توہین مذہب پر سزائے موت: ’ نیم ذہنی بیمار کو رعایت نہیں‘

عدالتی فیصلے کے مطابق خاتون کا طبی معائنہ گرفتاری کے ایک سال بعد کروایا گیا، میڈیکل بورڈ نے لکھا کہ وہ شیزوفرینیا کی مریض ہیں اور اس حالت میں ان کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا تاہم دو برس بعد اسی بورڈ کی سفارش پر ان کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق سلمیٰ تنویر نے کہیں بھی اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ جو تحریر ان سے منسوب کی گئی ہے وہ انہوں نے لکھی ہی نہیں اور ان کےخلاف گیارہ گواہان نے یہی بتایا کہ یہ تحریر ان کی تھی۔(تصویر: پکسابے)

 

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سیشن عدالت نے توہین رسالت کےالزام میں آج سلمیٰ تنویر نامی خاتون کو سزائے موت اور پچاس ہزار روپے جرمانے کا حکم سنایا ہے۔

خاتون پر الزام ہے کہ انہوں نے 2013میں بطور پرائیویٹ سکول پرنسپل چند پمفلٹس تقسیم کیے تھے جن پر لکھی گئی تحریریں توہین مذہب کے زمرےمیں آتی ہیں۔

لاہور کے علاقے نشتر ٹاؤن کے امام مسجد نے توہین مذہب کے الزام میں خاتون کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا، پولیس نے مقدمہ درج کر کے ملزمہ کو گرفتار کر لیا تھا اور وہ آٹھ سال سے جیل میں تھیں۔

کیس کی سماعت کے دوران خاتون ملزمہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ وہ ذہنی مریض بن گئی تھیں اس لیے اس طرح کا الزام لگا، ان کا تعلق مذہب اسلام سے ہے اور اسلامی تعلیمات پر مکمل یقین رکھتی ہیں۔

عدالت نے خاتون کا میڈیکل کرانے کے لیے مینٹل ہسپتال لاہور کے ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔

عدالت کے تحریری فیصلے کے مطابق خاتون نے عدالت کے روبرو کہا کہ وہ 2013 میں حج پر جانا چاہتی تھیں لیکن اس سے قبل ہی وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئیں اور انہیں اس دوران ہونے والے واقعات سے متعلق کچھ یاد نہیں۔

فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ خاتون نے عدالت کے روبرو مسلمان ہونے کا دعوی کیا اور انجانے میں ہونے والی کسی بھی غلطی کی معافی بھی مانگی۔

سلمیٰ تنویر کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ نشتر ٹاون میں علاقے میں درج کیا گیا جس کی ایف آئی آر میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ خاتون نے توہین رسالت پر مبنی تحریر پمفلٹ پر چھپوا کر لوگوں میں تقسیم کی۔

عدالت نےبائیس صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا ہے کہ خاتون کا طبی معائنہ گرفتاری کے ایک سال بعد پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم سے کروایا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے ان کے بارے میں لکھا کہ وہ ایک ذہنی بیماری شیزوفرینیا کی مریضہ ہیں اور اس حالت میں ان کا ٹرائل نہیں کیا جا سکتا۔

جس کے بعد سلمیٰ تنویر کا ٹرائل روک دیا گیا البتہ دو سال بعد 2019 میں اسی بورڈ کی سفارش پر ان کا ٹرائل دوبارہ شروع کیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جج منصور قریشی نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ’یہ درست ہے کہ ملزمہ کی ذہنی حالت درست نہ ہونے کے شواہد موجود ہیں۔ اور انہوں نے اسی بات کو ڈیفنس بھی لیا ہے تاہم ان کی بیماری کی نوعیت اتنی سنگین نہیں ہے۔ اور ہمارے قانون میں کم ذہنی بیماری میں سنگین جرم کرنے سے متعلق کوئی رعایت دستیاب نہیں ہے۔‘

عدالتی فیصلے کے مطابق سلمیٰ تنویر نے کہیں بھی اپنے بیان میں یہ نہیں کہا کہ جو تحریر ان سے منسوب کی گئی ہے وہ انہوں نے لکھی ہی نہیں اور ان کےخلاف گیارہ گواہان نے یہی بتایا کہ یہ تحریر ان کی تھی۔

’لہذا عدالت توہین مذہب کا مرتکب جانتے ہوئے ان کو موت کی سزا کا حکم سناتی ہے۔‘

عدالتی فیصلےمیں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سزا کے خلاف انہیں ہائیکورٹ میں اپیل کا حق حاصل ہے۔

اس سے قبل توہین مذہب کے کئی مقدمات میں ماتحت عدالتوں سے ملزموں کو سزائیں ہوچکی ہیں تاہم پنجاب ہی کے شہر شیخوپورہ میں مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو بھی توہین رسالت میں سزائے موت سنائی گئی تھی جنہیں ملک کی سپریم کورٹ نے ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر مقدمے سے بری کر دیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان