نیوزی لینڈ: پولیس یونیفارم میں پہلی بار حجاب متعارف

نئی بھرتی ہونے والی مسلمان اہلکار زینا علی کے مطابق ٹریننگ کے دوران رائل نیوزی لینڈ پولیس کالج کی جانب سے ان کے لیے حلال خوراک اور نماز کے لیے کمرے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔

زینا علی نیوزی لینڈ   پولیس میں حجاب پہننے والی پہلی اہلکار ہیں۔ (تصویر: بشکریہ نیوزی لینڈ پولیس انسٹاگرام)

نیوزی لینڈ کی نیشنل پولیس سروس نے اپنے سرکاری یونیفارم میں پہلی بار حجاب کو شامل کر لیا ہے، جس کا مقصد مسلمان خواتین کو پولیس میں شامل ہونے کی ترغیب دینا ہے۔

کانسٹیبل زینا علی جو کہ پولیس میں نئی بھرتی ہوئی ہیں، کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا خیال کرائسٹ چرچ مساجد حملوں کے بعد آیا۔ وہ پولیس میں حجاب پہننے والی پہلی اہلکار ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ اس بارے میں درخواست کرنے والی پہلی فرد تھیں جنہیں اس اضافے کو یقینی بنانے کے لیے اس عمل کا حصہ بنایا گیا تھا۔

ایک ترجمان نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ 'خصوصی طور پر ڈیزائن کیے گئے اس یونیفارم  کا مقصد ملک میں متنوع آبادی کی عکاسی کرنا اور ان کے ایک معاشرے کا 'حصہ' ہونے کا احساس اجاگر کرنا ہے۔ '

سرگرم افراد کی تحریک گلوبل سٹیزن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ پولیس کے نئے ریکروٹس میں مختلف پس منظر کے لوگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ ان میں 50 فیصد خواتین ہیں جبکہ ان میں سے نصف افراد غیر یورپی نیوزی لینڈرز ہیں۔

نیوزی لینڈ پولیس کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ 'ہمیں پر قسم کی مہارت، پس منظر اور تجربے والے افراد درکار ہیں۔ تنوع ضروری ہے تاکہ ہم نیوزی لینڈ میں رہنے والی برادریوں کی ضروریات کو موجودہ وقت اور مستقبل میں پورا کر سکیں۔'

فورس کے مطابق انہوں نے خصوصی یونیفارم کی تیاری 2018 میں سٹاف کے ان ارکان کی درخواست پر شروع کی جو سکینڈری سکولز کا دورہ کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زینا علی نے نیوزی لینڈ پولیس کی جانب سے مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین کو پولیس میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'پولیس کی شناخت میں شامل حجاب کا مطلب ہے کہ وہ خواتین جو پہلے پولیس کا حصہ نہیں بن سکیں اب وہ ایسا کر سکتی ہیں۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ پولیس نے میرے مذہب اور میری ثقافت کو شامل کیا ہے۔'

ان کی ٹریننگ کے دوران رائل نیوزی لینڈ پولیس کالج کی جانب سے ان کے لیے حلال خوراک اور نماز کے لیے کمرے کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔

زینا علی نے بتایا: 'جب میں تیراکی کرنے جاتی تھی تو میں لمبے بازو پہن لیتی تھی یعنی کہ تیراکی کا مکمل لباس۔'

زینا علی فجی میں پیدا ہوئیں اور اپنے بچپن میں نیوزی لینڈ منتقل ہوگئی تھیں۔ انہوں نے اخبار کو بتایا کہ کرائسٹ چرچ حملے کے بعد انہوں نے پولیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا: 'مجھے احساس ہوا کہ پولیس میں مزید مسلمان خواتین کی ضرورت ہے تاکہ وہ لوگوں کی مدد کر سکیں۔ بہت اچھا محسوس ہوتا ہے جب آپ باہر جاتی ہیں اور آپ کا حجاب نیوزی لینڈ پولیس یونیفارم کا حصہ ہوتا ہے۔'

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی دفتر