اگلے ماہ مذاکرات میں تحریری امن منصوبہ پیش کریں گے: افغان طالبان

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ بین الافغان مذاکرات میں آنے والے دنوں میں تیزی آئے گی اور طالبان اگلے ماہ تک تحریری امن منصوبہ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔

طالبان کے شریک بانی ملا عبدالغنی برادر اور دیگر رہنما افغان امن عمل کے موضوع پر ماسکو میں منعقدہ ایک کانفرنس میں موجود ہیں (اے ایف پی فائل)

افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ ہے کہ اگلے ماہ وہ افغان حکومت کو تحریری طور پر امن منصوبہ پیش کریں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’امن مذاکرات اور ان پر عمل آنے والے دنوں کے دوران تیز ہوگا۔ اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اہم مرحلے میں داخل ہوجائے گا۔ ظاہر ہے یہ امن منصوبوں کے بارے میں ہوگا۔‘

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق: ’ممکن ہے کہ دونوں فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تحریری امن منصوبوں کا تبادلہ کرنے میں ایک ماہ کا عرصہ لگ جائے۔‘

ان کے مطابق امن مذاکرات کا حال ہی میں ہونے والا مرحلہ اہم تھا۔ انہوں نے کہا: ’حالانکہ ہمارا (طالبان) محاذ جنگ پر پلڑا بھاری ہے پھر بھی ہم امن اور مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔‘

افغان عسکریت پسندوں کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان امریکی افواج کے اخلا کے بعد کئی علاقوں پر قبضے کر رہے ہیں، اور افغان سکیورٹی فورس کے سینکڑوں اہلکاروں نے پڑوسی ملک تاجکستان میں پناہ لے لی ہے۔

چند دن قبل ہی امریکہ نے افغانستان میں بگرام بیس خالی کی ہے جو گذشتہ دو دہائیوں سے امریکی اور نیٹو افواج کا مسکن رہی ہے۔

بگرام ایئر بیس کی افغان فوج کو منتقلی کے بعد طالبان کے نئے اضلاع پر قبضوں کی مہم میں بھی تیزی آئی ہے اور انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان حکومت کے نمائندے کے ساتھ گذشتہ ہفتے جمود کے شکار مذاکرات کو بھی بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔

 

لڑائی اور شورش میں شدت اور بکھرے ہوئے افغان سکیورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کے فرار ہوجانے نے امریکی قیادت میں امن مذاکرات کے بارے میں سنگین شکوک پیدا کیے ہیں۔ یہ امن مذاکرات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت گذشتہ سال شروع ہوئے تھے۔

طالبان کے ترجمان کے بیان پر ردعمل کی درخواست پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں 40 سال تک جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ مذاکرات ہی تھے۔

اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا تھا: ’ہم فریقین پر زور دیں گے کہ سنجیدہ مذاکرات میں مشغول ہوں تاکہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک سیاسی روڈ میپ طے کیا جاسکے جو ایک منصفانہ اور پائیدار تصفیے کا باعث بنے۔‘

امریکی عہدیدار نے مزید کہا: ’دنیا بھر میں کوئی بھی افغانستان میں کسی حکومت کو طاقت کے ذریعے مسلط کرنے کو قبول نہیں کرے گا۔ کسی بھی افغان حکومت کی قانونی حیثیت اور امداد اسی صورت میں ممکن ہے جب وہ حکومت انسانی حقوق کا بنیادی طور پر احترام کرے۔‘

طالبان کی کارروائیاں

معربی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے سو سے زیادہ اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے لیکن طالبان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 34 صوبوں کے دو سو اضلاع کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اتوار کو طالبان کی پیش قدمی کے باعث افغان سکیورٹی فورسز کے ایک ہزار سے زیادہ اہلکاروں نے تاجکستان کے ساتھ شمالی سرحد کے قریب ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ تاجک باڈر گارڈ سروس کا کہنا ہے کہ دیگر درجنوں اہلکاروں کو عسکریت پسندوں نے یرغمال بھی بنا لیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارتکار جو بین الافغان مذاکرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پڑوسی ملک پاکستان کو طالبان کو اس بات پر رضامند کرنے میں مدد کرنی چاہیے کہ وہ تحریری طور پر امن منصوبہ پیش کریں چاہے اس میں انتہا پسندانہ روش ہی کیوں نہ اختیار کی گئی ہو۔

گذشتہ ماہ یورپی یونین کے نمائندہ خصوصی برائے افعانستان ٹوماس نکلاسن کا کہنا تھا کہ وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور تحریری تجاویز پاکستان کے طالبان پر کامیاب اثرو رسوخ کی جانب ایک اشارہ ہوگا۔

افغان وزارت امن امور کی ترجمان ناجیہ انوری نے تصدیق کی ہے کہ بین الافغان مذاکرات بحال ہو گئے ہیں اور ان کے محکمے کے نمائندے ’بہت خوش‘ ہیں کہ طالبان کے نمائندوں نے عمل کو ختم کرنے کو سراسر مسترد کیا ہے۔

ناجیہ انوری کا کہنا تھا:’یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ طالبان ایک ماہ میں ہمیں اپنے امن منصوبے کی تحریری دستاویز فراہم کریں گے یا نہیں لیکن مثبت رہتے ہیں۔  ہم امید کرتے ہیں کہ وہ (منصوبہ) پیش کریں گے تاکہ یہ سمجھ آیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا