پاکستان: ’خواتین کے خلاف تشدد خاموش وبا کی طرح پھیل رہا ہے‘

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے سلسلے میں مناسب تحفظ یا احتسابی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

24 جولائی 2021 کی اس تصویر میں  نور مقدم کے قتل کے واقعے کے خلاف لاہور میں ایک احتجاج میں شریک خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسلام آباد کے پوش علاقے میں ایک سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے بہیمانہ قتل کی بازگشت اب تک گونج رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سماجی کارکن نور اور دیگر پاکستانی خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد اور مظالم پر ہم آواز ہوکر اس کے تدارک کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نور مقدم کی زندگی کے آخری لمحات انتہائی اذیت ناک تھے۔ موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل 27 سالہ خاتون پر بارہا تشدد کیا گیا، اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے کھڑکی سے چھلانگ لگا دی لیکن انہیں دوبارہ گھسیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آخرکار ان کا سر ڈھر سے جدا کردیا گیا۔ ان کے بچپن کے ایک دوست پر اس بھیانک قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صنفی امتیاز پر مبنی اس طرح کے حملوں میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ملک مذہبی انتہا پسندی کی جانب گامزن ہے۔

سابق سفارتکار کی بیٹی نور مقدم کے قتل کے حوالے سے معروف سماجی کارکن طاہرہ عبداللہ کا کہنا ہے ملک کی اشرافیہ کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کے قتل سے پاکستان میں خواتین کے خلاف ہونے والے بے رحمانہ اور بڑھتے ہوئے تشدد کی عکاسی ہوتی ہے۔

طاہرہ عبداللہ نے مزید کہا کہ ’میں آپ کو صرف ایک ہفتے میں خواتین پر حملوں کے حوالے سے اپنے بازو سے طویل فہرست دے سکتی ہوں۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور تشدد ایک خاموش وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ سب نے اس پر اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کوئی بھی اس بارے میں بات نہیں کررہا ہے۔‘

رواں ماہ ہی پاکستان کی پارلیمنٹ نے شوہروں کی جانب سے حملوں سمیت خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کے لیے پیش کیے جانے والے ایک بل کو مسترد کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل سے اس کی جانچ کرنے کو کہا ہے۔

رواں برس کے اوائل میں ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان بھر سے گھریلو تشدد کے حوالے سے ہاٹ لائنز کے ذریعے جمع شدہ ڈیٹا کے مطابق گذشتہ سال جنوری اور مارچ کے درمیان اس طرح کے واقعات میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق مارچ کے بعد جب کرونا کے باعث لاک ڈاؤن شروع ہوا تو اس حوالے سے صورت حال مزید ابتر ہوگئی۔

2020 میں پاکستان، ورلڈ اکنامک فورم کے گلوبل جینڈر انڈیکس میں بدترین ممالک میں شامل تھا۔ 156 ممالک کی اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 153واں تھا اور یہ محض عراق، یمن اور افغانستان سے آگے تھا۔

پاکستان میں بہت سی خواتین نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں جہاں مجرم ایک بھائی، والد یا خاندان کا کوئی اور مرد ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال اس طرح ایک ہزار سے زیادہ خواتین کو قتل کیا جاتا ہے اور بہت سے واقعات سرے سے رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی حکام خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے سلسلے میں مناسب تحفظ یا احتسابی نظام قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان زیادتیوں میں نام نہاد ’غیرت کے نام پر قتل‘ اور جبری شادیاں بھی شامل ہیں۔

اس ناکامی پر انسانی حقوق کے گروپوں نے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت پر شدید تنقید کی ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی حقوق کی تو وکالت کرتے ہیں لیکن خواتین پر حملوں کے لیے ان کے لباس کو ہی بطور عذر پیش کرتے ہیں۔

ایک بار مردوں کے حملوں کا الزام خواتین پر عائد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا: ’اگر آپ معاشرے میں مردوں کے جذبات ابھارتی ہوں تو ... وہ تمام نوجوان کدھر جائیں گے؟ معاشرے میں اس کے نتائج ہوتے ہیں۔‘

ملک کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے خواتین کے خلاف تشدد میں اضافے کی بھی تردید کی تاہم انہوں نے اس دعوے کے حوالے سے ثبوت نہیں دیے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ان کی حکومت سیاست اور کھیلوں میں خواتین کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور ان صوبوں میں، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے قانون سازی کرکے اسے مضبوط بنایا گیا ہے۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا: ’میرے خیال میں یہ تصور حقیقت کے برخلاف ہے کہ پاکستان میں خواتین محفوظ نہیں ہیں یا شاید پاکستان میں عملی طور پر خواتین سے نفرت کی جاتی ہے۔‘

ان دعوؤں کے باوجود گذشتہ ہفتے عمران خان کی کابینہ کے ایک وزیر علی امین گنڈاپور نے ہزاروں افراد کی ایک ریلی سے خطاب کرتے کہا کہ ’وہ حزب اختلاف کی ایک خاتون سیاسی رہنما (مریم نواز) کو تھپڑ رسید کریں گے۔‘

گذشتہ سال ستمبر میں لاہور کے قریب موٹر وے پر اپنے دو بچوں کے سامنے گینگ ریپ کا شکار ہونے والی خاتون کے واقعے پر ایک سینیئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انہیں رات کے وقت اور مرد کے بغیر سفر نہیں کرنا چاہیے تھا۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز سے وابستہ عامر رانا نے کہا کہ اس طرح کے تبصرے پاکستان میں انتہائی قدامت پسندانہ اور انتہا پسند مذہبی اقدار میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔

عامر رانا نے کہا ملک میں مذہبی تنظیموں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جن میں شامل بہت سے لوگ انتہا پسندانہ عقائد رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کی بیشتر شہروں اور قصبوں میں زبردست رسائی ہے جہاں وہ تعلیم سے لے کر صحت کی دیکھ بھال تک خدمات فراہم کرتے ہیں اور اس طرح ان میں سماجی اقدار کو متاثر کرنے کی وسیع صلاحیت موجود ہے۔

پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کی تاریخ پیچیدہ ہے اور وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے استدلال پیش کیا کہ ’1980 کی دہائی میں (افغانستان پر سوویت یلغار کے بعد) اس خطے میں مذہب کو استعمال کرنے کا جو کردار ادا کیا گیا ہے اس کا ذمہ دار امریکہ ہے۔ اس وقت امریکہ کے تعاون سے پاکستان کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے مذہبی جوش و جذبے کے ذریعے افغان جہادیوں کو حملہ آور سوویت یونین سے لڑنے کی ترغیب دی۔ ان میں سے بہت سے جہادی افغان مہاجرین کی حیثیت سے پاکستان میں داخل ہو گئے۔۔۔۔ اور اب بہت آسانی سے امریکی میڈیا اور امریکی حکام ہر بات کا الزام پاکستان پر لگاتے ہیں جو خود اس خطے کو (انتہا پسندی میں جھونک کر) یہاں سے چلتے بنے۔‘

تاہم طاہرہ عبد اللہ اس دعوے کو پوری طرح تسلیم نہیں کرتیں، جن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان امریکہ پر الزام لگا کر اپنی ذمہ داری سے دستبردار نہیں ہوسکتا۔ اسی آمر جنرل ضیا نے اسلامی قوانین متعارف کروائے، جن میں خواتین کے وراثت کے حقوق میں کمی اور ان کی گواہی کی اہمیت کو محدود کردیا گیا۔ عدالت میں چار مرد گواہوں کے تقاضے سے ریپ کو ثابت کرنا تقریباً ناممکن بنا دیا گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نور مقدم پر حملے میں پولیس نے ایک دولت مند صنعت کار کے بیٹے ظاہر جعفر پر قتل کا الزام عائد کیا ہے اور ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انہیں شادی سے انکار کی وجہ سے قتل کیا گیا۔

اس حملے کی بربریت کے پیچھے بھی حملہ آور نے نام نہاد غیرت کا استعمال کیا۔ بہت سوں کو خدشہ ہے کہ (شاہ زیب قتل کیس، جس میں عدالت نے مرکزی مجرم شاہ رخ جتوئی کی سزا ختم کر دی تھی) کی طرح اس کیس میں بھی ملزم اپنی دولت اور خاندان کا اثر و رسوخ سے رہا کیا جاسکتا ہے۔

سماجی کارکنوں نے اس حوالے سے ایک مہم چلائی ہے جس میں احتجاج اور موم بتیوں کے ساتھ تقریبات کا انعقاد بھی شامل ہے۔ ملزمان کے ملک سے باہر جانے کے لیے اثر و رسوخ اور پیسہ استعمال کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے ایک سوشل میڈیا مہم ’جسٹس فار نور‘ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔

ایک آن لائن ایک پیٹیشن میں ملک کے عدالتی نظام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’تشدد کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے۔‘

اس میں مزید کہا گیا: ’ہم انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم فوری انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم نور کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم تمام خواتین کے لیے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

نور مقدم کی یاد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں شرکت کرنے والی طالبہ زرقا خان نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ’اب کس طرح مذہب پاکستان زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے کہ آج انہیں سڑکوں پر تنہا چلنے خوف آتا ہے۔‘

زرقا خان نے کہا: ’میں باہر نکلنے پر خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی، حالات ایسے نہیں ہونے چاہییں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین