سندھ میں 900 سے زائد قیدی جیل سے باہر سزا کاٹیں گے: محکمہ جیل

محکمہ داخلہ سندھ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ساتھ 931 قیدیوں کو پروبیشن پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک پاکستانی پولیس اہلکار 13 اکتوبر 2014 کو کراچی میں کراچی سینٹرل جیل کے مرکزی دروازے کے سامنے پہرہ دے رہا ہے(اے ایف پی فائل فوٹو)

محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے کے 27 اضلاع کی جیلوں میں موجود قیدیوں کی پیرول درخواستیں منظور ہونے کے بعد 931 قیدیوں کو پروبیشن پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد 32 بچوں، 42 خواتین اور 857 مرد قیدیوں کو پروبیشن پر رہا کیا جائے گا۔

پروبیشن کی درخواستیں دینے والوں میں کراچی ڈویژن کے پانچ اضلاع کے 300، حیدرآباد ڈویژن کے آٹھ اضلاع کے 363 ، میرپورخاص ڈویژن کے تین اضلاع کے 70، سکھر ڈویژن کے تین اضلاع کے 97، بینظیرآباد ڈویژن کے تین اضلاع کے 34 اور لاڑکانہ ڈویژن کے پانچ اضلاع کے 67 قیدی شامل ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کے ترجمان عاطف وگھیو نے بتایا: ’ان قیدیوں کو پروبیشن آف اوفینڈرز آرڈیننس کے تحت رہا کیا جارہا ہے۔ یہ قانون1961 کا بنا ہوا ہے مگر سندھ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو ایک ساتھ پروبیشن پر رہا کیا جا رہا ہو۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کو محکمہ داخلہ سندھ سے ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب میں مئی 2021 تک پروبیشن پر رہائی پانے والے قیدیوں کی تعداد 52 ہزار 827 ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں ایسے قیدیوں کی تعداد 3300 ہے۔

عاطف وگھیو نے کہا: ’سندھ کے مقابلے میں خیبرپختونخوا اور پنجاب میں پروبیشن لینے والے قیدیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔ سندھ میں کم تعداد کا بڑا سبب یہ ہے کہ قیدیوں کو پروبیشن قانون کے متعلق معلومات نہیں اور نہ ہی وکیل انہیں اس قانون کے بارے میں بتاتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’کوئی قیدی سماعت کے دوران جج کو ذاتی حیثیت میں درخواست دے دے تو بھی انہیں پروبیشن پر رہائی مل سکتی ہے اور باقی ماندہ سزا وہ جیل سے باہر بھی کاٹ سکتے ہیں۔‘

پروبیشن اور پیرول کیا ہوتا ہے؟ 

کرمنل لا کے ماہر وکیل ایڈوکیٹ محمد فاروق نے بتایا کہ پیرول کی منظوری صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے۔ صوبائی حکومت جس قیدی کو چاہیے پیرول پر رہا کرسکتی ہے۔

’یہ رہائی ایک دن کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور تین مہینے کی بھی، مگر پیرول پر رہائی ایک مخصوص وقت کے لیے دی جاتی ہے۔ یہ مستقل نہیں ہوتی۔‘

عاطف وگھیو نے بتایا: ’کوئی بھی قیدی جسے کسی جرم کی سزا سنائی جاچکی ہو اور وہ اپنی سزا کا ایک تہائی مکمل کر چکا ہو اور کسی کام کے سلسلے میں اس قیدی کو جیل سے باہر جانے کی ضرورت پڑ جائے، جیسے اس قیدی کے خاندان میں کوئی فوتگی ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں اس قیدی کو پیرول پر رہا کیا جاسکتا ہے، مگر پیرول پر رہائی کے بعد بھی وہ فرد انڈر کسٹڈی تصور کیا جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’بیمار ہونے کی صورت میں پیرول پر جانے والے قیدی کا علاج سرکار کرائے گی اور وہ فرد سزا یافتہ مجرم ہی سمجھا جائے گا۔ لمبے عرصے تک پیرول بھی دیا جاسکتا ہے۔

’جب کوئی قیدی انڈر ٹرائل ہو تو عارضی بنیاد پر پیرول دیا جاتا ہے۔ پروبیشن کے لیے درخواست قیدی دے گا جبکہ پیرول کا فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔‘

ایڈوکیٹ محمد فاروق کے مطابق پروبیشن دینے کا اختیار عدالت کو ہے۔ اگر کوئی قیدی پروبیشن کی درخواست دیتا ہے تو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ، جوڈیشل مجسٹریٹ، سیشن جج یا ہائی کورٹ کسی ملزم کو پروبیشن دے سکتے ہیں۔

’پروبیشن صرف ان قیدیوں کو مل سکتا ہے جو کسی سنگین نوعیت کے جرم میں قید نہ کاٹ رہے ہوں اور انہوں نے معمولی نوعیت کا کوئی جرم پہلی بار کیا ہو، جیسے ٹریفک قانوں توڑا ہو یا دفعہ 144 کی خلاف ورزی کی ہو یا کوئی معمولی جھگڑا کیا ہو۔‘

فاروق احمد نے مزید بتایا کہ ’زیادہ تر پروبیشن خواتین اور کم عمر بچوں کو دی جاتی ہے اور پروبیشن پر رہائی کے بعد ان قیدیوں کو ان کے گھر کے افراد کے حوالے کیا جاتا ہے جبکہ ایک پروبیشن افسر کبھی کبھار ان کی نگرانی کرنے جاتا ہے، جب تک ان کو دی گئی سزا مکمل نہ ہوجائے۔‘

عاطف وگھیو کے مطابق ہر ضلعے کی سطح پر ایک پروبیشن اینڈ پیرول افسر ہوتا ہے اور پروبیشن لینے والے افراد ہر 15 دن بعد اس افسر کو رپورٹ کرتے ہیں جبکہ ضلعے سے باہر جانے کی صورت میں بھی افسر کو آگاہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ 

انہوں نے مزید بتایا کہ پروبیشن آف اوفینڈرز آرڈیننس 1960 اور رولز 1961 قانون کے تحت پروبیشن لینے کی اہلیت مرد اور خواتین کے لیے الگ الگ ہے۔

’سزائے موت یا عمر قید کے علاوہ ہر قسم کی سزا پانی والی خواتین پروبیشن کے لیے درخواست دے سکتی ہیں جبکہ مردوں کے لیے چند مخصوص سزائیں ہیں، جن کے تحت قید کاٹنے والے ہی پروبیشن کی درخواست دے سکتے ہیں۔‘

’اس کے علاوہ وہ قیدی جو پیرول یا پروبیشن پر رہائی پاتے ہیں اور اس عرصے میں اگر وہ کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث پائے گئے تو پروبیشن اینڈ پیرول افسر انہیں وارننگ دیتا ہے اور کبھی انہیں عدالت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔‘

پاکستان میں کن مشہور شخصیات نے پیرول پر رہائی لی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

1996 میں کرپشن، نارکوٹکس کی سمگلنگ اور اقتدام قتل کے الزام میں گرفتار ہونے والے سابق وزیراعظم پاکستان بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی حکومت نے نومبر 2002 میں ان کی والدہ بلقیس بیگم کے انتقال پر عارضی طور پر پیرول پر رہا کیا تھا۔

اس کے علاوہ قید کے دوران آصف علی زرداری کو عید اور دیگر موقعوں پر بھی عارضی پیرول پر رہا کیا جاتا رہا۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کاٹنے والے سابق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو نومبر 2018 میں پنجاب حکومت نے بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے لیے عارضی طور پیرول پر رہا کیا تھا۔ 

نومبر 2020 میں پنجاب حکومت نے شہباز شریف کو ان کی والدہ بیگم شمیم اختر کی آخری رسومات کے لیے پانچ دن کے لیے پیرول پر رہا کیا تھا۔ 

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی موجودگی 

سندھ کے محکمہ جیل خانہ جات کی جانب سے 20 اکتوبر 2021 کو صوبے کے جیلوں میں موجود قیدیوں کے تعداد کے متعلق جاری رپورٹ کے مطابق سندھ میں کُل 27 جیلیں ہیں، جن میں سے تین بند ہیں جبکہ بقیہ 24 جیلوں میں 20 ہزار 565 قیدی ہیں۔

سابق انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات سندھ نصرت حسین منگن کے مطابق سندھ کی جیلوں میں 13 ہزار قیدی رکھنے کی گنجائش ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس وقت صوبے کی جیلوں میں گنجائش سے ساڑھے سات ہزار زائد قیدی رکھے گئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان