موٹروے ریپ کیس: خواتین میں عدم تحفظ کا احساس زیادہ

اس کے ذمہ دار بحثیت قوم ہم سب ہیں، جو اس وقت تک آگ کی گرمی کو محسوس نہیں کر پاتے جب تک وہ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے۔

گجرپورہ گینگ ریپ کیس کے بعد سے میں اپنے ہی ملک میں اب خود کو غیرمحفوظ محسوس کرنے لگی ہوں۔ اس معاشرے میں عورت ذات سے نفرت کو اس قدر شدید پا کر آج مجھے اپنے ہی ملک کے نظام سے خوف آنے لگا ہے۔

مجھ سمیت آج اس معاشرے کی عورت حتیٰ کہ چھوٹی بچیاں بھی غیریقینی صورت حال سے دوچار ہیں۔ گھٹن کی ایک عجیب سی کیفیت ہے۔ ہر طرف خوف ہے۔ اس بدنظمی کے باعث مایوسی اب میرے اندر بھی جذب ہونے لگی ہے۔

حالیہ واقعے نے مجھ سمیت ہمارے معاشرے کی ہر خاتون کو خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتی ہو، اس کی عمر یا ازدواجی حیثیت جو بھی ہو، تعلیم یافتہ ہو یا غیر تعلیم یافتہ، پیشہ ور ہو یا نہ ہو، ذہنی طور سے شدید متاثر کیا ہے۔

حنا نوشین جو کہ ایک ہاؤس وائف اور ماں بھی ہیں، اب اپنی بیٹی کی حفاظت کے لیے پہلے سے زیادہ فکرمند رہنے لگی ہیں۔ کہتی ہیں ’اس واقعے نے مجھے اس حد تک متاثر کیا ہے کہ میں بحیثیت ایک ماں اپنی بیٹی کو گھر سے باہر بھیجنے سے ڈررہی ہوں۔‘

ایسے واقعات کے باعث معاشرے میں پیدا ہونے والا خوف ہماری خواتین کی خود اعتمادی میں کمی کا باعث بنے گا۔ یہ ان کی ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے لیکن حنی کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اس قدر تیزی آگئی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس سے ان کی سماجی نشوونما میں خلل پیدا ہوسکتا ہے۔ ’جنسی جرائم میں اضافہ ناصرف ہماری بچیوں بلکہ بچوں کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان واقعات کی روک تھام میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔‘

خواتین کے فعال کردار کے بغیر کسی بھی معاشرے کی ترقی ممکن نہیں ہے لیکن ان کی اعلٰی تعلیم تک رسائی کو ممکن بنا کر اور انہیں معاشی طور پر مستحکم اور خودمختار بنا کر ہی ملکی ترقی کے عمل میں ان کی موثر شرکت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ معاشرے میں بڑھتا عدم تحفظ ان تمام مقاصد کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے۔

فرح عطیق، ایم فل معاشیات کی طالبہ ہیں۔کہتی ہیں ’اس واقعے نے مجھے شدید خوف زدہ کر دیا ہے۔ میں گھر کی چار دیواری میں رہوں، یونیورسٹی جاؤں حتیٰ کہ اپنے بھائی کے ساتھ بھی کسی سڑک سے گزروں، ہر دم خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگی ہوں۔ خوف کی اس فضا کے خاتمے کے لیے وہ لوگ جنہیں ہم  نے اپنے ’محافظ‘ کے رتبے پر فائز کر رکھا ہے، کسی حادثے کی صورت میں مجرم کے خلاف فوری کارروائی کی بجائے متاثرہ شخص کو ہی موردالزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ ان سے اب مزید کوئی توقع نہیں کی جا سکتی، میرا ماننا ہے کہ اپنی حفاظت کا انتظام بھی ہمیں خود کرنا ہوگا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے علاوہ متوسط طبقے کی بیشتر خواتین ایسی بھی ہیں جو غربت اور مفلسی کے باوجود اپنے اور اپنے بچوں کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے سرگرداں ہیں۔ ماریہ جوزف ایک نجی خبر رساں ادارے میں بطور آفس مینٹیننس سٹاف کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ایسے واقعات اتنی تواتر سے ہو رہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عورت کہیں محفوظ نہیں رہی۔ میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کے لیے گھر سے نکل کر کام کرنا میری مجبوری ہے۔ جب گھر سے نکلتی ہوں تو لوگوں کی بری نظریں بہت چبھتی ہیں۔ کام کے دوران جتنی دیر بچے نظروں سے دور رہتے ہیں ہردم بےسکون رہتی ہوں۔ اپنے آس پاس دیکھتی ہوں بچے بچیاں پڑھتے ہیں، اچھی ملازمت کرتے ہیں۔ میں بھی اپنے بچوں کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتی ہوں لیکن حالات دن بہ دن بظاہر خراب سے خرب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔‘

آج کی عورت جو تعلیم و روزگار سے متعلق اپنے فیصلوں میں آزاد ہے، معاشی طور سے خود مختار بھی ہے لیکن بےخوف نہیں۔ تعلیم یافتہ، نوکری پیشہ خواتین کو بھی بعض اوقات تعلیم یافتہ اور باشعور افسران کی جانب سے غیرمناسب اور طنزیہ جملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے حتیٰ کے ان کی ترقی کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔

عفرا فاطمہ ایک صحافی ہیں اور ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’حالیہ واقعے سے بھی قبل میں اپنے آپ کو باہر نکلتے ہوئے محفوظ نہیں سمجھتی تھی کیونکہ بطور صحافی میرے کام کی نوعیت ایسی ہے کہ مجھے باہر بھی جانا پڑتا ہے اور مختلف لوگوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جس میں وہ حضرات بھی شامل ہیں جو بہت عزت و احترام سے پیش آتے ہیں اور وہ بھی جو عورت کو کچھ نہیں سمجھتے اور انہیں اپنی ملکیت جانتے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ اس معاشرے میں عورت کے لیے متعدد معاملات میں عدم برداشت پایا جاتا ہے۔ میں اپنے شعبے سے متعلق بات کروں تو اگر ایک خاتون صحافی فرائض کی ادائیگی کے دوران عوامی رائے سے اختلاف کرے یا کوئی متنازع خبر دے دے تو ان پر ذاتی حملے شروع ہو جاتے ہیں۔ عوامی ردعمل صرف ان کے کام کی وجہ سے نہیں بلکہ جنس کی وجہ سے بھی آتا ہے۔ جب میں دفتر یا کسی بھی جگہ پر ہوتی ہوں تو مجھے اپنے آپ کو اپنے طور پر بہت مضبوط رکھنا ہوتا ہے۔‘

گھریلو خواتین ہوں، طالب علم ہوں یا مختلف اداروں میں چھوٹے سے لے کر بڑے عہدوں پر فائز خواتین، نیز کہ ہر عورت جنسی خوف وہراس کا نشانہ بنتی نظر آ رہی ہے۔ اس پر ظلم یہ ہے کہ اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی (جنسی ہراسانی) کے خلاف آواز اٹھائیں تو اپنی اور اپنے گھر والوں کی عزت پامال ہو جانے کے ڈر سے چپ ہونا پڑتا ہے کیونکہ انصاف کی امید تو دور کی بات ہمارے محافظ و نگہبان انہی کو موردالزام ٹھہرا دیتے ہیں۔

گجر پورہ گینگ ریپ کیس کی متاثرہ خاتون کا یہ جملہ ’مجھے مار ڈالو‘ اس بات کی بخوبی عکاسی کرتا ہے کہ آج کی عورت کو اس نظام، معاشرے اور قانون کی جانب سے انصاف ملنے پر ذرا برابر بھی یقین نہیں رہا۔ اس کے ذمہ دار بحثیت قوم ہم سب ہیں، جو اس وقت تک آگ کی گرمی کو محسوس نہیں کر پاتے جب تک وہ ہمارے اپنے گھر تک نہ پہنچ جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ