جن میں دہلی کی طرف سے بنائے جانے والے مکمل منصوبوں پر روشنی ڈالی گئی۔ قوم کو بتایا گیا کہ بھارت کیا کچھ کر رہا ہے۔

آئی ایس پی آر کے ڈی جی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی طرف سے پچھلے ہفتے کی جانے والی پریس کانفرنس میں بھارتی عزائم کا ایک پریشان کن نقشہ کھینچا گیا۔ یاد دہانی کے لیے اس پریس کانفرنس کے چیدہ چیدہ نکات دوبارہ سے تحریر کر دیتے ہیں۔

-بھارت نے کل بزدلانہ کارروائی میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔

-ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

-بھارت کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بےنقاب کرتے رہیں گے۔

-پاکستان نے 9/11 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی۔

-بھارت ریاستی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

-ہمارے پاس شواہد ہیں کہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

-پاکستان کو 126 ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان پہنچا۔

-وقت آ گیا ہے کہ اب قوم اور بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لیا جائے۔

-بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا۔

 -بھارت کچھ عرصہ سے مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔

-بھارت کالعدم تنظیموں کی معاونت کر رہا ہے۔

-بھارت کالعدم تنظیموں کا کنسورشیم بنا رہا ہے۔

-پاکستان مخالفت قوتوں کو متحد کر کے کارروائیوں پر اکسایا جا رہا ہے۔

-پاکستان ميں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے۔ افغانستان میں موجود بھارتی کرنل راجیش دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

-بھارت نے حال ہی میں 30 داعش شدت پسندوں کو پاکستان اور اردگرد منتقل کیا ہے۔

-بھارت دہشت گردوں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سب پڑھنے کے بعد آپ کو احساس ہو گا کہ ہمیں کس قسم کے حالات کا سامنا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی پریشانی جنم لیتی ہے کہ اگر دشمن یہ سب کچھ کر رہا ہے تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ اگر وہ پشاور سے تربت تک اور کراچی سے واخان تک اپنے گھس بیٹھیوں کے ذریعے اندرونی طور پر ہمیں کمزور کرنے والا دھندہ چلائے ہوئے ہے اور ہماری دلیرانہ پریس کانفرنسز کے باوجود وہ ان بذدلانہ کاموں سے باز نہیں آ رہا تو اس کا تدارک کیسے کیا جا سکتا ہے؟

قومی سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر قومی سلامتی کی کمیٹی کے کئی اجلاس بلوائے جانے چاہیے تھے۔ یاد رہے کہ یہ پاکستان میں سنجیدہ ترین معاملات کو زیر بحث لانے اور اس سے متعلق لائحہ عمل بنانے کا  سب سے زیادہ معتبر فورم ہے۔ اس سے پہلے اس کی جگہ نیشنل سکیورٹی کونسل ہوا کرتی تھی۔ یہ کمیٹی اس کی ایک جدید شکل ہے۔

لیکن نجانے کیوں ہم سب کچھ کیمروں کے سامنے کھڑے ہو کر بیان تو کر دیتے ہیں لیکن اصل فیصلہ سازی والے اداروں کو متحرک کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی جیسے فورم پر جو بھی بات کی جاتی ہے وہ سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔ اس پر مختلف آرا کا اظہار ہوتا ہے۔ حقیقت اور فسانے میں تمیز کرنی پڑتی ہے۔

پریس کانفرنس اور سوشل میڈیا تو ایک کھلی منڈی ہے۔ جیسا مال بھی لا کے پھینک دیں گے بک جائے گا۔ کون پوچھے گا آپ نے فلاں وقت کیا بات کی تھی۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم عنصر ایک ایسی سیاسی صورت حال ہے جس میں کوئی کسی پر اعتماد نہیں کرتا اور ہر کسی کے ہاتھ میں دوسرے کے سر پر رسید کرنے کے لیے ایک بھاری بھرکم لٹھ ہے۔

قومی ترجیحات میں اس وقت اولین ترجیح کرسی کا تحفظ اور نوکریوں کا تسلسل ہے۔ اگر اس سفر میں آئین اور قانون کو بلڈوز کر کے زمین برد کرنا پڑے تو بھی جائز ہے۔ گلگت بلتستان کے انتخابات قومی سلامتی کو درپیش گھمبیر صورت حال سے کئی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ طے کیا جا چکا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو گلگت بلتستان کی چوٹیوں اور یہاں پر بہنے والی ندیوں سمیت ہر جگہ پر نافذ کرنا ہے۔ کیوں کہ اگر یہ نہ ہوا تو پیپلز پارٹی اور ن لیگ مرکزی پاکستان میں اختیار کیے گئے بیانیے کو مزید تیز کر دیں گی۔

جتنی توجہ، محنت، وسائل ذرائع ابلاغ میں اپوزیشن کو بھارت کا ایجنٹ ثابت کر نے پر وقف کیے گئے ہیں ان کا آدھا اگر قومی سلامتی کے چیلینجز کو سنجیدگی سے زیر بحث لانے پر صرف کیا جاتا تو شاید ہم آج ایک موثر پالیسی بنانے کے قریب ہوتے۔ لیکن یہ نہیں ہوگا۔

کیوں کہ یہ کرنے کے لیے ہمیں اس تمام نظام کو تبدیل کرنا ہوگا جو نفاق، نفرت اور مسلسل سیاسی لڑائی کے ذریعے چلایا جا رہا ہے اور جس کے نتیجے میں ایسے حالات بنے ہیں کہ پاکستان مشرق، مغرب، شمال، جنوب ہر طرف سے گھیرے میں ہے۔ اصل لڑائی بارڈر پار نہیں بارڈر کے اندر ہے جو ہم کسی صورت ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ