بھارت میں ایک شخص کا سانپ سے انوکھا ’بدلہ‘

کھیت میں کام ختم کرنے کے بعد گھر لوٹنے والے کشور بدرا کو جب سانپ نے کاٹا تو انہوں نے ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سانپ سے ’بدلہ‘ لینے کی ٹھانی۔

2020 کے ایک سروے کے مطابق بھارت میں ہر سال اوسطاً 58 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں (اے ایف پی)

بھارت میں ایک شخص کو گھر جاتے ہوئے سانپ نے ڈس لیا جس پر اس شخص نے انتقاماً سانپ کو اتنی بار کاٹا کہ وہ ہلاک ہو گیا۔

یہ واقعہ مشرقی بھارت کی ریاست اڑیسہ کے ضلع جاج پور کے گمبھاریپٹیا گاؤں میں بدھ کو پیش آیا جب دھان کے کھیت میں کام ختم کرنے کے بعد گھر واپس لوٹنے والے کشور بدرا کو سانپ نے ٹانگ پر کاٹ لیا۔

سانپ کے کاٹنے کے فوراً بعد ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہوتا ہے۔ تاہم بدرا نے ’بدلہ‘ لینے کی ٹھانی اور پلٹ کر سانپ کو پکڑا اور اسے اتنی بار کاٹا کہ وہ موقعے پر ہلاک ہو گیا۔

انہوں نے سرکاری نیوز ایجنسی ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ کو بتایا: ’کل رات میں جب پیدل گھر لوٹ رہا تھا تو میری ٹانگ پر کسی چیز نے کاٹ لیا۔

’میں نے اپنی ٹارچ آن کی اور دیکھا کہ یہ ایک زہریلا کریٹ نسل کا سانپ ہے۔ بدلہ لینے کے لیے میں نے سانپ کو اپنے ہاتھوں میں پکڑا اور اسے بار بار کاٹا جس سے یہ وائپر موقعے پر ہلاک ہوگیا۔‘

بدرا پھر گاؤں والوں کو دکھانے کے لیے مردہ سانپ کو اپنے ساتھ لے آئے اور دنیا کے سب سے زہریلے سانپوں میں سے ایک کے کاٹنے کے باوجود خود کے بالکل ٹھیک ہونے کا دعویٰ کیا۔

انہوں نے ہسپتال میں علاج کرانے سے انکار کر دیا اور روایتی علاج کو ترجیح دی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا: ’اگرچہ مجھے انتہائی زہریلے کریٹ سانپ نے کاٹا لیکن مجھے کوئی مسٔلہ درپیش نہیں ہوا۔ میں گاؤں کے قریب رہنے والے سپیرے کے پاس گیا جس کے علاج سے میں بالکل ٹھیک ہو گیا۔‘

کریٹ تین فٹ لمبا ایک زہریلا سانپ ہوتا ہے جو جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ رات کے وقت زیادہ متحرک ہوتا ہے۔

سانپ کا کاٹنا عام طور پر خطرناک ہوتا ہے اور زہریلے سانپ کے کاٹنے سے کسی شخص کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے یا وہ معذور ہو سکتا ہے۔

بھارت میں سانپ کے کاٹنے سے ہونے والی اموات کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جہاں 2020 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ہر سال اوسطاً 58 ہزار افراد سانپ کے کاٹنے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا