’سات بچے پیدا کرنے والی خاتون نے حمل ٹھہرانے والی دوا لی تھی‘

طبی تحقیق پر مبنی ویب سائٹ ’ری پروڈکٹیو فیکٹس‘ کے مطابق  دنیا بھر میں ’متعدد پیدائشیں‘ ماضی کے مقابلے میں بہت بڑھ گئی ہیں۔  جس کی مختلف سماجی، جسمانی اور سائنسی وجوہات ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد حمل ٹھہرنے سے ماں کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کو بھی کئی پیچیدگیوں اور خطرات کا سامنا رہتا ہے (پکسابے)

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے ہاں اکتوبر کے وسط میں سات بچوں کی پیدائش ہوئی جن میں سے چھ بچے یکے بعد دیگرے چل بسے ہیں جب کہ ایک بچہ تاحال زندگی و موت کی کشمکش میں ہے۔

اس حوالے سے متعلقہ ہسپتال کا کہنا ہے کہ ’سات بچوں کی پیدائش سے قبل خاتون نے حمل ٹھہرانے والی دوا لی تھی۔‘

ایبٹ آباد کے نجی میڈیکل کالج سے منسلک جناح ہسپتال جہاں سات بچوں کی پیدائش ہوئی، کے گائنی وارڈ کے مطابق بچوں کی پیدائش قبل از وقت یعنی 31ویں ہفتے میں ہوئی۔ جب کہ نارمل حالات میں یہ مدت 40 ہفتے کی ہوتی ہے۔

 ہسپتال کے گائنی وارڈ کی سربراہ و گائناکالوجسٹ ڈاکٹر روبینہ بشیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جڑواں اور متعدد بچوں میں یہ خدشہ ہمیشہ رہتا ہے کہ وہ ’پری میچور‘ یعنی قبل از وقت پیدا ہو سکتے ہیں اور اسی لیے ان کا وزن بھی ایک کلو یا اس سے کم ہوتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’ایک نارمل بچے کا وزن پیدائش کے وقت 2.5 کلوگرام ہونا چاہیے۔ جب کہ ان بچوں کا وزن ایک کلو کے لگ بھگ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پیدائش کے فوری بعد وہ مختلف مسائل کا شکار ہوئے اور باوجود کوشش کےجانبر نہ ہو سکے۔‘

ڈاکٹر روبینہ نے مریضہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ ضلع ایبٹ آباد سے تقریباً 73 میل دور ایک گاؤں چھتر پلین سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم رہے ہیں۔

ڈاکٹر روبینہ کا کہنا تھا کہ ’32 سالہ اس خاتون کے دو بچے اس سے قبل بھی آپریشن سے ہوئے تھے، اور اب بیٹے کی خواہش میں وہ دوبارہ حاملہ ہونا چاہ رہی تھیں۔ اس خاطر انہوں نے حمل ٹھہرانے والی ایک گولی لی، تاکہ وہ جلد از جلد حاملہ ہوں سکیں۔‘

گائناکالوجسٹ روبینہ بشیر کا کہنا ہے کہ ’متذکرہ خاتون کے ہاں متعدد بچوں کے جنم لینے کی وجہ وہ گولی اور انجیکشنز دکھائی دیتے ہیں جس کا استعمال خواتین فرٹیلیٹی یعنی افزائش نسل کے لیے کرتی ہیں۔‘

’افزائش نسل کی یہ ادویات اکثر دو یا دو سے زائد حمل ٹھہرانے کا موجب بنتی ہیں کیونکہ ان کو کھانے سے عورت کی بیضہ دانیوں میں زیادہ انڈے جنم لیتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’بیضہ دانیوں میں زیادہ انڈے جنم لینے سے زیادہ انڈے خارج ہونے اور حمل ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم دو یا دو سے زائد حمل ٹھہرنے سے عورت کی صحت اور جان کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ جن کومکمل اور مستقل طبی دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔‘

اگرچہ جناح ہسپتال میں سات بچے پیدا کرنے والی خاتون کو بظاہر کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوئی اور ان کی جان بھی بچ گئی لیکن متعلقہ گائنی وارڈ کے مطابق حاملہ خاتون ان سے مستقل چیک اپ نہیں کرواتی تھیں۔ لہذاجب آخری مرحلے میں وہ ان کے پاس پہنچیں تو ان کا بلڈپریشر خطرناک حدوں کو چھورہا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اعجاز حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب بھی دو یا متعدد حمل ٹھہرتے ہیں تو یہ ہائی رسک تصور کیا جاتا ہے۔‘

’بچہ دانی میں بچوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی قبل از وقت ڈیلیوری کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ متعدد حمل ٹھہرنے سے عورت کو شدید ہائی لیول بلڈپریشر رہتا ہے۔ خون کی کمی کے ساتھ انہیں ذیابیطس، اسقاط حمل، سی سیکشن، بچوں کی پیدائش کے بعد خون بہنے (بلیڈنگ) جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متعدد حمل ٹھہرنے سے ماں کے ساتھ ساتھ نومولود بچوں کو بھی کئی پیچیدگیوں اور خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

طبی تحقیق پر مبنی ویب سائٹ ’ری پروڈکٹیو فیکٹس‘ کے مطابق  دنیا بھر میں ’متعدد پیدائشیں‘ ماضی کے مقابلے میں بہت بڑھ گئی ہیں۔  جس کی مختلف سماجی، جسمانی اور سائنسی وجوہات ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق ’قدرتی طور پر ہر 250 میں سے ایک کیس جڑواں بچوں کا آتا ہے۔ جب کہ ہر 10 ہزار میں سے ایک ٹریپلیٹ ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر سات لاکھ میں ایک ’کواڈروپلیٹ‘(چار بچے) کا کیس ہوتا ہے۔ تاہم آج کل متعدد پیدائشوں کی ایک بڑی وجہ فرٹیلیٹی کی ادویات ہیں۔‘

ڈاکٹر روبینہ بشیر کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں بھی دو سے زائد بچوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے پیچھے وجہ بھی ’خاص‘ ادویات کا استعمال ہے۔‘

انہوں نے مشورہ دیا کہ ’شادی شدہ جوڑوں کوادویات کی دکانوں میں دستیاب فرٹیلیٹی کی ادویات ڈاکٹر کے مشورے پر لینے چاہئیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی صحت