پاکستان نے پیر کو متحدہ عرب امارات کے براكة جوہری پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ابوظبی حکام نے اتوار کو بتایا تھا کہ الظفرة ریجن میں واقع براكة جوہری پاور پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار کے باہر ایک برقی جنریٹر میں ڈرون سٹرائیک کے باعث آگ بھڑک اٹھی۔
اماراتی حکام کا کہنا تھا کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ تابکاری کے حفاظتی معیار پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔
بعد میں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ 17 مئی 2026 کو متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے تین UAVs (ڈرونز) کو روکا جو مغربی سرحد کی سمت سے ملک میں داخل ہوئے تھے۔
پاکستان نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جوہری تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے قوانین اور قراردادوں میں شامل جوہری تحفظ و سلامتی کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان کے مطابق ’جوہری تنصیبات کو کسی بھی صورت حال میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات انسانی جانوں، ماحولیات اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کے لیے تباہ کن اور ناقابل واپسی نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔‘
پاکستان نے زور دیا ہے کہ شہری جوہری تنصیبات کا تحفظ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی اصول ہے جسے ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔
اس کے علاوہ پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔