’نواز شریف کی واپسی کے لیے عارضی دستاویزات دی جائیں گی‘

مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق برطانوی محکمہ داخلہ کی جانب سے ویزے کی مدت میں توسیع سے معذرت کے بعد سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ہے۔

مسلم لیگ ن کی ترجمان  مریم اورنگزیب کے مطابق  نوازشریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ہے (تصویر : اے ایف پی)

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے برطانوی محکمہ داخلہ کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی برطانیہ قیام میں توسیع کی درخواست مسترد کیے جانے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپسی کے لیے عارضی ڈاکیومینٹس دیے جائیں گے اور وہ پاکستان آنے کے بعد کیسوں کا سامنا کریں گے۔

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنےعلاج کے لیے اپنے قیام کی مدت میں توسیع کی درخواست دے رکھی تھی، جس پر فیصلہ دیتے ہوئے برطانوی محکمہ داخلہ نے یہ درخواست مسترد کر کے انہیں اپیل کا حق دیا ہے۔

 سابق وزیر اعظم، جو پلیٹ لیٹس کم ہونے کے بعد علاج کے لیے برطانیہ گئے تھے، نے وہاں علاج مکمل نہ ہونے پرمزید قیام کے لیے قانونی اجازت کی درخواست دی تھی۔

کیا نواز شریف کا ویزا زائد المیعاد ہو گیا ہے؟

صحافی سید کوثر عباس نے ایک ٹویٹ میں نواز شریف کے ویزے کے تفصیلات درج ہیں۔ اسے مریم نواز نے بھی ری ٹویٹ کیا ہے۔

کوثر عباس کے مطابق نواز شریف کے پاس برطانیہ کا دس سالہ وزٹ ویزا تھا اور ابھی اس ویزے کے چار سال باقی ہیں، لیکن وہ چونکہ وزٹ ویزا پر برطانیہ گئے ہیں، اس لیے برطانوی قانون کے مطابق وہ مسلسل چھ ماہ تک ہی وہاں رہ سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں برطانیہ سے باہر جانا ضروری ہوتا ہے۔ البتہ انہیں ہر چھ ماہ بعد توسیع ملتی رہی ہے۔ 

تاہم اس بار برطانیہ نے ان کی قیام کی مدت میں توسیع سے معذرت کر لی ہے، جس کے خلاف نواز شریف نے اپیل دائر کر دی ہے۔ 

نواز شریف کی درخواست مسترد کیے جانے پر اپنے ٹی وی بیان میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف کے پاس دو تین آپشنز ہیں، پاکستان آنے کے بعد وہ جیل میں جائیں گے اور کیسوں کا سامنا کریں گے۔ انہیں جھوٹ بولنے پر برطانوی عدالتوں سے سزا بھی ہو سکتی ہے، جس طرح سے وہ وہاں چل پھر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بیمار نہیں ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’نواز شریف کو ہائی کورٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر 2019 میں لندن جانے کی اجازت دی گئی تھی، انہیں عارضی ڈاکیومنٹس دیے جائیں گے تاکہ وہ واپس آ سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے نوازشریف کے ویزے میں توسیع سے معذرت کی ہے اور محکمہ داخلہ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ نوازشریف اس فیصلے کے خلاف امیگریشن ٹریبونل میں اپیل کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے وکلا نے برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں اپیل دائر کردی ہے اور برطانوی امیگریشن ٹریبونل میں دائر اپیل پر فیصلہ ہونے تک محکمہ داخلہ کا حکم غیرموثر رہے گا جبکہ اپیل پر فیصلہ ہونے تک نوازشریف برطانیہ میں قانونی طورپر مقیم رہ سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق برطانوی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد اب نواز شریف کے پاس دو آپشن ہیں، ایک تو یہ کہ وہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ میں فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کریں اور اگر وہاں سے بھی درخواست مسترد ہوجائے تو وہ برطانوی عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان