سندھ: درگاہ کے صحن اور درخت گھڑیالوں سے بھر چکے

سندھ کے ضلع شکارپور میں ایک درگاہ پر لوگ منت پوری ہونے پر گھڑیال دے جاتے ہیں اور درگاہ کا صحن حتیٰ کے درخت گھڑیالوں سے بھر چکے ہیں۔

سندھ کے ضلع شکارپور میں ایک درگاہ مست علی شاہ (گھڑیاں والی سرکار) ہے جہاں ان کے ماننے والے منت پوری ہونے پر گھڑیال دے جاتے ہیں کیوںکہ مست علی شاہ کو گھڑیاں اور گھڑیال پسند تھے۔

درگاہ کے اندرونی اور بیرونی حصے، صحن اور درخت گھڑیالوں بھر گئے ہیں۔

لاڑکانہ۔ سکھر قومی شاہراہ پر تحصیل مدیجی کے قریب قائم درگاہ مست علی شاہ کے متولی عزیزاللہ نے بتایا کہ 40 سال قبل مست علی شاہ بخاری پنجاب سے یہاں آئے اور ایک سال کے بعد فوت ہو گئے۔

گھڑیاں اور گھڑیال انہیں بے حد پسند تھے وہ اپنی کلائیوں میں پانج پانج گھڑیاں باندھتے تھے۔

گھڑیوں کے ہار بنا کر پہنا کرتے تھے اور جو بھی ان سے دعا کرانے آتا اسے منت پوری ہونے پر گھڑی یا گھڑیال دے جانے کی ہدایت کرتے۔ اب ان کے فوت ہونے کے باوجود بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

عزیزاللہ کے مطابق: ’اس درگاہ پر آکر منت مانگنے والوں کی زیادہ تعداد مقامی لوگوں کی ہوتی ہے مگر سندھ اور پاکستان بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں۔

درگاہ پر اپنے بچوں کے ساتھ گھڑیال لے کر آنے والے ایک شخص مشتاق علی محکمہ آبپاشی سندھ میں دوسرے گریڈ کے ملازم ہیں۔

انہوں نے چند ماہ قبل ہی اگلے گریڈ میں ترقی پانے کی منت مانگی تھی۔ مشتاق نے بتایا کہ ان کی منت پوری ہو چکی ہے اس لیے وہ یہاں گھڑیال لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے درگاہ مست علی شاہ کے مزار کے اندر اپنے ہاتھ سے دیوار میں کیل ٹھونکی اور گھڑیال نصب کیا۔

’مجے پتہ نہیں میری ترقی کیسے ہوئی۔ میں کئی سالوں سے ترقی کے انتظار میں تھا مگر میرا کام نہیں ہو رہا تھا، یہاں منت مانگنے کے بعد کچھ ہی مہینوں میں میرا کام ہو گیا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سندھ میں کئی درگاہیں ہیں جہاں عموماً لوگ منت پوری ہونے پر بریانی کی دیگیں اور بکرے کی قربانی کرتے ہیں جبکہ یہاں صرف گھڑیال کا ہی نذرانہ ہوتا ہے۔

محکمہ اوقاف سندھ کے زیرنگرانی 84 درگاہیں اور مساجد ہیں مگر یہ درگاہ مست علی شاہ ان کے نگرانی میں نہیں۔

بقول عزیزاللہ: ’درگاہ کا انتظام ہم خود سنبھالتے ہیں۔ عیدالفطر کے بعد ہرسال یہاں میلہ لگتا ہے جس میں سندھ بھر سے لوگ آتے ہیں۔

’لوگ نئی منتیں مانگتے ہیں، کچھ منتیں پوری ہونے پرگھڑیال اپنے ساتھ لاتے ہیں، مزار کے اندر تو جگہ خالی نہیں رہی اس لیے اب لوگ درختوں اور باہر کی دیواروں پر گھڑیال لگا جاتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا