موٹر وے ریپ کیس:متاثرہ خاتون نے ملزمان کو شناخت کرلیا

کیمپ جیل لاہور میں کروائی گئی شناخت پریڈ میں دونوں ملزمان کو متاثرہ خاتون کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

عابد ملہی اور شفقت علی نے نو ستمبر کی رات کو گجر پورہ موٹر وے سے گوجرانوالہ جانے والی ایک خاتون کو مبینہ طور پر ان کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔(تصویر: پنجاب پولیس)

گذشتہ ماہ ہونے والے لاہور موٹر وے گینگ ریپ کیس کے دونوں ملزمان، عابد ملہی اور شفقت علی کو متاثرہ خاتون نے شناخت پریڈ کے دوران پہچان لیا ہے۔

کیمپ جیل لاہور میں کروائی گئی شناخت پریڈ میں دونوں ملزمان کو خاتون کے سامنے پیش کیا گیا، جنہیں دیکھ کر خاتون نے دونوں کو پہچان لیا۔ شناخت پریڈ کے حوالے سے معلومات دینے کے لیے لاہور پولیس کے بیشتر افسران نامعلوم وجوہات کی بنا پر گریز کرتے دکھائی دیے، یا تو انہوں نے فون نہ اٹھایا یا بات کرنے پر یہ کہہ کر فون بند کر دیا کہ انہیں کچھ نہیں معلوم۔

صرف ایک سینیئر پولیس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’متاثرہ خاتون کو مکمل پردے کے ساتھ گوجرانوالہ سے لاہور کیمپ جیل لایا گیا تاکہ ان کی اپنی شناخت پوشیدہ رہے۔ کیمپ جیل میں پہلے شفقت اور پھر عابد ملہی کی شناخت پریڈ کروائی گئی جس میں متاثرہ خاتون نے دونوں ملزمان کو پہچان لیا۔‘

عابد ملہی کو پولیس نے 12 اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ 13 اکتوبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عابد کو شناخت پریڈ کے لیے جیل منتقل کر دیا تھا جبکہ دوسرے ملزم شفقت علی کو ریپ کے واقعے کے کچھ دنوں بعد ہی دیپال پور سے پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

عابد ملہی اور شفقت علی نے نو ستمبر کی رات کو گجر پورہ موٹر وے سے گوجرانوالہ جانے والی ایک خاتون کو مبینہ طور پر ان کے بچوں کے سامنے اجتماعی ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔  خاتون رات گئے گاڑی میں پٹرول ختم ہوجانے کی وجہ سے موٹر وے پر کھڑی مدد کا انتظار کر رہی تھیں۔ اس حادثے کے بعد پولیس نے شفقت کو تو گرفتار کر لیا تھا مگر عابد ملہی کی گرفتاری ایک ماہ تک ممکن نہ ہوسکی تھی۔ واقعے کے 33 روز بعد عابد ملہی نے اپنے والد کے ذریعے پولیس کو گرفتاری پیش کر دی تھی، جس کے عوض عابد ملہی کے خاندان کی خواتین جو پولیس کی تحویل میں تھیں، انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔  

شناخت پریڈ کیوں اور کیسے ہوتی ہے؟

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور کرمنل ٹرائلز کے ماہر فرہاد علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’شناخت پریڈ کا چیپٹر قانون شہادت مہیا کرتا ہے لیکن اس کا طریقہ ہائی کورٹ کے قواعد و ضوابط متعین کرتے ہیں۔ شناخت پریڈ جیل کی حدود میں کی جاتی ہے۔ اس میں کم از کم 20 ڈمی یعنی اسی وضع قطع اور عمر کے ملتے جلتے لوگ کھڑے کیے جاتے ہیں۔ ان میں سے مظلوم پہچان کر بتاتا ہے کہ کون اس کا ملزم ہے۔ پریڈ کا مقصد ملزم کو بھی فیئر ٹرائل کا موقع دینا ہے۔ 20 اشخاص اس لیے کھڑے کیے جاتے ہیں تاکہ یہ احتمال نہ رہے کہ کوئی ناحق بے گناہ آدمی شناخت پریڈ میں غلطی سے ملوث ہو کر سزا پا جائے، اس لیے کسی بھی شک سے بچنے کے لیے شناخت پریڈ کا پورا ایک طریقہ کار دیا گیا ہے، جس پر عمل کروانا اس جج کی ذمہ داری ہے، جس نے شناخت پریڈ کروانے کا حکم دیا ہے۔ اس میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اگر ایک سے زیادہ ملزمان ہیں تو ان کی شناخت ایک ساتھ اکٹھے نہیں بلکہ الگ الگ کی جائے گی۔ شناخت پریڈ کے ان تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے گا تب ہی پراسیکیوشن ایسے شواہد پر انحصار کرکے کسی کی سزا اور جزا کا فیصلہ کر سکتا ہے۔‘

عابد ملہی کی شناخت پریڈ کیس کو کمزور تو نہیں کر دے گی؟

ایڈوکیٹ فرہاد علی شاہ کے مطابق: ’یہ براہ راست شواہد کا کیس ہے، متاثرہ خاتون موجود ہیں لیکن پہلے دن سے جو ایف آئی آر درج کی گئی تھی اس میں درخواست گزار یا مظلوم پراسیکیوشن سے تعاون کرتا نظر نہیں آرہا۔ خاتون جن کے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا وہ بھی پہلے دن سے اپنی شناخت کو ظاہر نہیں کر رہیں۔ اب چونکہ ہماری عدالت ثبوت مانگتی ہے اور قانون کے اندر صاف صاف لکھا ہے کہ کوئی ایک بھی شک کہیں رہ جاتا ہے تو اس کا فائدہ خاص طور پر ملزم کو ہوتا ہے۔ وہ رہا ہو سکتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا: ’ایک بہت اہم ثبوت شناخت پریڈ کا تھا۔ پولیس نے صرف پوائنٹ سکورنگ کرنے کے لیے مختلف میڈیا پر پریس ریلیز اور عابد ملہی کی تصاویر جاری کیں۔ اس کا خمیازہ پراسیکیوشن کو بھگتنا پڑے گا۔ شناخت پریڈ ایک اہم ثبوت ہو سکتا تھا جو صرف اس لیے ضائع ہو جائے گا کیونکہ پولیس کی جانب سے پہلے ہی عابد کی تصاویر جاری کردی گئی تھیں۔ اس لیے عدالتیں کبھی بھی اس پر مکمل انحصار نہیں کر سکتیں۔ اس کی شناخت کو گرفتاری سے قبل ظاہر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔‘

فرہاد کہتے ہیں: ’عابد ملہی کی شناخت پریڈ ایک اہم واقعاتی ثبوت بن جاتا اور اس کے ساتھ آپ اس کیس کو ڈیجیٹل فرانزک، ڈی این اے میچنگ کی طرف لے جاتے اور اس کے ساتھ اس کے سپرم کلیکشن کے حوالے سے جو ثبوت اکٹھے کیے گئے تھے، یہ سب چیزیں ملا کر یہ ایک مضبوط کیس تھا مگر اب میرے خیال میں اس میں صرف اور صرف پولیس نے اپنی تھوڑی سی جلد بازی کرتے ہوئے جھول پیدا کر دیا ہے۔ دراصل اس کیس کو میڈیا پر بہت اچھالا گیا اور پولیس سے ان کی کارکردگی کے حوالے سے بہت زیادہ سوالات ہونے لگے اور اس چیز سے بچنے کے لیے جلد بازی میں کچھ ایسے شواہد ضائع کر دیے گئے جو فائدہ دے سکتے تھے، لیکن ابھی بھی جس طریقے سے شواہد کو اکٹھا کیا جارہا ہے جس میں ڈیجیٹل سیکوئنسنگ ہے، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے شواہد خاص طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اہم ہے کہ مظلوم اور ملزم کے درمیان کوئی پرانی دشمنی نہیں ہے کہ ملزم کو کسی بدنیتی سے اس کیس میں ملوث کر دیا گیا ہو، یہ سب شواہد جوڑ کر مجھے امید ہے کہ پراسیکیوشن اپنے کیس کو صحیح ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور عابد کو سزا ہونے کا قوی امکان ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان