بلوچستان: جائیداد میں خواتین کو حصہ دینے کے حکم کا خیرمقدم

بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وراثت میں پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کیے جائیں اور اس کے بعد انتقال کی کارروائی کی جائے۔

مارچ 2021 کی اس تصویر میں کوئٹہ میں خواتین کے لیے ایک ٹریننگ پروگرام۔ بلوچستان ہائی کورٹ نے خواتین کو وراثت میں حصہ دینے کو لازمی قرار دیا ہے (اے ایف پی)

بلوچستان ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صوبے بھر میں کہیں بھی جائیداد کی سیٹلمنٹ کا عمل اس وقت تک نہیں کیا جائے گا، جب تک یہ یقین دہانی نہ ہو جائے کہ خواتین وارثوں کے نام اس میں شامل کر لیے گئے ہیں اور اگر کسی خاندان میں کوئی خاتون نہیں ہے تو ریونیو حکام متعلقہ تفصیلات میں خاص طور پر اس کا ذکر کریں گے۔

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے معروف قانون دان ساجد ترین کی طرف سے دائر پٹیشن پر یہ فیصلہ گذشتہ روز سنایا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا: ’وراثت میں پہلے تمام شیئر ہولڈرز بشمول خواتین کے نام منتقل کیے جائیں اور اس کے بعد انتقال کی کارروائی کی جائے۔ اگر خواتین کا نام شامل نہ کیا گیا تو انتقال کا سارا عمل کالعدم ہوجائے گا۔‘

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’ڈائریکٹر جنرل نادرا کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ متعلقہ ضلع/ تحصیل کے ریونیو آفس میں رجوع کرنے/ درخواست دینے والوں کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کریں، جو اس متوفی کا شجرہ نسب فراہم کرے گا۔‘

عدالت نے ڈی جی نادرا کو یہ حکم بھی دیا کہ ’وہ رجسٹریشن ٹریک سسٹم کے ذریعے قانونی وارث خاتون کی شادی کے بعد ان کے شوہر کے شجرہ نسب میں نام کی شمولیت کو یقینی بنائیں اور خواتین کو ان کے قانونی حق سے کسی بھی طرح محروم رکھنے سے بچانے کے لیے والد کی طرف سے بھی شجرہ نسب فراہم  کرے۔‘

دو رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے: ’قبل اس کے کہ ہم فیصلے کی طرف جائیں یہ بات ہمیں نوٹ کر لینی چاہیے کہ  ہم اکیسویں صدی کا حصہ اور تعلیم یافتہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی تقریباً ہر فرد نے خواتین شیئر ہولڈرز کو ان کے حق وراثت سے محروم رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘

’اب وقت آگیا ہے کہ ہم ہر فرد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے اس عمل کی حوصلہ شکنی کریں اور اسے روکیں۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ’خواتین کے حقوق کا تحفظ قرآن مجید میں کیا گیا ہے، جس سے انکار کسی صورت نہیں کیا جاسکتا لہذا خواتین اپنے متوفی کی میراث میں حقدار ہیں۔‘

عدالت عالیہ نے کہا: ’کسی بھی خاتون حصہ دار کو اس کے حق سے دستبرداری نامہ/ تحفے، دلہن کا تحفے، نگہداشت الاؤنس، کسی مخلوط معاوضے میں کیش کی ادائیگی یا کسی بھی ذریعے سے اس کے متوفی مورث کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ان وجوہات یا کسی بھی طرح خاتون وارث کو میراث سے محروم کیا گیا تو انتقال کا وہ سارا عمل کالعدم ہو جائے گا۔‘

فیصلے میں کہا گیا: ’سیکریٹری/ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو اس ضمن میں یہ بات نہ صرف یقینی بنائیں گے بلکہ اپنے ماتحت ریونیو /سیٹلمنٹ اہلکاروں کو بھی اس کی ہدایت کریں گے کہ کسی بھی علاقے میں سیٹلمنٹ آپریشن شروع کرنے سے قبل مطلوبہ علاقے کی مقامی زبان اور اردو میں کتابچہ/ ہینڈبلز، گرلز سکولوں، کالجز، ہسپتالوں میں لیڈی کانسٹیبل یا لیڈی ٹیچر یا متعلقہ بنیادی صحت مرکز ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کی نرس یا مڈ وائف کے ذریعے تقسیم کرائیں گے۔‘

مزید کہا گیا: ’سیٹلمنٹ والے علاقوں کے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو بھی حکم دیا جائے کہ وہ ان علاقوں کی نہ صرف مساجد اور مدرسوں میں لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے اعلان کروائیں بلکہ سیٹلمنٹ آپریشن والے مقررہ علاقوں کی حدود میں نقاروں کے ذریعے گلیوں اور قرب و جوار میں بھی اعلانات کروائیں۔ ‘

سکریٹری/ ممبر بورڈ آف ریونیو کو مزید حکم دیا گیا کہ وہ ایڈیشنل سیکرٹری رینک  کے افسر کی نگرانی میں ریونیو آفس میں ایک شکایت سیل قائم کریں گے تاکہ سیٹلمنٹ آپریشن و وراثت کے  عمل میں غیر ضروری تاخیر  سے بچا جا سکے اور اس کے ذریعے غیر قانونی مراعات کے امکان کو بھی رد کیا جا سکے۔

عدالت نے کہا:  ’ممبر بورڈ آف ریونیو اور اس کے ماتحت عملے  کو سختی سے حکم دیا جاتا ہے کہ قانونی وارث کو محروم رکھنے کی شکایت موصول ہوئی تو ایسے غلط کام کرنے والوں کے خلاف پی پی  سی 498  اے کے تحت کیس درج کرکے قانونی کارروائی شروع کی جائے گی ۔ ‘

اس سیکشن کے تحت کم سے کم سزا دس سال یا پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنا شامل ہے۔

عدالت نے کہا: ’سول کورٹ کو بھی حکم دیا جاتا ہے کہ وراثت سے متعلق دائر زیرالتوا مقدمات کا فیصلہ اس حکم کے موصول ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر کر دیا جائے یا پھر زیر التوا کیسز کے لیے یہ مدت چھ ماہ سے زائد نہیں ہونی چاہیے جب کہ اگر کوئی نیا مقدمہ قائم ہوتا ہے تو اسے بطور وراثت کا مقدمہ/اپیل/ رویژن/ پٹیشن درج کیا جائے اور اس کا فیصلہ تین ماہ میں بغیر مزید وقت دے کر کر دیا جائے۔ ‘

’اسی طرح ایپلٹ کورٹ اور نظرثانی کورٹ میں زیر التوا تمام درخواستوں کو ترجیحاً ایک ماہ میں نمٹا دیا جائے  لیکن تاخیر کی صورت میں درخواست کو دو ماہ سے زائد التوا میں نہ رکھا جائے اور عدالت عالیہ کے انسپکشن ٹیم کے ممبران احکامات پر من وعن عمل درآمد کے لیے سرکلر جاری کریں۔‘

عدالت عالیہ کی جانب سے رجسٹرار کو بھی حکم دیا گیا کہ ’اگر کوئی بھی شکایت متاثرہ شخص کی جانب  سے کسی ریونیو سیٹلمنٹ اہلکار یا کسی بھی غیر سرکاری فرد کی بابت موصول ہوتی ہے کہ اس نے وراثت یا سیٹلمنٹ میں قانونی خاتون وارث کو محروم رکھا ہے تو درخواست ہمارے چیمبر میں غور کے لیے پیش کی جائے اور اس پر مناسب حکم دیے جانے کے بعد اسے فوراً سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کی اطلاع اور عملدرآمد کے لیے بھجوایا جائے۔‘

مزید کہا گیا کہ ’کوئی بھی درخواست یا شکایت جو اس فیصلے سے متعلق درج ہوتی ہے تو اسے ایگزیکیوشن درخواست کے طور پر لیا جائے گا، جو بعد ازاں سول متفرقہ درخواست کے طور پر یا تو سی پی سی 1908  کے تحت چلائی جائے گی یا توہین عدالت ایکٹ 2003 کے تحت اور  سیکشن 200 Cr PC کے تحت کریمنل کمپلینٹ کے طور پر چلائی جائے گی۔ ‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قبل ازیں جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کیس کے حقائق سے متعلق ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ ’درخواست گزار جو ایک وکیل، سیاسی کارکن  اور ایک سوشل ورکر بھی ہیں، وہ اس درخواست کے ذریعے عوامی مفاد میں اپنی درخواست کے حق میں فیصلہ چاہتے ہیں اور اس بنیاد پر کہ عموماً پورے ملک اور خصوصاً بلوچستان میں خواتین ورثا  کے حق کے بارے میں قرآنی احکامات اور نہ ہی آئین پاکستان میں درج قوانین پر عمل کیا جاتا  ہے۔‘

بلوچستان کے پیچیدہ قبائلی نظام میں اکثر و بیشتر خواتین کو ان کی جائز قانونی وراثت سے محروم  رکھا جاتا ہے اور جب بھی کیس متوفی کی جائیداد کی تقسیم ہوئی ہے تو خواتین کو بلا کسی جائز وجہ سے یا تو نظر انداز کرکے یا پھر وارثین کی فہرست سے ان کا نام نکال کر انہیں محروم رکھا جاتا ہے اور اس طرح کے کیس میں یہ چیز بھی دیکھی گئی ہے کہ خاتون قانونی وارث کو تحفے یا دستبرداری نامہ کا بہانہ بنا کر محروم رکھا گیا ہے۔

اسی طرح یہ بہانہ بنا کر بھی خواتین کو محروم رکھا گیا ہے کہ ان کا قانونی حصہ دلہن کے تحفوں یا نگہداشت الاؤنس کی شکل میں پہلے ہی ادا کیا جا چکا ہے جب کہ قبائلی نظام میں مرد (بیٹے) کو حقیقی جانشین گردانا جاتا ہے، اس لیے شجرہ نسب میں خواتین کا نام جانشین کے طور پر شامل نہیں ہوتا کیونکہ ایسا کرنا غیرت کا سوال بنتا ہے۔

یہ معاملات وراثت کے انتقال کے وقت خواتین کو ان کے حقوق سے محرومی کرنے کا موجب بنتے ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کوئی خاتون اپنے حق کے لیے دعویٰ کرتی ہے تو مرد رشتہ دار مشتعل ہوجاتے ہیں اور جبر کا سہارا لیتے ہوئے ناخوشگوار واقعات یا جرائم کا موجب بنتے ہیں جیسا کہ بعض اوقات ان کی زبردستی شادیاں کر دی جاتی ہیں یا انہیں جبری گمشدہ کردیا جاتا ہے یا پھر جبراً انہیں شادی سے روک دیا جاتا ہے۔

صوبہ بلوچستان میں جاری سیٹلمنٹ آپریشن کے پس منظر میں یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ سیٹلمنٹ/ ریونیو اہلکاروں نے متعلقہ خاندانوں کے مردوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے ان خاندانوں سے خواتین قانونی وارثین کے بارے میں پوچھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں  کی۔ 

بلوچستان ہائی کورٹ نے دوسری جانب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل، جن کی معاونت سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو قمر مسعود، ماہر قانون دان جاوید اقبال اور سیکریٹری (جوڈیشل اینڈ انکوائری) محکمہ بورڈ آف ریونیو کر رہے تھے، کا موقف سامنے لاتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ خواتین کو ان کے وراثت کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔

 ان کا کہنا تھا کہ محکمہ ریونیو نے سیٹلمنٹ کے عمل کی شفافیت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے ہیں، ان کی جانب سے عدالت کو رپورٹ بھی پیش کی گئی جس میں ریونیو اہلکاروں کو جائیداد کی منتقلی کے لیے چند مشوروں اور تجاویز کے ساتھ مجوزہ طریقہ کار اپنانے کے لیے کہا گیا ہے۔

اس کیس کے محرک اور معروف سیاستدان اور قانون دان ساجد ترین ایڈووکیٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب سیٹلمنٹ ہوتا ہے تو میں نے دیکھا کہ اس میں خواتین کا کوئی حصہ نہیں رکھا جاتا، جس پر میں نے کیس کرنے کا فیصلہ کیا۔ ‘

ساجد ترین نے بتایا: ’ہماری عدالتوں میں آج بھی سینکڑوں کیس چل رہے ہیں، جن میں سے بعض میں کیس کرنے والی خاتون یا مرد وفات بھی پاچکے ہیں، جو میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ مفاد عامہ کا مسئلہ تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے میں اس مسئلے کے حل کی ضرورت اب بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، جس کی بنا پر میں نے خود یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ ‘

ساجد کے مطابق: ’بلوچستان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی خواتین کے لیے ہے، جنہیں ان کے ورثا جائیداد میں حصہ نہیں دے رہے ہیں۔‘

انہوں نےکہا: ’اس فیصلے میں عدالت نے ہماری استدعا منظور کرتے ہوئے نادرا کو محکمہ ریونیو کے ساتھ منسلک کردیا ہے اور فیصلہ سازی کی مدت بھی تین مہینے رکھی ہے۔‘

ساجد کہتے ہیں: ’یہ فیصلہ خواتین کو حقوق کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ دوسری جانب اگر اس فیصلے کی کوئی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف توہین عدالت کا کیس بن سکتا ہے۔‘

ادھر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی صائمہ ہارون سمجھتی ہیں کہ بلوچستان ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی اہم ہے، لیکن اس کو بہت پہلے آنا چاہیے تھا۔

صائمہ ہارون نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’ہمارے معاشرے میں خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے سے روکنے کے لیے بہت سے طریقے استعمال ہوتے ہیں، جو ان کی ترقی میں بھی رکاوٹ ہیں۔‘

صائمہ کے بقول: ’خواتین کو مستحکم کرنے کے لیے یہ ایک اہم قدم ہے اور جو نکات عدالت نے دیے ہیں، اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے وہ اہمیت کے حامل ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اندرون بلوچستان اور بڑے شہروں میں ایسے بہت سے کیسز ہمارے مشاہدے میں آئے ہیں، جن میں خواتین کو جائیداد کے حق سے محروم رکھا گیا۔ ‘

انہوں نے سوال کیا: ’اگر کوئی خاتون شادی کے بعد جائیداد سے محروم کردی جاتی ہے تو کیا وہ اپنے بچوں کو بہتر تعلیم، بہتر زندگی اور اپنی صحت کے مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ ‘

ادھر عورت فاؤنڈیشن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر علاؤ الدین خلجی نے خواتین کے جائیداد کے حق کے حوالے سے فیصلے کو ’خوش آئند ‘ اور ’بروقت ‘ قرار دیا ہے۔

علاؤ الدین خلجی نے انڈپیںڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’بلوچستان کے اکثر علاقوں میں خواتین کو جائیداد میں حق نہیں دیا جاتا بلکہ بعض کیسز میں ان سے لکھوالیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی جائیداد تحفے میں دے دی ہے۔ ‘

انہوں نے بتایا: ’اگر کسی بھی خاتون کو مستحکم کرنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو کوئی اختیار دیا جائے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انہیں ان کے جائز حقوق سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔‘

علاؤ الدین نے بتایا کہ ’ہم نے 2010 میں ایک پروجیکٹ کیا تھا، جس میں ہم نے 24 خواتین کو جائیداد میں حق دینے کا ہدف رکھا تھا، لیکن یہ تعداد بہت بڑھ گئی تھی اور جن میں سے بہت کو ہماری کوششوں سے ان کا حق بھی مل گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس فیصلے سے نہ صرف خواتین کا ایک دیرینہ اور جائز حق جو انہیں پاکستان کے آئین اور اسلام نے بھی دے رکھا ہے، ملنے کی راہ ہموار ہوگی بلکہ ان کو ہر حوالے سے مستحکم کرنے کا باعث بھی بنے گی۔‘

عدالت عالیہ نے حکم دیا ہے کہ فیصلے کی کاپیاں رجسٹرار اور ممبر انسپیکشن ٹیم ماتحت سول، اپیلٹ اور رویژنل کورٹس کو منتقل کرے گی جبکہ سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ کاپیاں تمام کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کولیکٹرز، تحصیلدار ریونیو/سٹیل منٹ آفیسرز کو منتقل کریں گے۔

اسی طرح چیئرمین نادرا اور ریجنل ڈائریکٹر جنرل نادرا  آفس بلوچستان، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ بلوچستان، وائس چانسلرز پبلک سیکٹر یونیورسٹیز، ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشن بلوچستان اور ڈائریکٹر جنرل پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو بھی اطلاع و عمل درآمد کے لیے اس فیصلے کی کاپیاں فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین