طیبہ فاروق ویڈیوز کے فرانزک ٹیسٹ کے لیے تیار

جسٹس (ر) جاوید اقبال پر ہراسانی کا الزام عائد کرنے والی طیبہ فاروق نے وزیرِاعظم سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال پر ہراسانی کا الزام عائد کرنے والی طیبہ فاروق نے وزیرِاعظم عمران خان سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے بھیجے گئے سوالات کے ویڈیو جوابات میں طیبہ فاروق نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہمراہ چیئرمین نیب کی متنازع ویڈیوز اور آڈیوز کا فرانزک ٹیسٹ کروانے کے لیے تیار ہیں۔

چیئرمین نیب اور ایک خاتون کے درمیان متنازع ویڈیوز چند روز قبل ’نیوز ون‘ ٹی وی چینل کے توسط سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں۔ ایک ویڈیو میں مخاطب خاتون ریکارڈنگ کے آخر میں کیمرہ اپنے چہرے پر لاتی ہوئی دیکھی جا سکتی ہیں۔

یہ خاتون طیبہ فاروق ہیں، جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کے سوالات کے جوابات میں کہا: ’جب میں نے دیکھا کہ میری ازدواجی زندگی متاثر ہو رہی ہے تو میں نے ان کی ریکارڈنگ کی۔‘

ان کا کہنا تھا: ’یہ کہا جا رہا ہے کہ ریکارڈنگ میں آپ بہت فرینڈلی ہیں۔ لگ رہا ہے کہ آپ کا تعلق ہے۔ میرا ان کے ساتھ تعلق بالکل نہیں تھا۔ تعلق ہوتا تو اس وقت سب ٹھیک ہوتا۔ اس وقت میں میڈیا پر رو نہ رہی ہوتی۔ میں جیل کاٹ کر نہیں آتی۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میرے فرینڈلی ہونے کا مقصد یہ تھا کہ میں ان کو ایکسپوز کر سکوں۔ ان کی چیزیں ریکارڈ کر سکوں۔ اگر میں فرینڈلی نہیں ہوتی تو کبھی بھی ریکارڈ نہ کر سکتی۔‘

طیبہ فاروق نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس اور بھی ریکارڈنگز موجود ہیں جو منظرِعام پر نہیں آئیں اور یہ کہ ان کی ویڈیوز اور آڈیوز میں ’کچھ نقلی یا من گھڑت نہیں۔‘

نیوز ون پر جمعرات کو متنازع ویڈیوز نشر ہونے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، چیئرمین نیب کے حق میں وضاحتیں دے رہی ہے تو حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

نیب نے متنازع ویڈیو کوایک بلیک میلنگ گروہ کا منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے ہفتے کو گروہ کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا۔

630 صفحات پر مشتمل ریفرنس میں طیبہ فاروق اور ان کے شوہر فاروق نول کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا۔ ریفرنس کے مطابق اس گروہ نے چیئرمین نیب سمیت متعدد افراد کو بلیک میل کیا اور ملزمان سادہ لوح شہریوں سے ڈھائی کروڑ روپے کا فراڈ بھی کر چکے ہیں۔

ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ طیبہ اور فاروق کے خلاف نیب کو چھ شکایات موصول ہوئیں جبکہ ملزمان کے خلاف 36 گواہان نے نیب کو بیانات قلم بند کرائے۔

 

طیبہ فاروق کون ہیں؟

طیبہ کا کہنا ہے کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ان کی پہلی ملاقات لاپتہ افراد کمیشن میں ان کے شوہر کے ساتھ ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر بزنس مین اور وہ خود قانون کی طالبہ ہیں۔ ان کے شوہر کی چچی گم شدہ افراد میں شامل ہیں اور وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ان کی چچی کی بازیابی کے لیے مسنگ پرسن کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملنے گئی تھیں۔

طیبہ نے الزام لگایا کہ ملاقات کے دوران جسٹس (ر) جاوید اقبال نے ان کے شوہر کی موجودگی میں ان کا فون نمبر لیا اور بعد ازاں انہیں ہراساں کرتے رہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چیئرمین نیب انہیں اپنے گھر اور اسلام آباد کلب میں ملنے کا کہتے رہے لیکن جب انہوں نے غیراخلاقی مطالبات نہیں مانے تو ان پر مقدمات قائم کیے گئے۔

طیبہ نے کہا: ’میں نے یا میرے شوہر نے کبھی کرپشن کی اور نہ دھوکہ دیا۔ مجھے شوہر سمیت نامعلوم وجوہات کی بنا پر گرفتار کیا گیا۔ 15 جنوری 2019 کی صبح میرے شوہر کو نیب نے اسلام آباد سے حراست میں لیا۔ اسی رات نیب نے رات ساڑھے 12 بجے مجھے بھی پکڑ لیا۔‘

’ہمیں موٹر وے کے ذریعے نیب لاہور لے جایا گیا اور اگلے دن سہ پہر چار بجے ہمیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ مجھے نیب عدالت نے جیل بھجوا دیا اور دو مئی کو ضمانت پر میری رہائی ہوئی۔‘

طیبہ فاروق کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر جیل میں ہیں اور انہوں نے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے تنگ آ کر زبان کھولی ہے۔

طیبہ اورفاروق نول کے خلاف پریس کانفرنس

متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد نیب نے ایک پریس ریلیز میں کہا تھا کہ ویڈیو کے پیچھے ایک بلیک میلر گروہ ہے۔

جمعے کو لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس ’گروہ‘ کے مبینہ متاثرین سردار اعظم رشید، صبا حامد، شمشاد جہاں سامنے آئے اور الزام لگایا کہ طیبہ اور فاروق نول چیئرمین نیب کی وڈیو بنانے والے گروہ کے کارندے ہیں۔

ان کا الزام تھا کہ گروہ میں خواتین سمیت پولیس، آئی بی، سی آئی اے، ایف آئی اے سمیت دیگر اداروں کے افسران ملوث ہیں اور یہ گروہ اغوا، زمینوں پر قبضے اور جعلی ویزے پر بیرون ملک بھیجنے کا کام کرتا ہے۔

سردار اعظم رشید نے کہا کہ یہ گروہ لوگوں سے اب تک کروڑوں کا فراڈ کرچکا ہے اور متاثرہ افراد کے خلاف ایف آئی آردرج کرا کے بلیک میل کرتا ہے یا پھر ان کے بچوں کو اغوا کے بعد ڈرا کر ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں روپے ہتھیاتا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ طیبہ اور فاروق جدید سسٹم کے ذریعے واٹس ایپ ویڈیوز بنا کر لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں۔

ان کا دعویٰ تھا کہ چیئرمین نیب کی وڈیو جعلی ہے اور انہیں ٹریپ کیا گیا، اس گروہ کے مختلف سیاست دانوں کے ساتھ بھی تعلقات ہیں۔

پریس کانفرنس کو ملک کے تقریباً تمام بڑے چینلز نے غیر متوقع طور پر لائیو نشر کیا۔

سکینڈل کے سیاسی اثرات

نیب جیسے ادارے کے سربراہ سے متعلق مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو نشر کرنے پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے مشیر اور نیوز ون کے مالک طاہر اے خان کو عہدے سے ہٹانے کا اعلان کیا۔

وفاقی مشیر اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے بھی میڈیا سے گفتگو میں چیئرمین نیب کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ادارے کے سربراہ پر الزامات جھوٹ ہیں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماؤں شاہد خاقان عباسی ودیگر نے جمعے کی دوپہر پریس کانفرنس میں اس سکینڈل کی انکوائری کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا اور پیر کو پارلیمانی رہنما خواجہ آصف کی جانب سے کمیٹی تشکیل دینے کے لیے پارلیمنٹ میں قرارداد جمع کرانے کا اعلان کیا۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے معاملے کو حساس قراردے کر متنازع ویڈیو کا فورینزک معائنہ کرانے کے بعد قانونی چارہ جوئی کا مطالبہ کیا۔

سوشل میڈیا ٹرینڈ

سوشل میڈیا پر جمعے کو بھی اس معاملے کا خوب چرچا رہا اور ٹوئٹر پرChairmanNabScandal، #NABChairmanPhoneLeaks# کے نام سے ٹاپ ٹرینڈ چلتے رہے۔

فیس بک پربیشتر افراد کے سٹیٹس بھی اسی واقعے سے متعلق تھے، جن میں شہریوں نے مختلف رائے کا اظہار کیا۔ کسی نے چیئرمین نیب کا دفاع کیا تو کسی نے خاتون سے ہمدردی دکھاتے ہوئے چیئرمین کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال میں نیب کا اگلا قدم انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست