ناقابل علاج چھاتی کے سرطان کی شکار خواتین کے لیے نئی امید

دوا رائبوسیکلیب کی کلینکل ٹرائل کے دوران کینسر میں مبتلا ماہواری ختم ہونے کی عمر کے قریب خواتین میں تین سال کے بعد بھی زندہ ہونے کے امکانات 50 فیصد تھے۔

رائبوسیکلیب تھراپی لینے والی خواتین اوسط 23 ماہ کینسر کے پھیلاو کے بغیر زندہ رہیں(پی اے)

ایک تحقیق کے مطابق چھاتی کے سرطان سے متاثرہ ہزاروں خواتین اب ایک دوا کے ذریعے اپنی زندگی میں کئی سالوں کا اضافہ کر سکتی ہیں۔ رائبوسیکلیب نامی پریسشن علاج کرنے والی یہ دوا نہ صرف کینسر کے خلیے کو بڑھنے سے روکتی ہے بلکہ پھیلنے سے بھی۔   

جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے نتائج کے مطابق، مریضوں میں رائبوسیکلیب کی کلینکل ٹرائل کے دوران معلوم ہوا کہ جب چھاتی کی سرطان کی شکار ایسی خواتین جو ماہواری ختم ہونے کی عمر کے قریب تھیں کو یہ تھراپی دی گئی تو ساڑھے تین سال کے بعد بھی ان کے زندہ ہونے کے امکانات 50 فیصد تھے۔

یہ تھراپی لینے والی خواتین اوسط 23 ماہ کینسر کے پھیلاو کے بغیر زندہ رہیں جبکہ اس کے مقابلے میں وہ خواتین جنہیں پلاسیبو (رائبوسیکلیب کے بغیر دوایں) دیں گئی ان میں 13 ماہ تک کینسر کا پھیلاو نہیں ہوا۔

پریسیشن علاج کرنے والی یہ تھراپی ایک تازہ تحقیق میں پہلی بار سامنے آئی ہے۔ روایتی ہارمون تھراپی کے ساتھ ساتھ کیا جانے والا یہ علاج نہ صرف کینسر کو روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ زندہ رہنے کے امکانات بھی بڑھا دیتا ہے۔

یو سی ایل اے جانسن جامع کینسر سینٹر کی ڈاکٹر سارہ ہروٹز کے مطابق: ’رائبوسیکلیب تھراپی کا شروع میں ہی استعمال مریضوں کے لیے زندہ رہنے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے جو کہ اس خطرناک بیماری کی شکار خواتین کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔‘

یہ طریقہ علاج حال ہی میں برطانیہ کے محکمہ قومی صحت نے بھی شامل کر لیا ہے جس پر برطانوی ماہرین صحت کا کہنا ہے یہ ہزاروں خاندانوں کو ایک نئی امید دے گا۔

ماہواری کی عمر کے قریب خواتین میں چھاتی کا سرطان زیادہ شدید ہوتا ہے اور اس کا علاج بھی مشکل ہوتا ہے۔

اس عالمی مونا لیسا 7 ٹرائل میں 672 خواتین شامل تھیں جن کی عمریں 59 سال سے کم تھی اور وہ ایڈوانسڈ بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں۔

امریکی شہر شکاگو میں امریکی کلینیکل آنکولوجی سوسائٹی کے سالانہ اجلاس میں اس کے نتائج پیش کیے گئے جس میں بتایا گیا کہ اس طریقہ علاج سے گزرنے والی 70 فیصد خواتین 42 ماہ تک زندہ رہیں جبکہ اس کے مقابلے میں صرف ہارمون تھراپی اور پلاسیبو لینے والی خواتین میں یہ تناسب 46 فیصد تھا۔

صرف برطانیہ میں اس طریقہ علاج سے سالانہ ایک ہزار پانچ سو خواتین فائدہ اٹھا سکیں گی۔ عام طور پر اس دوا پر سالانہ 35 ہزار پاونڈز فی مریض لاگت آتی ہے لیکن محکمہ صحت کی جانب سے اس کو رعایتی نرخوں پر خریدا گیا ہے۔

امدادی تنظیم ’بریسٹ کیسنر ناؤ‘ کے چیف ایگزیکٹو ڈیلتھ مورگن کہتے ہیں: ’یہ کینسر سے متاثرہ افراد اور ان کے عزیزوں کے لیے ایک ناقابل بیان خوشی کی بات ہے۔ یہ ایک بہت ہی خوش کرنے والی بات ہے کہ رائبوسیکلیب ان ہزاروں خواتین کو جینے کے مزید مواقع دے سکتی ہے جو چھاتی کے سرطان سے متاثر ہیں۔‘

’ہم اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے کہ متاثرہ خواتین کے لیے یہ کتنی اہم اور خوشی کی بات ہوگی کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ مزید وقت گزار سکتی ہیں اور اپنی زندگی کو یادگار بنا سکتی ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق