ایران جوہری نگرانی سے متعلق معاہدے پرعملدرآمد میں ناکام

اقوام متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے کے مطابق ایران دو ہفتے قبل طے پانے والے ایک معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے تحت اس کے انسپکٹرز نے ملک کی ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کرنے والے آلات کی سروس کرنا تھی۔

ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کی جانب سے 23 دسمبر 2019 کو جاری کی گئی ایک تصویر میں دارالحکومت تہران کے جنوب میں واقع اراک کے جوہری پانی کے ری ایکٹر کو  دیکھا جاسکتا ہے (فائل فوٹو: اےایف پی/ ایچ او/ اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران)

اقوام متحدہ کے ایٹمی نگران ادارے نے اتوار کو کہا کہ ایران دو ہفتے قبل طے پانے والے ایک معاہدے کی شرائط کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے جس کے تحت اس کے انسپکٹرز نے ملک کی ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کرنے والے آلات کی سروس کرنا تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی سے منسوب ایک بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران کا ایجنسی کو ٹیسا کاراج سینٹری فیوج مینوفیکچرنگ ورکشاپ تک رسائی کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ 12 ستمبر کو جاری کردہ مشترکہ بیان کی متفقہ شرائط کے خلاف ہے۔

12 ستمبر کو یہ معاہدہ آئی اے ای اے کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ میں طے ہوا تھا، جس کے تحت مغربی طاقتوں نے کیمروں کے میموری کارڈز بھر جانے کی وجہ سے انہیں تبدیل کرنے کی اجازت دینے کے بدلے ایران پر تنقید کی قرارداد نہ لانے کا انتخاب کیا تھا۔

یہ قرارداد ایران ایٹمی معاہدے کی بحالی پر وسیع مذاکرات کی امیدوں کو ختم کر سکتی تھی۔ 

ایران کے نئے سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے تیار ہیں لیکن مغربی ’دباؤ‘ میں نہیں۔

دوسری جانب آئی اے ای اے میں ایران کے ایلچی کاظم غریب آبادی نے پیر کو کہا کہ ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ درست نہیں اور مشترکہ بیان کی متفقہ شرائط سے باہر ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کاظم غریب آبادی نے ٹوئٹر پر کہا: ’ایران کی طرف سے مانیٹرنگ آلات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ قانونی تحفظات کی بجائے سیاسی بنیادوں پر ہوتا ہے اور ایجنسی اسے اپنا دائرہ حدود تصور نہ کرے۔‘

غریب آبادی کا مزید کہنا تھا: ’تہران اور ویانا میں گفتگو کے دوران ایران نے کہا تھا کہ چونکہ ٹیسا کاراج کمپلیکس واقعے کی اب بھی سکیورٹی اور عدالتی جانچ ہو رہی ہے لہٰذا اس کمپلیکس کے متعلقہ سامان کی سروسنگ شامل نہیں۔‘

آئی اے ای اے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے 20 سے 22 ستمبر تک آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اجازت دی تھی کہ وہ ایجنسی کی نگرانی کے آلات کی سروس کریں اور ایران میں تمام ضروری مقامات پر سٹوریج میڈیا کو تبدیل کریں۔

یہ ورک شاپ جون میں بظاہر تخریب کاری کا شکار ہوئی تھی جس میں آئی اے ای اے کے چار کیمروں میں سے ایک تباہ ہو گیا تھا۔ ایران نے اس کیمرے کا ’ڈیٹا سٹوریج میڈیم‘ واپس نہیں کیا۔

آئی اے ای اے نے رواں ماہ ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اس نے ایران سے اسے تلاش کرنے اور وضاحت کرنے کو کہا ہے۔  معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کو اپنے کیمرے تبدیل کرنے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا