اسرائیلی ارب پتی سے منسلک بحری جہاز پر حملہ، دو ہلاک

اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کے زوڈیک گروپ کی لندن میں واقع کمپنی ’زوڈیک میری ٹائم‘ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں تفصیل میں جائے بغیر اسے ’قزاقوں‘ کا حملہ قرار دیا گیا۔

خلیج عمان میں حملے کا نشانہ بننے والا ایک بحری جہاز (فائل فوٹو: آئی ایس این اے/ روئٹرز)

حکام کا کہنا ہے کہ ایک اسرائیلی ارب پتی شخص سے منسلک ایک آئل ٹینکر پر شمالی بحیرہ ہند میں عمان کے ساحل پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں عملے کے دو افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق لبنانی پرچم والے آئل ٹینکر ’میرسر سٹریٹ‘ کو عمانی جزیرے مسیرہ کے بالکل شمال مشرق میں جمعرات کی رات نشانہ بنایا گیا۔ یہ مقام عمان کے دارالحکومت مسقط سے 300 کلومیٹر (185 میل) جنوب مشرق میں ہے۔

اسرائیلی حکام نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی، لیکن یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے مابین تعلقات کشیدہ ہیں اور عالمی طاقتوں اور تہران کے مابین جوہری معاہدے کے معاملے پر مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں۔

اسرائیل سے وابستہ دیگر بحری جہازوں کو بھی حالیہ مہینوں میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور اسرائیلی حکام نے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کیا۔ دوسری جانب ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے سلسلے میں اسرائیل پر شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔

اسرائیلی ارب پتی ایال اوفر کے زوڈیک گروپ کی لندن میں واقع کمپنی ’زوڈیک میری ٹائم‘ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’لائبیریا کے پرچم والا یہ ئل ٹینکر میرسر سٹریٹ ہے اور یہ جاپانی ملکیت تھا۔ برطانوی وزارت دفاع نے اس سے قبل جہاز کے مالکان کو غلط شناخت کیا تھا۔‘

زوڈیک میری ٹائم نے تفصیل میں جائے بغیر اسے ’قزاقوں‘ کا حملہ قرار دیا۔

بعد میں کہا گیا کہ اس حملے میں عملے کے دو افراد ہلاک ہوگئے، جن میں سے ایک کا تعلق برطانیہ اور دوسرے کا رومانیہ سے ہے۔ مزید کہا گیا کہ کمپنی ’کسی بھی دوسرے اہلکار کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ نہیں ہے۔‘

زوڈیک میری ٹائم کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واقعے کے وقت یہ جہاز شمالی بحر ہند میں تھا اور دارالسلام سے فجیرہ جا رہا تھا، جس میں کوئی سامان نہیں تھا۔‘

میری ٹائم ٹریفک ڈاٹ کام کے سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ  جہاز اس مقام سے قریب ہی تھا، جس کے حوالے سے برطانوی حکام نے بتایا تھا کہ یہاں حملہ ہوا ہے، تاہم جہاز سے آخری سگنل جمعے کی صبح موصول ہوا۔

دوسری جانب یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) کی جانب سے ایک مختصر ابتدائی بیان میں کہا گیا کہ جمعرات کی رات کو پیش آنے والے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ اس تاثر کو بھی رد کردیا گیا کہ یہ ’قزاقوں‘ کا حملہ تھا۔

بیان میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس سے قبل جمعرات کو برطانوی فوجی گروپ نے کہا تھا کہ وہ اسی علاقے میں ایک اور نامعلوم واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے، لیکن اس کی بھی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب عمان نے کسی حملے کی تصدیق نہیں کی اور عمانی عہدیداروں نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب بھی نہیں دیا۔ اسی طرح امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑہ، جو مشرق وسطیٰ میں گشت کرتا ہے، نے بھی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ایرانی میڈیا نے حملے سے متعلق غیر ملکی رپورٹس کا حوالہ دیا ہے، لیکن اس کی تفصیل نہیں بتائی۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکی سیکریٹری خارجہ انٹنی بلنکن نے کویت سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کو متنبہ کیا تھا کہ جوہری معاہدے کے بارے میں ویانا میں بات چیت ’غیر معینہ مدت تک نہیں چل سکتی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا