جسمانی طور پر معذور نوجوان محقق مدثر بصری کہتے ہیں کہ پاکستان میں 80 سے زائد اقسام کے سانپ پائے جاتے ہیں لیکن ان میں سے صرف تقریباً 10 اقسام واقعی خطرناک ہیں۔
سفیر احمد پیشے کے لحاظ سے پیسٹ کنٹرول سے وابستہ ہیں۔ کام کے دوران جب مزدور سانپ دیکھ کر بھاگ جاتے یا انہیں مار دیتے تو سفیر نے ان پر تحقیق شروع کی۔