بیک بی جے 40: پاکستان میں تیار رینگلر جیسی شکاری جیپ

دو ہزار سی سی اور 218 ہارس پاور کے ساتھ پاکستان میں بننے والی یہ جیپ پرانی اور نئی ٹیکنالوجی کا ایک خوبصورت اور طاقتور امتزاج ہے۔

گاڑی کی شکل تقریباً رینگلر جیسی ہے، کہیں کہیں ہمر کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب اس جیپ میں تمام جدید ترین فیچرز موجود ہیں(تصویر: بیک پاکستان فیس بک پیج)

رینگلر جیسی جیپ، شکاری حضرات یا آف روڈنگ (پہاڑوں، برف یا صحرا میں گاڑی چلانا) کرنے والوں کی ہمیشہ سے ترجیح رہی ہے۔

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا، کشمیر یا گلگت بلتستان بلکہ بھارت تک بھی جائیں گے تو جیپ شوق کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور معاشی برتری کا نشان سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان میں 2021 سے پہلے کئی جیپیں آئیں لیکن وہ فوجی کوٹے کی تھیں یا پھر کسی نے ذاتی طور پر کافی خرچہ کرکے انہیں امپورٹ کروایا۔  کسٹم اور آرمی کی جانب سے نیلام کی گئی جیپیں بھی لوگوں نے خریدیں اور انہیں اپنی نگرانی میں بنوا کر شوق پورا کیا۔

دیسی لوگوں کے اسی شوق کو دیکھتے ہوئے بھارت میں مہندرا کمپنی نے 2010 سے آف روڈ جیپ بنانا شروع کی اور اب پاکستان میں سازگار انجینیئرنگ نامی ادارہ چینی کمپنی بیک (بی ای آئی سی ۔ بیجنگ آٹوموٹیو انڈسٹری ہولڈنگ کمپنی) کے ساتھ مل کر ایک ایس یو وی جیپ لانچ کرنے جا رہا ہے۔ بیک وہ کمپنی ہے جو چین میں ہنڈائی اور مرسڈیز گاڑیاں بھی تیار کرتی ہے جب کہ لاہور میں واقع سازگار نے تاحال اپنے آپ کو رکشوں کے میدان میں منوایا ہے۔

بیک پاکستان کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کمپنی کی جانب سے انتظار ختم ہونے کی خوشخبری سناتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ بہت جلد بی جے فورٹی کی بکنگ شروع ہو جائے گی اور یہ کہ پاکستان میں اس کی پروڈکشن کامیابی سے جاری ہے، ویڈیو یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

قیمت؟ یہ اہم سوال ہے لیکن پہلے جان لیا جائے کہ بی جے فورٹی کس چیز کا نام ہے۔

فیچرز کیا ہیں؟

دو ہزار سی سی اور 218 ہارس پاور کے ساتھ پاکستان میں بننے والی یہ جیپ پرانی اور نئی ٹیکنالوجی کا ایک خوبصورت اور طاقتور امتزاج ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے دوران ولیز نے جو جیپیں بنائیں، پھر رینگلر یا دوسری جیپیں سامنے آئیں، سب میں گاڑی کی روایتی چوکور ڈبے جیسی شکل برقرار رہی، وہ نہیں ہوگی تو گاڑی ایس یو وی کہلا سکتی ہے جیپ نہیں۔

بی جے فورٹی میں بھی وہی باکسی شکل برقرار ہے لیکن اسے ایک خوبی کے طور پر اپنایا گیا ہے۔ گاڑی کی شکل تقریباً رینگلر جیسی ہے، کہیں کہیں ہمر کی یاد دلاتی ہے، دوسری جانب اس جیپ میں تمام جدید ترین فیچرز موجود ہیں۔

17 انچ رم اور چوڑے ٹائروں والی یہ جیپ ڈیجیٹل فرنٹ پینل (سپیڈو میٹر سمیت مکمل سامنے کا ڈسپلے) اور نو انچ فلوٹنگ ڈسپلے کے ساتھ ہے۔ کروز کنٹرول، ملٹی میڈیا سٹیئرنگ سمیت تمام وہ خوبیاں جو کسی بھی نئی ایس یو وی میں آتی ہیں، اس میں آپ کو ملیں گی۔

جو فیچر حیران کن ہے وہ یہ ہے کہ اسے آپ ایک مکمل شکاری جیپ میں بدل سکتے ہیں۔ فائبر کی چھت ہے، وہ لگی رہے تو مکمل ایس یو وی، فُل اے سی، ہیٹر جو مرضی چلائیں، چھت اتارنی ہو تو دو سے تین منٹ میں اتر جائے گی۔ کینوس کا سوفٹ ٹاپ (چھت) بھی ملتی ہے، کہیں آف روڈ جانا ہے تو وہ لپیٹ کر ساتھ بھی لے جائی جا سکتی ہے، اوریجنل چھت لیکن گھر پر یا کسی ٹھکانے پر چھوڑنے والی چیز ہے اسے ساتھ گھما نہیں سکتے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس جیپ کی ونڈ سکرین سامنے سے فولڈ ہو کے نیچے ہو سکتی ہے، دروازے نکالے جا سکتے ہیں، مکمل کھلی ہوادار شکاری گاڑی بننے میں اسے زیادہ سے زیادہ 20 منٹ لگیں گے۔

بیک بی جے فورٹی میں ایک ویرینٹ ڈیزل بھی ہے، وہ دوہزار سی سی لیکن نیچرلی ایسپریٹڈ ہوگا اور اس میں آٹومیٹک کا آپشن نہیں ہے، وہ صرف مینوئل میں آتا ہے۔ فی الوقت کمپنی صرف پیٹرول آٹومیٹک دو ہزار سی سی ٹربو مارکیٹ میں لا رہی ہے۔

سرخ رنگ کی جیپ کا انٹیریئر سرخ اور کالے کنٹراسٹ میں ہو گا، باقی تمام گاڑیوں کا انٹیریئر کالا ہو گا۔

ایئر بیگز بھی اس جیپ میں موجود ہوں گے اور پش سٹارٹ وغیرہ سمیت ہر وہ معاملہ جو کسی اچھی ایس یو وی میں ہو سکتا ہے، اس میں آپ کو ملے گا۔  

قیمت کیا ہے؟

کمپنی سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ قیمت فی الوقت ہم نہیں بتا سکتے۔ 

مختلف کار ویب سائٹس پر اس جیپ کی قیمت کے اندازے 66 سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہیں۔

بیک پاکستان ہی کے فیس بک پیج پر ایک صارف کی جانب سے پوچھا گیا کہ ’ہماری اطلاعات کے مطابق اس گاڑی کی قیمت 68 لاکھ 50 ہزار ہے۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو قیمت کافی زیادہ ہے۔ یہ گاڑی 50 لاکھ سے زیادہ کی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘

بیک پاکستان کے آفیشل پیج سے دیا گیا جواب یہ تھا: ’یہ ٹو پوائنٹ زیرو لیٹر ٹربو چارج انجن کے ساتھ ہوگی اور اس کا سائز تقریباً پاکستان میں موجود سب ایس یو ویز سے بڑا ہے، کون سی برانڈ نیو ایس یو وی 50 لاکھ کی آتی ہے، یا ایک کروڑ کی بھی آتی ہے تو بتا دیں؟‘

اس جواب سے اشارہ ملتا ہے کہ قیمت اسی رقم کے آس پاس ہے جو خبریں صارف بتا رہے ہیں۔

چند دیگر جوابات میں بھی پیج ایڈمن کا یہی کہنا تھا کہ حتمی قیمت کا اعلان اگلے ماہ کیا جائے گا اور فی الوقت کمپنی کا تمام فوکس اسی گاڑی کی پروڈکشن پر ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی