تیسری صلیبی جنگ کے زمانے کی تلوار دریافت

اسرائیل میں ایک شخص نے سمندر سے ایک ایسی تلوار دریافت کی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا تعلق تیسری صلیبی جنگ سے ہے۔

اسرائیل میں ایک غوطہ خور نے تیسری صلیبی جنگ میں استعمال ہونے والی 900 سال پرانی تلوار دریافت کر لی ہے۔

پیر کو اسرائیل کے محکمۂ آثارِ قدیمہ نے ایک بیان میں بتایا کہ یہ دریافت ملک کے شمال میں واقع کارمیل کے ساحل پر کی گئی۔

شلومی کاتزن نامی شخص، جس کو سمندر سے تلوار ملی تھی، اس نے یہ تلوار محکمۂ آثارِ قدیمہ کے حوالے کر دی ہے۔

محکمے نے ایک بیان میں کہا، ’یہ تلوار بےعیب حالت میں محفوظ ہے۔ یہ خوبصورت اور نایاب دریافت ہے اور بظاہر یہ صلیبی جنگوں میں حصہ لینے والے کسی نائٹ کی تلوار ہے۔‘

محکمے کے انسپکٹر نیر ڈسٹلفیلڈ نے کہا، ’یہ تلوار آپ کو 900 سال پرانے دور میں لے جاتی ہے، جو سورماؤں، زرہ بکتر اور تلواروں کا دور تھا۔‘

محکمۂ آثارِ قدیمہ کے سمندری شعبے کے ڈائریکٹر کوبی شاروت نے کہا کہ کارمیل کے ساحلی علاقے میں بہت سے قدرتی کھاڑیاں اور چھوٹی چھوٹی خلیجیں ہیں، جہاں طوفانوں میں بحری جہاز پناہ لیا کرتے تھے۔ اسی لیے یہاں تجارتی جہاز زمانوں سے آتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ آثارِ قدیمہ سے مالامال ہے۔‘

یہ تلوار چار فٹ لمبی ہے اور اس کا وزن دو کلوگرام کے قریب ہے۔ یہ پوری طرح سے سمندری مونگے سے ڈھکی ہوئی ہے۔ محکمۂ آثارِ قدیمہ کے مطابق اسے صاف کر کے نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔ 

 صلیبی جنگیں

11ویں صدی کے اواخر میں عیسوی میں یورپ بھر سے مسیحی فوجیں پوپ اربن دوم کی قیادت اکٹھی ہو کر موجودہ اسرائیل پر حملہ آور ہونا شروع ہو گئیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان علاقوں کو مقدس سرزمین کہا جاتا تھا۔ یہاں مسلمانوں کی حکومت تھی اور مسیحی اسے آزاد کروانا چاہتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پہلی صلیبی جنگ 1095 میں شروع ہوئی، جس میں مغربی یورپ کے مختلف ملکوں کے جنگجو سخت جدوجہد کے بعد تین سال بعد بیت المقدس پر قبضہ کرنے اور فلسطین پر قبضہ کرنے اور اپنی ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

صلیبیوں نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ جلد ہی ان کے ہاتھوں سے نکل گئے اور عمادالدین زنگی نے ان پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔

اس کے جواب میں 1147 میں پوپ یوجین سوم کی ایما پر دوسری صلیبی جنگ کا آغاز ہوا جس میں فوجی قیادت فرانس اور جرمنی کے بادشاہوں نے کی۔ تاہم ان دونوں کو سلجوقوں نے الگ الگ معرکوں میں شکست دے دی۔ یوں یہ جنگ پوری طرح ناکام رہی۔

بیت المقدس ابھی تک مسیحیوں کے قبضے میں تھا۔ اسے مشہور مسلمان جرنیل صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں 91 برس مسیحیوں کے قبضے میں رہنے کے بعد دوبارہ فتح کر لیا۔

بیت المقدس چونکہ مسیحیوں کے لیے انتہائی مقدس مقام ہے  اس لیے اس کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد یورپ بھر میں غم کی لہر دوڑ گئی اور ایک بار پھر پوپ نے لوگوں کو ایک نئی جنگ پر ابھارنا شروع کر دیا۔

تیسری صلیبی جنگ کا آغاز 1192 میں ہوا، جس میں جرمنی، فرانس، انگلستان کے علاوہ کئی دوسرے ملکوں کے سپاہیوں نے شرکت کی۔

تاہم ان کے سامنے صلاح الدین ایوبی جیسا مانا ہوا سپہ سالار تھا، جس نے چند ابتدائی ناکامیوں کے بعد بیت المقدس کا کامیابی سے دفاع کیا، اور صلیبی لشکر اپنے مشن میں ناکام ہو کر واپس چلا گیا۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل میں دریافت ہونے والی تلوار اسی تیسری صلیبی جنگ سے تعلق رکھتی ہے۔ ٹھیک سے تو نہیں کہا جا سکتا لیکن قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کسی یورپی جنگجو نے مغربی یورپ کے کسی ملک سے یہ تلوار لے کر مذہبی جوش و جذبے کے تحت سفر شروع کیا ہو گا کہ اپنے مقدس شہر کو مسلمانوں سے چھڑوایا جائے۔

لیکن غالباً کسی بحری حادثے یا طوفان کی وجہ سے اس کا جہاز ساحل کے قریب ڈوب گیا۔ جنگجو کی لاش کب کی گل سڑ گئی، البتہ اس کی تلوار نو صدیوں بعد بھی محفوظ ہے اور اپنے مالک کی زندگی کی کہانی سناتی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ