مہنگائی میں اضافے کا ذمہ دار کون، حکومت یا مافیا؟

موجودہ مہنگائی کی ساری ذمہ داری براہ راست وزیراعظم پر عائد کی جانی چاہیے اور ان کے احتساب کے لیے آواز اٹھائی جانی چاہیے۔

کراچی میں ایک سبزی فروش سڑک کنارے سٹال لگائے بیٹھا ہے (اے ایف پی)

شاہد ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے۔ اس کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ماں باپ بھی ساتھ رہتے ہیں۔ کل ملا کر سات لوگوں کے اخراجات اس کے ذمے ہیں۔ مکان کرائے کا ہے اور گھر کا راشن مقامی دکان کے ادھار پر چلتا ہے۔

اس کی ماہانہ تنخواہ 25 ہزار روپے ہے۔ دس ہزار روپے بجلی، گیس اور پانی کے بلوں میں چلا جاتا ہے اور بقیہ رقم سے مکان کا کرایہ ، گھر کا راشن، بچوں کے سکول کی فیس، ماں باپ کی دوائی اور خوشی غمی کے معاملات چلانے ہوتے ہیں، جو کہ تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔

مقامی دکان کے چھ ماہ کا راشن بل واجب الادا ہے۔ محلے داروں، دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی ادھار لے رکھا ہے۔ کبھی بچوں کے دودھ کے پیسے نہیں ہوتے اور کبھی ایک وقت کا فاقہ کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔

وہ آج شام گھر پر بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ تین سال پہلے 25 ہزار روپے تنخواہ تھی اور 20 ہزار میں بہترین گزارا ہو جاتا تھا۔ پانچ ہزار روپے بچ جاتے تھے۔ ادھار لیے بغیر گھر کا نظام خوش اسلوبی سے چل رہا تھا۔

تاہم اب حالات قابو میں نہیں رہے۔ وہ سوچنے لگا کہ ان حالات کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ وزیر، مشیر، مافیاز یا پھر وزیراعظم۔

وہ ابھی اسی پریشانی میں گم تھا کہ اس نے ٹی وی پر خبر دیکھی کہ ادارہ شماریات کے مطابق 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1220 روپے کر دی گئی ہے۔

یہ پچھلے ایک ہفتے میں پانچ فیصد اضافہ ہے۔ اگر پورے سال کا موازنہ کیا جائے تو یہ اضافہ 20 فیصد بنتا ہے اور اگر اس کا موازنہ تین سال پہلے سے کیا جائے تو یہ اضافہ تقریبا 65 فیصد بنتا ہے۔

شاہد سوچنے لگا کہ تین سالوں میں آٹے کی قیمت میں 65 فیصد اضافہ ہو گیا ہے لیکن میری آمدن میں ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہوا۔

حکومت تو دعوے کرتی تھی کہ مہنگائی کم کریں گے اور آمدن میں اضافہ کیا جائے گا لیکن یہاں سب کچھ الٹ دکھائی دے رہا ہے۔ مہنگائی بڑھ گئی ہے اور آمدن میں اضافہ نہیں ہوا۔

اس نے مزید سنا کہ حکومت نے آٹے کی قیمت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے کیونکہ وزیراعظم صاحب نے آٹے پر 32 فیصد سبسڈی واپس لینے کا عندیہ دے دیا ہے۔

وہ سوچنے لگا کہ عمران خان صاحب فرماتے تھے کہ جب مہنگائی میں اضافہ ہو تو سمجھ لیں کہ وزیراعظم کرپٹ ہے، جس طرح سے اب مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے کیا اب ہم موجودہ وزیراعظم کو بھی کرپٹ سمجھیں؟

پچھلی حکومتوں میں تو وزرا قیمتیں بڑھایا کرتے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ چینی اور آٹے کی قیمتوں کو وہ خود مانیٹر کریں گے۔

جب سے وزیراعظم صاحب نے نگرانی کرنا شروع کی ہے قیمتیں زیادہ تیزی سے بڑھ گئی ہیں بلکہ آٹے پر 32 فیصد سبسڈی کم کرنے کی اجازت خود وزیراعظم صاحب دے رہے ہیں۔

اس لیے موجودہ مہنگائی کی ساری ذمہ داری براہ راست وزیراعظم پر عائد کی جانی چاہیے اور ان کے احتساب کے لیے آواز اٹھائی جانی چاہیے۔

وہ یہ سوچ رہا تھا کہ آٹے کی قیمت بڑھنے کی اصل وجہ کیا ہے۔ شوکت ترین صاحب کی پریس کانفرنس سننے کے بعد اسے علم ہوا کہ پاکستان گندم درآمد بھی کرتا ہے، جس کے باعث قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔

وہ سوچنے لگا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور حکومت نے اعلان بھی کیا تھا کہ اس سال گندم کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کی بنیاد پر شرح نمو 3.94 فیصد بتائی گئی تھی۔

شاہد کے مطابق یا حکومت نے پہلے غلط بیانی سے کام لیا ہے یا وہ اب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے، یا پھر وہ آٹا مافیا کی سپورٹ کر رہی ہے۔

شوکت ترین صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ پچھلی حکومت نے سبسڈی دے کر گندم کی قیمت کو 1250 روپے کے کم ریٹ پر رکھا، جس سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچا۔

شاہد سوچنے لگا کہ پوری دنیا میں حکومتیں عوام کی خوراک اور صحت کا معیار قائم رکھنے کے لیے سبسڈی دیتی ہیں۔ یہ کیسی سرکار ہے جو سستا آٹا فراہم کرنے والی حکومت کو برا کہتی ہے اور خود آٹا مہنگا کر کے اپنی تعریفیں بھی کرتی جارہی ہے۔

اسی دوران اس نے میڈیا پر خبر دیکھی کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں پانچ روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں پانچ روپے ایک پیسہ اضافہ کر دیا ہے۔

جس سے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 123 روپے 30 پیسے ہو گئی ہے، جو پاکستانی تاریخ کی بلند ترین فی لیٹر قیمت ہے۔

اس نے اتنے بڑے اضافے کی وجہ جاننے کے لیے وزرات پیٹرولیم میں کام کرنے والے ایک دوست سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ اضافے کی ایک وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے اور دوسری وجہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہے۔

شاہد کہنے لگا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا بوجھ عوام پر ڈالنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن خود ڈالر کی قیمت بڑھا کر اس کا بوجھ عوام ڈالنا غلط ہے۔

ڈالر کی قیمت 153 روپے سے بڑھ کر 170 روپے تک پہنچا دی گئی، جبکہ سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کے ڈالر ذخائر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سے تقریباً دو ارب ڈالرز پاکستان آ چکے ہیں اور فی الوقت پاکستان نے کوئی بڑی ادائیگی بھی نہیں کرنی ہے۔

ان حالات میں بھی اگر ڈالر بڑھ رہا ہے تو اس میں بھی کسی مافیا کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ حکومتی نااہلی کی سزا عوام کو دینا درست نہیں۔

لیکن سب سے زیادہ جس بات کی فکر اسے کھائی جا رہی ہے وہ آنے والا مہنگائی کا طوفان ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے سے اشیائے خوردونوش سمیت زندگی کی ہر ضرورت کی چیز مہنگی ہو جائے گی۔

وہ فکر مند ہے کہ وہ اپنے بچوں کی دو وقت کی روٹی کیسے پوری کرے گا۔ کیا سکول کی فیس ادا ہو پائے گی۔ وہ اب سنجیدگی سے سوچنے لگا ہے کہ بچوں کو سکول سے اٹھا کر گھر بٹھا دوں اور ماں باپ کو ایدھی سنٹر چھوڑ آؤں۔

اس کے علاوہ شوکت ترین صاحب فرما رہے تھے کہ اصل کام عوام کی آمدن کے ذرائع بڑھانا ہے، جو کہ نہیں بڑھائے جا سکے۔

وزیر خزانہ کی جانب سے یہ بیان ایک طرح کا اعتراف جرم ہے جس پر احتساب کیا جانا ضروری ہے۔

اس نے اخبار میں پڑھا کہ مئی 2018 میں مہنگائی کی شرح تقریباً پانچ فیصد تھی جو اب بڑھ کر 8.35 فیصد ہو چکی ہے۔

ستمبر میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے بعد اس میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

موجودہ معاشی صورتحال پر میں نے ماہر معیشیت ظفر پراچہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’حکومتی مشینری مہنگائی قابو کرنے کے لیے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ مہنگائی میں اضافے کی سہولت کار کے طور پر کام کر رہی ہے تو غلط نہیں ہو گا۔

مہنگائی میں اضافے کے بنیادی طور پر ذمہ دار مافیاز ہیں جنھیں سزا دینے کی بجائے ان کی وزراتوں میں ردوبدل کر کے عوام کو تسلی دی جا رہی ہے، جنہیں وزراتوں سے نکال دیا گیا ہے انہیں آج تک نہ کوئی سزا دی گئی ہے اور نہ ریکوری ہوئی ہے۔

’پچھلے تین سالوں میں ہونے والی مہنگائی پچھلے 70 سالوں میں ہونے والی مہنگائی سے زیادہ ہے۔ جو گھی کا پیکٹ پچھلے 70 سالوں میں 135 روپے تک مہنگا ہوا وہ پچھلے تین سالوں میں بڑھ کر 370 روپے کا ہو گیا ہے۔

’70 سالوں میں چینی 45 روپے فی کلو تک مہنگی ہوئی لیکن پچھلے تین سالوں میں اس کی قیمت 110 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ ڈالر کی قیمت میں اضافے کو مہنگائی کی وجہ قرار دے کر جان چھڑانا مناسب نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مجھ سمیت اکثر ماہرین کی یہ رائے تھی کہ حالات جیسے بھی ہوں ڈالر 155 روپے سے زیادہ نہیں بڑھنا چاہیے۔ 170 روپے تک ڈالر کا چلا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔

خاص طور پر ایسے حالات میں جب معیشت کے تمام اشاریے مثبت ہوں اور کوئی بڑی ادائیگی بھی نہ کرنی ہو۔ درآمدات میں موجودہ اضافے کو ڈالر کی قیمت 170 تک جانے کی وجہ قرار دینا درست نہیں ہے۔

گندم اور چینی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ملک میں مہنگائی کی بڑی وجہ گندم اور چینی کی قیمتوں پر سرکار کی مداخلت ہے۔

حکومت اگر ان کی درآمدات اور برآمدات کو کمرشل بنیادوں پر آزاد چھوڑ دے تو سیاسی لوگوں کے علاوہ کاروباری لوگ بھی اس میں شامل ہو سکیں گے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں شوگر مل لگانا عام آدمی کے بس کی بات نہیں رہی۔

اس قدر سخت شرائط رکھی گئی ہیں کہ ایم این ایز، سینٹرز اور سیاسی پارٹیوں کے قائدین ہی اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی 90 فیصد سے زائد شوگر ملیں زرداری، نواز شریف، ترین گروپ اور دیگر حکومتی لوگوں کی ہیں۔

’وہ بجلی ، گیس درآمدات اور برمدات پر حکومتوں سے سبسڈی لیتے ہیں۔ جب درآمدات کرنی چاہییں تب برآمدات کرتے ہیں اور جب برآمدات کرنی ہوں تب درآمدات کرتے ہیں، تاکہ پہلے ملک میں قلت پیدا کی جا سکے اور بعد میں قلت کا فائدہ اٹھا کر منافع کمایا جا سکے۔ موجودہ مہنگائی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔‘

حکومتی موقف جاننے کے لیے جب میں نے ڈاکٹر سلیمان شاہ صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ ’مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ پچھلی حکومتی کی کمزور کاردگی ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کا استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’یعنی کہ اگر یہ کہا جائے کہ ہم بجلی بھی درآمد کر کے استعمال کرتے ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ پچھلی حکومتوں نے بجلی بنانے کے لیے ڈیموں کی تعمیر پر توجہ نہیں دی بلکہ ڈیم تعمیر کرنے کی مخالفت کرتے رہے اور اب مہنگائی ہونے پر شور مچا رہے ہیں۔

’انہیں پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی ذمہ دار بھی پچھلی حکومتیں ہیں۔ پاکستان کا سب سے بڑا امپورٹ بل پیٹرولیم مصنوعات کا ہے۔

’2014 سے 2018 تک دنیا میں تیل کی قیمتیں انتہای نچلی سطح پر تھیں۔ اس آپشن کو ملکی قرضے اتارنے اورسستی بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا جبکہ انہوں نے مزید قرضے لے کر ملکی معیشیت پر بوجھ بڑھایا، جس کی قیمت آج چکانا پڑ رہی ہے۔

’ڈالر کی موجودہ قیمت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس میں کمی متوقع ہے۔ ممکنہ طور پر یہ 160 سے 165 کے درمیان آ سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس کے علاوہ جان بوجھ کر مہنگائی کرنے والوں کے خلاف پاکستان فوڈ سکیورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے۔

’صدر مملکت نے پاکستان فوڈ سکیورٹی فلو اینڈ انفارمیشن آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ جس کے تحت بلا جواز مہنگائی ذخیرہ اندوزی، یا ان میں ملاوٹ کی صورت میں ملوث افراد کو چھ ماہ قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں ایک ساتھ دی جا سکیں گی۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت