دس سال سے قدیم سکے جمع کرنے والے لاڑکانہ کے نوجوان

بچپن سے ہی سکوں کا شوق رکھنے والے عزیز اللہ کے پاس 200 سے زائد پرانے سکے ہیں جن میں سب سے قدیم سکہ تقریاً دو ہزار سال پرانا ہے۔

عزیز اللہ کٹپر سمجھتے ہیں کہ سکوں کو جمع اور محفوظ کرنا ایک بڑا سبجیکٹ ہے، جس پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے نوجوان عزیز االلہ کٹپر نے سکے جمع کرنے کے اپنے شوق کو ہی اپنا پیشہ بنالیا ہے اور اب ان کے پاس دو ہزار سال قدیم سکے موجود ہیں۔

تعلقہ نو ڈیرو کے رہائشی عزیز اللہ کٹپر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم ایس آرکیالوجی کے آخری سیمسٹر میں پڑھتے ہیں اور ان کے تھیسز کا موضوع بھی سکوں کی تاریخ ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے عزیز اللہ نے کہا کہ انہیں سکے جمع کرنے کا بچپن سے ہی شوق تھا۔ ’میرے پاس دو ہزار سال قدیم سکے ہیں، اس وقت تقریباً 200 سکے موجود ہیں جنہیں جمع کرنے میں 10 سال لگ گئے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا: ’کشان، عرب، مغل اور برطانوی ادوار کے سکے جمع کیے ہیں جو مجھے پرانے داڑو اور دیگر جگہوں سے ملے ہیں۔ کچھ سکے لوگوں سے پیسوں کے عوض خریدے ہیں۔ میرے  پاس سب سے قدیم سکے کشان دور کے ہیں جو مجھے ضلع لاڑکانہ کے جھوکر کے داڑو سے ملے تھے۔‘

 

ان قدیم سکوں کی تصدیق کے بارے میں عزیز اللہ بتاتے ہیں کہ سکوں کی تاریخ یا اصل ہونے کا معلوم کرنے کے لیے آرکیالوجی میں دو طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایک ریلیٹو ڈیٹنگ میتھڈ جس کے مطابق جس جگہ یا داڑو سے کوئی سکہ ملتا ہے تو اس جگہ اور داڑو کی تاریخ کے حساب سے سکے کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس دور کا ہے۔

دوسرا طریقہ ایبسولوٹ ڈیٹنگ میتھڈ ہے جس میں سائنٹیفک مٹیریل اور کیمیکلز استعمال کرکے معلوم کیا جاتا ہے کہ یہ سکے کب بنے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عزیز اللہ کٹپر نے بتایا: ’بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں ہمارے پاس ایسی کوئی بھی لیب دستیاب نہیں ہے جس میں یہ طریقہ استعمال کرکے ہم معلوم کر سکیں کہ یہ سکہ کب بنا تھا۔ اس وجہ سے پاکستان میں اکثر ریلیٹو میتھڈ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ میں نے بھی اس ریلیٹو میتھڈ کی بنیاد پر پتہ لگایا کہ یہ سکے کن ادوار کے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میں اس وقت تھیسز پر تحقیق کر رہا ہوں جو سکوں کی تاریخ کے بارے میں ہے۔ سندھی ادب میں سکوں کے بارے میں  موجود معلومات کو مرتب کرکے تجزیہ کرنا ہے۔ اس کے علاہ ایک چھوٹے سے پراجیکٹ پر بھی کام رہا ہوں۔ ایک چارٹ بنا کر سندھ کی ڈھائی سو سال پرانی سکوں کی تاریخ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس میں اس وقت تک تقریباً ایک سو انٹریز کر چکا ہوں، جب یہ مکمل ہوجائے گا تو ہم ایک ہی نظر میں دیکھ سکیں گے کہ کس دور میں یہ سکہ کس بادشاہ نے بنوایا تھا، سکے کا وزن کتنا ہے اور وہ سونے یا چاندی وغیرہ کا ہے۔‘

عزیز اللہ کہتے ہیں کہ سکے جمع کرتے کرتے ان سے وابستہ دیگر نوادرات بھی جمع کرنے کا شوق پیدا ہوا۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے جو کچھ پرانی چیزیں، نوادرات تھیں وہ بھی جمع کرنا شروع کردیں۔ تو میں نے ہمارے خاندان کے کچھ نوادرات سے شروعات کی۔ اس میں میرے پاس ڈیڑھ سو سال پرانی تلوار، دو سو سال پرانا ہاتھ سے لکھا ہوا قلمی قرآن ہے، اس کے علاوہ چھوٹی بڑی گھریلو استعمال کی چیزیں ہیں جو سو سو سال پرانی ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ یہ سکے تاریخ کے بارے میں قیمتی معلومات دیتے ہیں کیونکہ تاریخ میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو لکھی نہیں گئیں یا لکھی گئی ہیں تو وہ مسخ شدہ ہیں تو سکے ایک طرح کا ذریعہ معلومات ہے جو آپ کو درست معلومات دیتے ہیں۔

عزیز اللہ کٹپر سمجھتے ہیں کہ سکوں کو جمع اور محفوظ کرنا ایک بڑا سبجیکٹ ہے، جس پر بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جمع کیے گئے سکوں کی مالیت کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان سکوں کی قیمت کروڑوں روپے ہے کیونکہ جو سکا جتنا پرانا ہے اس کی قیمت بھی اتنی زیادہ ہے۔

یہ اشیا بلیک مارکیٹ میں خریدی یا بیچی جاتی ہیں اور کچھ عالمی میوزیم بھی یہ سکے خریدتے ہیں۔ ’میں سکے اپنے پاس ہی محفوظ رکھوں گا اور تحقیق کروں گا کیونکہ ان سکوں کو پیسوں میں تولنے کی بجائے تاریخ کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں لوگ ان چیزوں کی قدر نہیں کرتے، ان کی نظر میں ان چیزوں کی پانچ سو یا ایک ہزار روپے قیمت ہوگی لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ان کی کروڑوں میں قیمت ہے لیکن اس سے بھی زیادہ  اہمیت اس بات کی ہے کہ ان سے ہمیں جو تاریخ اور معلومات ملتی ہیں اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس لیے سکوں کو پیسوں میں تولنے کی بجائے تاریخ کے تناظر میں تولنا زیادہ بہتر ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا