فزکس کا نوبل انعام جاپانی، جرمن اور اطالوی سائنس دانوں کے نام

’نوبیل انعام ماحولیات کے ماڈلز اور فزیکل سسٹمز کی تفہیم و تشریح کے لیے سائنسدانوں کی خدمات کا اعتراف ہے۔‘

رائل سوئڈش اکیڈمی آف سائنس کے سیکریٹری جنرل گوران ہینسن اور نوبیل پرائز کمیٹی کے ممبر تھور ہانس ہینسن فزکس کے نوبیل پرائز 2021 کے مشترکہ فاتحین جاپان کے سائنسدان سیوکورو مانابے، جرمنی کے کلاؤس ہاسل مان اور اٹلی کے جارجیو پاریسی کے ناموں کا 5 اکتوبر 2021 کو اعلان کر رہے ہیں ان ان کی تصاویر آویزاں کی گئی ہیں (تصویر: اے ایف پی)

رواں برس کا نوبل انعام برائے فزکس جاپانی سائنسدان سیوکورو مانابے، جرمنی کے کلاؤس ہاسل مان اور اٹلی کے جارجیو پاریسی کو مشترکہ طور پر دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس انعام کا اعلان کرنے والی جیوری کے مطابق ان تینوں ماہرین کو یہ انعام ماحولیات کے ماڈلز اور فزیکل سسٹمز کی تشریح و تفہیم کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

جاپان کے 90 سالہ مانابے اور جرمنی کے 89 سالہ ہاسل مان مشترکہ طور پر کلائمیٹ ماڈلز پر تحقیق کے لیے فزکس کے اس سال کے نوبل پرائز کے آدھے حصے کے حقدار قرار پائے۔

ان کی تحقیق زمینی آب و ہوا سے متعلق چند بنیادی معلومات اور اس پر اثر انداز ہونے والے انسانی عوامل سے متعلق ہے۔

اطالوی سائنس دان 73 سالہ پاریسی کو یہ اعزاز فزیکل سسٹمز میں خرابی، اتار چڑھاؤ اور بے ترتیب مادوں اور بے ترتیب عوامل کے نظریے سے متعلق ان کے انقلابی کام کے اعتراف میں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوبیل کمیٹی برائے فزکس کی جیوری کے سربراہ تھور ہانس ہینسن کا کہنا ہے کہ ’عالمی رہنما جنہیں ابھی تک پیغام نہیں ملا، مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ اسے حاصل بھی کریں گے کیونکہ یہ ہم کہہ رہے ہیں۔ لیکن جو ہم کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ آب و ہوا کی ماڈلنگ فزکس کی تھیوری پر مبنی ہے۔‘

منابے امریکہ کی پرنسٹن یونیورسٹی سے وابستہ ہیں جبکہ ہاسل مین ہیمبرگ کے میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ برائے موسمیات میں پروفیسر ہیں۔

پیرسی جنہوں نے فروری میں معتبر وولف انعام بھی جیتا تھا روم کی سیپینزا یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس