سندھ میں توہین مذہب کے الزام میں ڈاکٹر گرفتار، تین دکانیں نذر آتش

پھلڈیوں شہر کی آبادی دس ہزار ہے اور مقامی یونین کونسل کے چیئرمین کے مطابق کل آبادی میں سے سات ہزار ہندو ہیں جبکہ شہر کے کاروبار پر مقامی ہندوؤں کا مکمل کنٹرول ہے۔

جنوبی سندھ کے ضلع میرپور خاص کے شہر پھلڈیوں میں ایک مقامی ہندو ڈاکٹر کی جانب سے مبینہ طور پر قرآن شریف کی بے حرمتی کیے جانے کی خبروں کے بعد پیر کی صبح بڑی تعداد میں ڈنڈا بردار مشتعل افراد نے شہر میں دھاوا بول دیا اور مقامی ہندوؤں کی تین دکانوں کو لوٹ مار کے بعد آگ لگادی۔ کچھ ہی دیر میں شہر مکمل طور پر بند ہوگیا اور مقامی ہندو گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے۔ بعدازاں پولیس اور سندھ رینجرز کی بھاری نفری نے  پہنچ کر شہر کا کنٹرول سنبھال لیا۔ آخری اطلاعات آنے تک شہر میں حالات کنٹرول میں تھے۔

ایس ایس پی میرپورخاص جاوید بلوچ کے مطابق دکانوں کو آگ لگانے اور ہندوؤں کی ملکیت کو نقصان پہچانے والے شرپسندوں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا جبکہ باقی شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ 

مشتعل افراد نے مویشیوں کے مقامی معالج ڈاکٹر رمیش کمار مالھی پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے ایک مقامی مسلمان کے مویشیوں کا علاج کرنے کے بعد گولیاں قرآن شریف کے ایک ورق میں لپیٹ کر مقدس کتاب کی بے حرمتی کی ہے۔

پھلڈیوں تھانے کے ایس ایچ او زاہد لغاری نے بتایا کہ جامعہ مسجد کے پیش امام مولوی محمد اسحاق نوہڑی کی مدعیت میں ڈاکٹر رمیش کمار مالھی کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے توہین مذہب کے قانون کی دفعہ 294 ای اور 294 بی کے تحت کیس داخل کرکے ملزم ڈاکٹر رمیش کمار مالھی کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مزید پڑھیے

آسیہ بی بی کے وکیل ایک اور مقدمہ لڑنے پاکستان آئیں گے

آسیہ بی بی کینیڈا پہنچ گئیں، ٹروڈو حکومت کا تصدیق سے انکار

مشتعل افراد نے بعد میں تھانے کا بھی گھیراؤ کیا مگر جب ان کو یقین دلایا گیا کہ کیس داخل ہوچکا ہے اور ملزم کو گرفتار کیا جاچکا ہے تو وہ منتشر ہوگئے۔

پھلڈیوں شہر کی آبادی دس ہزار ہے اور مقامی یونین کونسل کے چیئرمین کے مطابق کل آبادی میں سے سات ہزار ہندو ہیں جبکہ شہر کے کاروبار پر مقامی ہندوؤں کا مکمل کنٹرول ہے۔

جامعہ مسجد کے پیش امام مولوی محمد اسحاق نوہڑی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’صبح نو بجے مقامی شر برادری کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور انہیں مبینہ طور پر قرآن شریف کا ایک ورق دکھایا جس میں کچھ گولیاں لپٹی ہوئی تھیں اور بتایا کہ ڈاکٹر رمیش کمار مالھی نے یہ گولیاں مقدس کتاب میں لپیٹ کر بے حر متی کی ہے۔ میں نے اس شخص کو سمجھایا کہ ایسا نہیں ہوا ہوگا اور ان کے ساتھ ڈاکٹر رمیش کے کلینک پر گیا تو دیکھا کہ ان کی میز پر لغت القرآن رکھی ہوئی ہے اور کئی اوراق پھٹے ہوئے تھے۔ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ یہ گولیاں آپ نے لپیٹ کر دی ہیں؟ تو انہوں نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ پھر کیا ہوا؟ جس کے بعد میں تھانے گیا اور کیس درج کروایا۔ لیکن جانے کہاں سے مشتعل افراد نے آکر ڈاکٹر رمیش کے کلینک اور ان کے بھائیوں کی دو دکانوں کو آگ لگادی۔ پھر میں نے مسجد سے اعلان کیا کہ کیس داخل ہوچکا ہے، املاک کو نقصان نہ پہنچائیں، تب کہیں جاکر مشتعل افراد نے تشدد بند کیا۔‘

اس حوالے سے علماء ایکشن کمیٹی میرپور خاص کے رہنما اور جمعیت علما اسلام (فضل الرحمان گروپ) ضلع میرپور خاص کے امیر حفیظ الرحمان فیض نے انڈپینڈنٹ اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ڈاکٹر نے لغت القرآن کے اوراق میں ادویات لپیٹ کر دیں اور یہ عمل کئی دنوں سے ہو رہا تھا۔

حفیظ الرحمان فیض نے الزام عائد کیا کہ: ’جو معلومات ہم نے لی ہیں اس کے مطابق لغت القرآن کے 51 صفحات پھٹے ہوئے تھے۔ اس عمل کے پیچھے ایک سازش ہے کہ مذکورہ ڈاکٹر کسی ملک میں پناہ لینا چاہتے ہیں اور یہ عمل انہوں نے جان بوجھ کر کیا ہے تاکہ میڈیا اسے رپورٹ کرے اور وہ بیرونِ ملک یہ کہہ کر سیاسی پناہ حاصل کریں کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔‘

پھلڈیوں یونین کونسل کے منتخب چیئرمین لکشمن مالھی نے بتایا کہ ان کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ یہ کیسے ہوا کیونکہ شہر کی تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا، علاقے میں ہندو اور مسلمان بھائیوں کی طرح رہتے ہیں۔ 

لکشمن مالھی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر مقامی حکومت کے الیکشن میں حصہ لیا تھا جبکہ ہارنے والے ان کے مخالف امیدوار امان اللہ شر کا تعلق پیر پگاڑہ کی جماعت پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سے ہے۔ ایک مقامی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’اس واقعے کے پیچھے سیاسی مخالفت بھی ہوسکتی ہے کیونکہ جس شخص نے مذکورہ ورق پیش امام کو لاکر دیا تھا وہ امان اللہ شر کے رشتے دار ہیں۔‘

پاکستان میں ہندو برادی، آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اقلیتی کمیونٹی مانی جاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہندوؤں کی آبادی 55 لاکھ ہے جبکہ ہندو تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں ہندو آبادی 80 لاکھ سے بھی زائد ہے، مگر غریب ہندوؤں کا قومی شناختی کارڈ نہ بننے کی وجہ سے ان کا شمار سرکاری مردم شماری میں نہیں ہو پاتا۔ پاکستانی ہندوؤں کی اکثریت صوبہ سندھ میں آباد ہے اور سندھ میں بھی زیادہ تر ہندو زیریں سندھ حیدرآباد، میرپورخاص اور بھنبھور ڈویژنز میں رہائش پذیر ہے۔

سندھ کے سات ڈویژنز میں سے میرپور خاص بھی ایک ڈویژن ہے جس میں تین اضلاع میرپور خاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر شامل ہیں، جہاں پاکستانی ہندوؤں کی اکثریت مقیم ہے۔

 1998 کی سرکاری مردم شماری کے مطابق میرپور خاص ڈویژن کے تینوں اضلاع عمرکوٹ میں کُل آبادی کا 48 فیصد، تھرپارکر میں 41 فیصد اور میرپور خاص میں کُل آبادی کا 33 فیصد ہندو آبادی پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے باوجود ان اضلاع میں ہندو محفوظ تصور کیے جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان