جنرل فیض حمید کور کمانڈر پشاور تعینات

پاکستان فوج میں اعلی سطحی تبادلے کے بعد سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور مقرر کر دیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید  (تصویر: آئی ایس پی آر)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فوج میں اعلی سطحی تبادلے کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور مقرر کر دیا گیا ہے۔

لیفٹننٹ جنرل محمد عامر کمانڈر کو کورکمانڈر گوجرانوالہ اور لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید جون 2019 میں ڈی جی آئی ایس آئی مقرر کیے گئے تھے۔ اپریل 2019 میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ان کی ترقی ہوئی۔

ان کی جگہ خفیہ ادارے آئی ایس آئی میں کون تعنیات کیا گیا ہے اس کا اعلان ابھی نہیں ہوا ہے تاہم سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں دو روز سے بحث چلی رہی ہے۔

ڈی جی آئی ایس آئی تعیناتی سے قبل وہ جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کے عہدے پر فائز تھے۔ یہ اعلان راولپنڈی میں کور کمانڈروں کے اجلاس کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تعلق چکوال سے ہے۔ فوج میں پاس آؤٹ ہونے کے بعد وہ بلوچ رجمنٹ کا حصہ بنے۔

اس سے قبل وہ راولپنڈی میں ٹین کور کے چیف آف سٹاف، پنوں عاقل میں جنرل آفیسر کمانڈنگ اور آئی ایس آئی میں ڈی جی کاؤنٹر انٹیلیجنس (سی آئی) سیکشن بھی رہ چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو صدرِ پاکستان ہلالِ امتیاز ملٹری کے اعزاز سے بھی نوازا چکے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنرل فیض حمید کا نام 2017 میں منظرعام  پر آیا تھا جب تحریک لبیک نے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا اور اسلام آباد کے فیض آباد انٹرچینج پر کئی دنوں تک دھرنا دیا۔

جنرل فیض اس دھرنے کو ختم کرانے میں اہم کردار ہونے کے باعث خبروں میں رہے۔ ان کا نام چند دیگر سیاسی تنازعات میں بھی حزب اختلاف کے رہنما زوروشور سے لیتے رہے۔

پانچ سے 26 نومبر 2017 تک جاری رہنے والا تحریک لبیک کا دھرنا انتخابی فارموں میں ایک ترمیم کی بنا پر دیا گیا تھا (جسے بعد میں حکومت نے واپس بھی لے لیا)۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ اس وقت کے وزیر قانون زاہد حامد مستعفی ہوں۔ یہ 20 روزہ دھرنا حکومت کی جانب سے مظاہرین کے مطالبات ماننے اور وزیر قانون کے استعفے کے بعد ختم ہوا۔

تحریک لبیک کے سربراہ خادم رضوی نے میڈیا کو دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ شہباز شریف اور احسن اقبال سمیت کسی حکومتی شخصیت سے نہ مذاکرات ہوئے اور نہ معاہدہ بلکہ مذاکرات جنرل فیض سے ہوئے اور وہی ضامن بھی ہیں۔ 

بعد ازاں جنرل فیض حمید کا دورہ کابل بھی سرخیوں میں رہا جس کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ دورہ غیر رسمی فریم ورک تشکیل دینے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔

آئی ایس آئی کے سربراہ کا عہدہ پاکستان فوج کے اہم ترین عہدوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان