پاکستان کا یوم آزادی نہیں منائیں گے: حقوق نسواں کی کارکنان

حقوق نسواں کی کارکن عینی نے پی ٹی آئی کے  جھنڈے کے ہرے رنگ کو کالے سے تبدیل کیا اور ان کے پرچم کے لال رنگ کو انہوں نے پیازی رنگ سے تبدیل کیا۔

پاکستان میں حقوق نسواں کے لیے سرگرم خواتین نے اپنی جدو جہد کے لیے پرچم متعارف کرایا ہے (تصویر :عینی)

پاکستان کے صنعتی شہر سیالکوٹ میں نور مقدم اور ظلم کا شکار ہونے والی دیگر خواتین، بچیوں اور بچوں کے لیے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کے دوران حقوق نسواں کے لیے سرگرم خواتین نے ایک پرچم متعارف کروایا ہے اور پاکستان کا یوم آزادی نہ منانے کا اعلان کیا ہے۔

اس پرچم کا رنگ کالا، اور لال ہے جبکہ اس کے بیچ میں ایک چاند اور ستارہ ہے۔ اس پرچم کو ڈیزائن کرنے والی عینی اور ان کی ایک ساتھی ( جو اپنا نام نہیں بتانا چاہتی) ہیں۔ ٰ

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عینی کا کہنا تھا: 'مجھے میری ساتھی کی کال آئی کہ وہ سیالکوٹ میں وجل کر رہی ہیں اور انہیں ایک پرچم چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سب سے پہلے تو ہمیں یہ غصہ تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے حکومت میں آنے کے لیے ہم سے یہ وعدے نہیں کیے تھے۔ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ یہاں کوئی خوشحالی نہیں ہے۔ ہر بات پر ان کا یو ٹرن ہے ایسے جیسے عوام کے ماتھے پر بیوقوف لکھا ہو۔‘

عینی نے بتایا کہ ’میں نے پی ٹی آئی کے پرچم کا اصل نظریہ جو پہلے تھا اور اب جو کچھ ہو رہا ہے اور ایک تاثر جو انہوں نے اب تخلیق کر دیا ہے اس کو جس طرح میں سمجھی اسی کو سامنے رکھ کر میں نے یہ پرچم بنا دیا۔‘

عینی نے پی ٹی آئی کے  جھنڈے کے ہرے رنگ کو کالے سے تبدیل کیا اور ان کے پرچم کے لال رنگ کو انہوں نے پیازی رنگ سے تبدیل کیا۔

ان کے مطابق کالا رنگ موت کی عکاسی کر رہا ہے، پیازی  رنگ عورت کی اور چاند ستارہ  اسلامی ریاست کو پیش کر رہا ہے۔ 

حقوق نسواں کی کارکن عینی نے کہا کہ ’خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی خواتین اس سال 14 اگست نہیں منائیں گی کیونکہ پاکستان اب سب کے لیے ایک آزاد ریاست نہیں ہے۔‘

عینی نے واضع کیا کہ یہ پرچم مکمل غیر سیاسی ہے اسے ایک آرٹ ورک کے طور پر لیا اور دیکھا جائے۔ یہ کسی سیاسی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہا۔

پرچم بنانے کا خیال ذہن میں کیسے آیا؟

عینی نے بتایا: ’آئے روز غیرت کے نام پر قتل، جنسی زیادتی وغیرہ کے واقعات تواتر سے ہو رہے تھے تو میں نے سوچا تھا کہ عید کی چھٹیوں میں کچھ ایسا بناؤں گی جو حقوق نسواں کے نقطہ نظر کی عکاسی کرے یا اس کی علامت ہو۔‘

خواتین اس سال 14 اگست نہیں منائیں گی

حقوق نسواں کی ایک اور سرگرم کارکن ڈاکٹر ویرتا علی اجن نے انڈپینڈنٹ اردو سےبات کرتے ہوئے کہا: 'یہ پرچم ایک غیر سیاسی پرچم ہے۔ پاکستان کی آزادی کا دن آنے والا ہے اور اس ملک میں عورتیں آزاد نہیں ہیں۔‘

ان کے مطابق عورتیں ہر روز ماری جاتی ہیں، ہر روز ان کی روح کو کچل دیا جاتا ہے۔ اور یہ سب اتنا نارمل ہو چکا ہے کہ کوئی اس طرف توجہ نہیں دیتا۔ ہم روزانہ عورتوں اور بچوں کے ریپ اور قتل کے حوالے سے  خوفناک باتیں سنتے ہیں اور کم عمر کی شادیوں کی خبریں تو پہنچتی ہی نہیں ہیں۔

ڈاکٹر ویرتا علی اجن کے مطابق ’یہ جھنڈا دراصل ہمارے احتجاج کی ایک اور قسم ہے۔ ہم مارچ کر کے احتجاج کرتے ہیں ہم اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ ہمیں مزید آواز بلند کرنا ہو گی تاکہ لوگ عورت کی مسلسل غلامی کو نظر انداز کرنا بند کریں۔‘

ویرتا کہتی ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو کچھ پاکستان اور دیگر ممالک میں ہو رہا ہے  اس سے آنکھیں پھیر لینا بھی ایک جرم ہے۔

'ہمارے موجودہ منتخب نمائندگان کہتے ہیں کہ پاکستان کا امیج خراب ہے۔ پاکستان کا امیج اس لیے برا دکھتا ہے کیونکہ ہماری حقیقت بری ہے۔ اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس سال ہم پاکستان کی آزادی کا دن نہیں منائیں گی۔‘

ویرتا کا کہنا ہے کہ ’یہ جھنڈا ہماری حب الوطنی، اور ہر روز قتل ہونے والی عورت کے لیے ہمارے دکھ اور غصے کی عکاسی کر رہا ہے۔ ہر روز جن عورتوں، بچیوں اور بچوں کو کچل دیا جاتا ہے۔ ہم اس کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر ویرتا کا کہنا ہے کہ اب تک ویمن پروٹیکشن بل پاس نہیں ہوسکا۔ اسے بھی غیرسنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے اور اگر یہ بل پاس نہیں ہوتا تو اس سے سب اندازہ لگا لیں کہ ہمارے سیاست دانوں نے پاکستان کی 50 فیصد سے زیادہ عورتوں کے حق اور ان کی نمائندگی کو دھوکہ دیا ہے۔ ہمیں ویمن پروٹیکشن بل پاس ہونا چاہیے اور ہم اس کے لیے بھرپور طریقے سے جدو جہد کریں گے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کا موقف

کیا پاکستان تحریک انصاف کا جھنڈا اب اس چیز کی نمائندگی نہیں کر رہا جس کے لیے وہ بنا تھا؟ اسی حوالے سے ہم نے پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا: 'پاکستان تحریک انصاف کا پرچم  اپنے بننے کے دن سے لے کر آج تک جس چیز کی نمائندگی کر رہا ہے اس میں زرا بھی تبدیلی نہیں نہیں آئی۔ ہم اپنے منشور اور عمران خان کی لیڈر شپ میں پارٹی کے نظریے پر بدستور کام کر رہے ہیں۔'

ویمن رائٹس ایکوسٹس اس بار 14اگست نہیں منائیں گی کے حوالے سے سینیٹر اعجاز چوہدری کا کہنا تھا: 'یہ وہ لوگ ہیں جو قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو سمجھ نہیں پائے۔ نریندر مودی نے ہندتوا کے فلسفے کو جب بھارت  میں مسلط کیا تو پاکستان میں اکثریت کو قائد اعظم کی بات سمجھ آگئی تھی کہ کیوں ہم دو قومیں ہیں اور کیوں ہمیں ایک الگ وطن چاہیے۔ یہ لوگ ان باقی ماندہ گمراہ لوگوں میں سے ہیں جنہیں ابھی تک بابائے قوم کے نظریے اور فکر کی سمجھ نہیں آئی۔'

ان کا کہنا تھا کہ ان خواتین سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ 'یہ تو ایک خاص کلاس کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ہماری ساری جدوجہد تو پاکستان کے عام آدمی کے لیے ہے وہ چاہے کسی بھی رنگ، نسل، زبان یا مذہب سے ہو اور وہ نچلہ طبقہ جو بالکل پسا ہوا ہے یہاں تک کہ ان کو بنیادی حقوق تک حاصل نہیں ہیں۔'

پاکستان کی آزادی کا دن نہ منانے کے حوالے سے کچھ ویمن رائٹس ایکٹوسٹس ٹویٹر پر بھی ٹویٹ کر رہی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین