نارمل یا غیر نارمل؟

چوائس حتمی طور پر صرف اور صرف خواتین کی ہونی چاہیے کہ انہوں نے کیا پہننا ہےاور کیا نہیں اور زندگی اپنی مرضی کے کس نظریے کے تحت گزارنی ہے۔

زنانہ پردے کے سماجی تصور کے پیچھے مردانہ معاشرے کی صدیوں پرانی پدرسری سوچ اور عمل کارفرما ہے (اے ایف پی)

عموماً ڈِسکلیمر یا ایسے نوٹ تحریر کے آخر میں اور ادارے کی جانب سے دیے جاتے ہیں، مگر اس کالم سے قبل میں خود ہی تمام قارئین کو آگاہ کر دوں کہ اِس تحریر کو مذہبی بنیادوں سے ہٹ کر خالصتاً اور صرف اور صرف نظریاتی، سماجی اور رویّہ جاتی پرکھ کی بِنا پر نذر از صفحات کیا جا رہا ہے اور اِس کالم کو اِسی تناظر میں پڑھا اور سمجھا جائے۔

خواتین کے حجاب کے معاملے کو لے کر گذشتہ منگل سے لے کر اب تک ہمارے ٹی وی پروگرام کے مندرجات جو وائرل ہوئے ہیں خاص کر پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہود بھائی کی گفتگو کے حصّے، ملک بھر میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا کہ کیا حجاب کرنے والی خواتین نارمل نہیں ہوتیں؟

کیا حجاب خواتین کی ذہنی نشونما اور معاشرے میں مطابقتی صلاحیت اور حیثیت کو متاثر کرتا ہے؟ کیا حجاب خواتین میں اپنے حقوق کے حصول کے لیے جھجھک پیدا کرتا ہے؟

ان چند ایک بنیادی سوالات کے جوابات سماجی معاشرتی تناظر میں آج اِس کالم کے ذریعے آپ کے سامنے رکھوں گی۔

سب سے پہلے تو اس بات کا حتمی تعین اور یقین کر لیجیے کہ ایک خاتون کی زندگی اس کی اپنی اور صرف اپنی مرضی کے تابع ہے۔ اس نے کیا پہننا ہے کس طور زندگی گزارنی ہے یہ صرف اور صرف اُسی خاتون کا حق ہے جس میں کسی دوجے کو مداخلت کا کوئی حق کسی بھی طور حاصل نہیں۔

جب ہم اِس بنیادی نکتے کو تسلیم کر لیتے ہیں تو پھر آئیے ذرا جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں عمومی طور پر کیا واقعی خواتین کو یہ حق حاصل ہے؟

کیا حجاب، نقاب، دوپٹہ، چادر یا برقعہ پاکستان میں خواتین واقعی اپنی مرضی سےاوڑھتی اور پہنتی ہیں یا معاشرے میں موجود مختلف عناصر محسوس اور غیر محسوس طریقے سے خواتین کے لیے اِن چوائسز کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں؟

اس سوال کا جواب ہمارے معاشرے اور سسٹم کے جَڑ پکڑے ہوئے فرسودہ رویوں اور رواجوں میں پِنہا ہے۔ جب کوئی بھی معاشرہ اِس بات کو اپنے افراد کے ذہنوں میں مضبوطی سے بٹھا دیتا ہے کہ غیر خاتون کا وجود ہی مرد کے لیے باعثِ شہوت ہے، خاتون کا چہرہ، سَر، ہاتھ، پاؤں، جسم کے دیگر اعضا یہاں تک کہ خاتون کا چلنا پھرنا، اندازِ گفتگو، پیرہن اور بناؤ سنگھار غرض یہ کہ سر تا پا خاتون ہر حال چال ڈھال میں غیر مرد کے لیے جِنسیت ابھارنے کا ذریعہ ہے تبھی عورت کے لیے سخت پردے کا تصور معاشرےمیں اجاگر ہوتا ہے۔

زنانہ پردے کے اِس سماجی تصور کے پیچھے مردانہ معاشرے کی صدیوں پرانی پدرسری سوچ اور عمل کارفرما ہے جو عورت کی زندگی کی ہر چوائس کو اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ پدرسری معاشرے کی بھیانک برائیوں میں سے اوّلین یہ خاصیت ہے کہ مرد ایسے غیرمحسوس طریقے سے عورت کے لیے زندگی کی چوائسز کو کنٹرول کرتا ہے کہ عورت کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب تو اُس کی بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے۔

سماجی رویے خواتین کے لیے زندگی کی چوائسز کس طرح متعین کرتے ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگایے کہ ایک بچی کی پرورش سے لے کر لڑکپن تک کے عرصے میں اگر وہ اپنے اردگرد اپنی فیملی میں اپنے رشتہ داروں میں اپنے دوستوں کی فیملیز میں اپنے تعلیمی ادارے میں تمام خواتین کو حجاب نقاب برقعے پردے میں ہی دیکھے گی اور کم عمری میں ہی اُسے سرپر حجاب پہنا دیا جائے گا جس کا حکم گھر کے بڑے (اکثر و بیشتر گھر کے کسے مرد) کی طرف سے آیا ہو گا تو یہ اُس بچی کے لیے زندگی کی چوائس کو اولین مرحلے پر ہی مار دینے کے مترادف ہے۔

جب ایک لڑکی کم عمری میں ہی گردوپیش کے ماحول کے پیشِ نظر حجاب اوڑھنا شروع کر دیتی ہے تو بڑی ہو کر بھی شاذونادر اس کے ذہن میں اِس اَمر کے متعلق کوئی مختلف خیال یا سوال ُجنم لے گا کیونکہ اُس نے چھوٹی عمر سے ہی اپنے آس پاس کے ماحول میں یہی ہوتا دیکھا ہے اور وہیں سے اس نے جان لیا کہ پردہ کرنا اس کے لیے لازمی ہے اور اِسی میں اس کی بہتری ہے۔

جب تک اُس بچی اُس لڑکی کے لیے چوائس کی آپشن کم عمری سے ہی مہیا نہیں رکھی جائے گی تو کچی عمر میں کچا ذہن جس بات کو اپنے گردوپیش میں معمول دیکھے گا صرف اُسی کو اپنائے گا۔

جب ہم حجاب کے متعلق خواتین کی چوائس کی بات کرتے ہیں کہ اپنی مرضی سے حجاب لیا یا نہیں تو ہمیں بطور معاشرہ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ ہم مجموعی طور پر کس عمر میں عورت کو چوائس کا حق دیتے ہیں اور کیا عورت کی چوائس واقعی خالصتاً اس کی اپنی ہوتی ہے یا اس میں دیگر افراد اور معاشرے کے دیگر عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

پدرسری دقیانوسی معاشروں میں اِن باتوں کو جُدا رکھنا ناممکن ہوتا ہے اِسی لیے پاکستان جیسی فرسودہ رسوم و رواج کی پابند سوسائٹی میں اس بات کا دعویٰ کرنا کہ عورت کی اپنی چوائس ہے یہ انتہائی مضحکہ خیزبات ہے۔

حجاب کی سخت ترین قسم جس میں سر سے لے کر پاؤں تک عورت کو ڈھانپا ہوا ہونا مقصود ہوتا ہے جس میں نہ تو چہرہ نظر آئے نہ ہاتھ نہ پاؤں اِس سختی کے پیچھے صرف اور صرف مردانہ معاشرے کے سماجی احکامات اور رویہ جات کارفرما ہوتے ہیں جوعورت کو شہوت انگیز گوشت کے لوتھڑے سے بالا ہو کر ایک انسانی احساسات اور حقوق رکھنے والے وجود کی طرح دیکھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔

ایسا سخت پردہ سماجی اعتبار سے خواتین کے تشخص، اعتماد، صلاحیتوں، قابلیتوں اور معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ ان کے کردار کی نفی کرتا ہے۔

اگر ایسا سخت پردہ خواتین کے شخصی تشخص کے منافی نہ ہوتا تو پھر ذرا سوچیے کہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ بنوانے کے لیے چہرہ ڈھانپے رکھنے کی اجازت کیوں نہ ہوتی۔ لہٰذا دو باتیں تو یہاں ثابت ہو جاتی ہیں کہ اوّل سخت نقاب، برقعہ، سخت پردہ کرنا پاکستان جیسے کڑے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کی اپنی چوائس ہر گز نہیں اور اِس میں معاشرے کا بہت بڑاعمل دخل ہے۔

خاص کر ہر خاتون کے ایسے سخت کڑے برقعے کے پیچھے لازمی طور پر کسی مرد کا کردار پوشیدہ ہوتا ہے۔ دوسرے، اس قسم کا سخت نقاب، برقعہ خواتین کے تشخص کو منفی کرنے اور پِنہا کرنے کے مترادف ہے۔

حد تو یہ ہے کہ سعودی عرب میں بھی خواتین کے لیے نقاب اور پردے کی دیگر اقسام میں نرمیاں لائی جا چکی ہیں مگر پاکستان میں معاملات الٹی گنگا کے تحت رواں ہیں۔

اب آ جائیے اس بحث کی جانب کہ کیا اِس قسم کا کڑا برقعہ خواتین کی مطابقتی صلاحیتوں، قابلیتوں اور معاشرے میں ان کے فعال کردار کو محدود کرتا ہے تو اس کا جواب یقیناً ہاں میں ہے۔

مثلاً آپ پاکستان میں پیشہ ورانہ شعبوں میں خواتین کی شمولیت پر نگاہ دوڑا لیجیے۔ جن شعبہ جات کو خواتین کے لیے سماجی اعتبار سے نسبتاً سافٹ (soft) اور ’قابلِ قبول‘ سمجھا جاتا ہے مثلاً ٹیچنگ وغیرہ وہاں پھربھی عمومی طور پر ہمیں خواتین برقعے میں ملبوس نظر آ جاتی ہیں لیکن جن پیشوں میں زیادہ نقل و حرکت (mobility) درکار ہو وہاں آپ کو قطعاً برقعہ پوش خواتین نظر نہیں آئیں گی۔

گذشتہ کچھ دِنوں میں بہت مثالیں دی گئیں کہ بورڈز کے امتحانات، کالج یونیورسٹی کے امتحانات میں حجاب، نقاب، برقعہ پوش خواتین اعلیٰ نمبرز، پوزیشنز یہاں تک کہ گولڈ میڈلز بھی حاصل کر رہی ہیں۔

یہ مثال معاملۂ ھذا میں اس وجہ سے ناقص اور ناقابلِ قبول ہے کیونکہ پاکستان میں تعلیمی نظام میں قابلیت اور ترقی کی بنیاد ’رَٹّا سسٹم‘ ہے۔ جو بچہ جتنا بڑا ’رَٹّو‘ ہو گا وہ اتنے ہی زیادہ نمبرز حاصل کرے گا۔

یہی وجہ ہے کہ لڑکوں کے مابین چونکہ برقعہ پوش ہونے یا نہ ہونے کی کوئی مثال تو موجود ہو ہی نہیں سکتی مگر لڑکے بھی امتحانات میں ٹاپرز یا گولڈ میڈلسٹ ہوتے ہیں کیونکہ تعلیمی نظام بنیاد ہی ’رَٹّے‘ پر کرتا ہے۔

دوسری طرف اس تمام بحث میں اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں گزشتہ تین چار دہائیوں میں اسلامائزیشن اور انتہاپسندی کے جس طوفان نے معاشرے کے تمام پہلوؤں کو منفی انداز سے متاثر کیا، اسی طرح اس نے عمومی اور مجموعی طور پر ملک میں خواتین کے رہن سہن کو بھی متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں سَتّر کی دہائی تک اور آج کی پاکستانی خاتون کے معاشرتی قابلِ قبول پہناووں میں بڑی حد تک تبدیلی آئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں پر اِس اَمر سے بھی صرفِ نظر نہ ہو کہ نوجوانوں کی کردار سازی میں والدین کی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کا بھی اہم کردار بھی مسلِّمہ ہے اور استاد اور شاگرد کا رشتہ کئی پہلوؤں سے اسبات کا تقاضہ کرتا ہے کہ دونوں کے مابین کمیونیکیشن کی شفافیت رہے۔

یہ انسانی کمیونیکیشن کا بنیادی نفسیاتی اصول ہے کہ جب تک دونوں فریق ایک دوسرے کو واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے، کمیونیکیشن کا گیپ (gap) موجود رہتا ہے۔

اس کی مثال آپ اس طرح سمجھ لیجیے کہ جیسے کسی سے فون میسج پر بات کرنا فون کال پر بات کرنے سے مختلف ہے اور دوبدو بالمشافہ ملاقات کرنا فون کال سے بھی بہتر ہے۔ لہذا جب خواتین طلبا کو سخت برقعہ پوشی میں اساتذہ کے ساتھ کمیونیکیشن کرنی پڑے تو لازمی طور پر دونوں اطراف سے ایک رکاوٹ (barrier) اور جھجھک موجود رہتی ہے جس کا بلامحالہ منفی اثر طالبِ علم کی لرننگ (learning) پر پڑتا ہے۔

ان تمام دلائل کی روشنی میں اُن تمام سوالات کے جوابات تو مدلّل ہو گئے جو میں نے کالم کے آغاز میں اٹھائے تھے مگراختتام اسی بات پر کرنا چاہوں گی کہ آخرِکار چوائس حتمی طور پر صرف اور صرف خواتین کی ہونی چاہیے کہ انہوں نے کیا پہننا ہےاور کیا نہیں اور اپنی زندگی اپنی مرضی کے کس نظریے کے تحت گزارنی ہے۔

اور خواتین کی اِس چوائس میں معاشرے خاص طور پرمردوں کا کسی قسم کا کوئی عمل دخل یا اثرورسوخ یا مجبوری کارفرما نہیں ہونی چاہیے، صرف تبھی خواتین کیا یہ معاشرہ خود نارمل کہلانے کے قابل ہو سکے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ