طالبان خواتین کی تعلیم کے منصوبے کا اعلان جلد کریں گے:اقوام متحدہ

 طالبان حکام نے کہا ہے کہ طالبات اور خاتون اساتذہ اسی صورت میں تعلیمی اداروں میں واپس جا سکتی ہیں جب شریعت کی طالبان کی بیان کردہ پابندیوں پر مبنی تشریح کے مطابق طالبات کی سکیورٹی اور لڑکے لڑکیوں کی الگ الگ تعلیم کا انتظام یقینی ہو جائے گا۔

19 ستمبر2021 کی اس تصویر میں افغان خواتین وزارت امور خواتین کے سامنے اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کر رہی ہیں(اے ایف پی فائل)

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ طالبان ’جلد ہی‘ ایک طریقہ کار کا اعلان کریں جس کے تحت لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

عالمی ادارے کے عہدے دار نے یہ بیان ان چار ہفتوں کے بعد جاری کیا ہے جب طالبان نے لڑکوں کو ثانوی تعلیم کی اجازت دی تھی لیکن طالبات کو ابھی تک اجازت نہیں دی گئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ میں یونیسف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمرعبدی کا کہنا تھا کہ طالبان کے وزیر تعلیم نے ہمیں بتایا ہے کہ ’وہ ایک طریقہ کار پر کام کر رہے ہیں جس کا جلد اعلان کر دیا جائے گا۔ اس طریقہ کار کے تحت تمام طالبات کو سیکنڈری سکول جانے کی اجازت ہو گی اور ہمیں توقع ہے کہ ایسا بہت جلد ہو گا۔‘

واضح رہے کہ طالبان کئی ہفتے سے کہہ رہے ہیں کہ جس قدر جلد ممکن ہوا طالبات کو سکولوں میں واپس جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

طالبان نے پرائمری سکولوں کی طالبات کو شروع میں ہی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سیکنڈری سکول کی طالبات اور استانیاں سکولوں میں واپس نہیں جا سکتیں۔

 طالبان حکام نے کہا ہے کہ ’طالبات اور خاتون اساتذہ اسی صورت میں تعلیمی اداروں میں واپس جا سکتی ہیں جب شریعت کی طالبان کی بیان کردہ پابندیوں پر مبنی تشریح کے مطابق طالبات کی سکیورٹی اور لڑکے لڑکیوں کی الگ الگ تعلیم کا انتظام یقینی ہو جائے گا۔‘

 طالبان کا مزید کہنا تھا کہ اس فریم ورک پر عمل درآمد کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

 دوسری جانب عبدی کا کہنا تھا کہ سیکنڈی سکولوں کی لاکھوں طالبات مسلسل 27 دن سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے اب افغانستان میں حکمران طالبان حکام پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کے معاملے میں انتظار نہ کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عبدی نے مزید کہا کہ انہوں نے ایک ہفتے پہلے افغانستان کا دورہ کر کے طالبان حکام سے ملاقات کی تھی۔ عبدی کے بقول: ’میری تمام ملاقاتوں میں لڑکیوں کی تعلیم اولین مسئلہ تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ انہیں طالبان کی جانب سے پرائمری سکولوں کی طالبات کو تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے مثبت جواب ملا ہے۔

 جہاں تک سیکنڈی سکولوں کی طالبات کا تعلق ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف پانچ صوبوں میں سکول جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

 تاہم اقوام متحدہ طالبان پر زور دے رہی کہ تمام ملک میں طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا جائے۔

14 سالہ افغان طالبہ اسما نے اس ہفتے ملکی صورت حال اور تعلیم حاصل کرنے کے اپنے عزم پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا: ’میں سکول جا سکوں گی یا نہیں؟ یہ میری سب سے بڑی پریشانی ہے۔ میں آسان ترین سے لے کر مشکل ترین مضامین تک سب کا علم حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ میں خلانورد، انجینیئر یا ماہر تعمیرات بننا چاہتی ہوں۔ یہ میرا خواب ہے۔‘

طالبہ کا مزید کہنا تھا کہ ’تعلیم حاصل کرنا جرم نہیں ہے۔ اگر طالبان نے اعلان کیا کہ پڑھنا جرم ہے تو پھر ہم یہ جرم کریں گے۔ ہم تعلیم کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا