مونچھوں والا کپ، ابھی نندن اور بغیر نمک کا انڈہ 

معلوم تاریخ کے مطابق 1860 میں ایک انگریز ہاروے ایڈمز نے یہ کپ ایجاد کیا۔ کچھ بھی نہیں ہے، سادہ سا کپ ہے بس اوپر ایک روک سی لگی ہوئی ہے جو مونچھوں کو اندر جانے سے روکتی ہے لیکن ہے پوری سائنس! 

یہ کپ ایک اتوار بازار کی سیر کے دوران خریدا گیا۔ تصویر، حسنین جمال

لمبی مونچھیں رکھنا کیسا مشکل کام ہو سکتا ہے یہ تو کوئی بڑی مونچھوں والا ہی جانے، فقیر ایک بات جانتا ہے، مونچھ سے مردوں کی انا بہت زیادہ جوڑی جاتی ہے۔ مچھ نئیں تے کجھ نئیں (مونچھ نہیں تو کچھ نہیں)، مونچھ کا بال نیچا نہ ہونا، مونچھیں منڈوانے کی شرط لگانا اور پتہ نئیں کیا کیا محاورے جوانوں نے ایجاد کیے ہوئے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ سودا پسند کا ہے۔ آپ کو پسند ہے یا کسی اور کو پسند ہے (مطلب فرمائشی پروگرام) تو بس رکھ لیں، نہیں سمجھ آتی تو کلین شیو زندہ باد۔ باقی مردانگی وغیرہ ایویں گلاں ای بنیاں نیں! 

تو مونچھیں وغیرہ زمانہ قبل از مسیح بلکہ غاروں والے زمانے سے ہی رکھی جا رہی ہیں، ادھر ہمارے دیسی لوگ بھی رکھتے تھے ادھر گورا صاب لوگ بھی رکھتے تھے لیکن ہزاروں سال کے اس عرصے میں کوئی ایک برتن ایسا نہیں دکھائی دیتا جو مونچھوں والے انسان کی تکلیفوں کا جانو ہو (جانو مطلب جانتا ہو، ہے پنجابی لفظ لیکن احساس ریشمی سا ہے)۔ سوچنے کی بات ہے، پانی وغیرہ تو چلو لمبی مونچھوں والا پی لیتا ہو گا لیکن کافی، سوپ، لسی یا دوسرے شربت آخر کیسے منہ سے لگاتا ہو گا؟ ادھر مونچھوں پہ کچھ لگا نہیں ادھر چپ چپ شروع۔ ہو سکتا ہے کوئی اینگل ایسا نکلتا ہو کہ جس سے پینا ممکن بن جاتا ہو، یا شاید سٹرا وغیرہ استعمال کرتا ہو لیکن گرم چیز تو سٹرا سے بھی قابو نہیں آتی۔ یورپ کی منحوس سردی میں چائے، کافی یا الکوحل ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو استقامت بخشتی ہیں اور موسم تھوڑا اچھا لگنے لگتا ہے۔ آخر الذکرچیز ظاہری بات ہے بہو بیٹیاں کیا جانیں، آئیں چائے کافی کی بات کرتے ہیں۔ 

چائے، کافی یا سوپ بلاشبہ تین ایسی نعمتیں ہیں جو ہڈیوں میں گھسنے والی سردی کا تریاق ہیں۔ پچھلی صدی کے پہلے پچاس برسوں میں لمبی مونچھیں یورپ سمیت پوری دنیا میں باقاعدہ ‘ان’ تھیں۔ فوج میں اس فوجی کو الگ سے الاؤنس ملتا تھا جس نے ابھی نندن سٹائل کی مونچھیں رکھی ہوں۔ اس بھارتی پائلٹ کی دریافت سے پہلے ایسی مونچھوں کو سائیکل کے ہینڈل سے بھی تشبیہ دی جاتی تھی۔ تو ایک لمبی مونچھوں والا آدمی اس فکر کے بغیر گرم مشروبات کیسے پی سکتا ہے کہ اس کی سجی بنی مونچھیں ان میں ڈوب کر چیکٹ نہیں ہوں گی؟ جی ہاں، آپ ٹھیک پہنچے، اس کا جواب ہے مونچھوں والا کپ! (ویسے ماتھے پہ تصویر لگی دیکھ کے بھی کوئی نہ پہنچا ہو تو آفرین ہے۔) 

ہوتا یہ تھا کہ فوجی جب مونچھیں رکھتے تھے تو انہیں بل پہ آمادہ رکھنے کے لیے اور تھوڑا سٹائل سے جمانے کے لیے موم سے بنی کریموں کا استعمال کرتے تھے۔ وہ کریم چائے کافی سامنے آتے ہی پگھل جاتی تھی۔ زیادہ گرم چیز ہو تو اس کی بھاپ بھی کریم پگھلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ تو مونچھیں اس ساری کارروائی سے بچانے کے لیے معلوم تاریخ کے مطابق 1860 میں ایک انگریز ہاروے ایڈمز نے یہ کپ ایجاد کیا۔ کچھ بھی نہیں ہے، سادہ سا کپ ہے بس اوپر ایک روک سی لگی ہوئی ہے جو مونچھوں کو اندر جانے سے روکتی ہے لیکن ہے پوری سائنس! 

جب یہ برتن بنا تو پوری دنیا کو ایک دم احساس ہوا کہ مونچھوں والے مرد کس مشکل میں مبتلا ہیں۔ کراکری بنانے والی بڑی بڑی کمپنیوں نے ادھر اپنا رخ موڑ لیا۔ انگلستان کو اس معاملے میں بہرحال برتری حاصل تھی کیوں کہ اپنا ہاروے ایڈمز بھی وہیں کا تھا۔ یہاں تک ہوتا تھا کہ مونچھوں والا کپ بنتا امریکہ میں تھا اور اس پہ مہر میڈ ان انگلینڈ کی لگتی تھی۔ لوگوں کے دماغ پہ انگلش برتنوں کی برتری چھائی ہوئی تھی۔ اس کپ کا تو اشتہار ایسے بنتا تھا، “ایک مہذب آدمی کو آخر کس چیز کی ضرورت ہے؟ جی ہاں، ایک مونچھ والا کپ (مسٹاش کپ) اور ایک پرچ کی! باقی رہی سہی کسر ادیب شاعر پوری کر دیتے تھے۔ رڈیارڈ کپلنگ نے تو “پور ڈئیر ماما” کی ہیروئین سے کہلوا دیا، “ایسے آدمی کو پیار کرنا جس کی مونچھوں میں ویکس نہ لگا ہو، ایسا ہی ہے جیسے انڈے کو بغیر نمک لگائے کھا جانا۔” گویا ایک تو مونچھ اس بوسہ بازی کی شرط ٹھہری اور پھر ویکس لگی نمکین مونچھ! توبہ توبہ، کیا بے ہدایت لوگ تھے!

پھر پہلی عالمی جنگ ہوئی تو مونچھ داڑھی والے چہروں پہ ایمرجنسی گیس ماسک ٹھیک سے نہیں بیٹھتا تھا۔ تب پہلے فوجیوں کے چہروں سے مونچھیں ہٹیں اس کے بعد عوام نے بھی سلام کر لیا۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر جو ہپی کلچر شروع ہوا اس میں بھی لمبی لمبی داڑھی مونچھیں آئیں لیکن وہ بیچارے تو زیادہ کپڑے بھی نہیں رکھتے تھے، جینٹل مین بھی نہیں تھے، انہیں ایسے کپ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ باقی ابھی تین چار سال پہلے بھی یہ فیشن واپس آیا لیکن بہت زیادہ چل نہیں سکا۔ اب وقت کے تقاضے بدل چکے ہیں۔ پرسنل گرومنگ کے بنیادی اصولوں میں اول تو داڑھی مونچھ ہے نہیں اور اگر ہے تو نہایت صفائی سے ترشی ہوئی۔ دس بارہ دن پہلے تو یہ خبر بھی لگانے والوں نے لگائی کہ اتنے جراثیم کتوں میں نہیں ہوتے جتنے انسان کے چہرے کے بالوں میں ہوتے ہیں۔ اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں! 

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی