امریکہ جانے کے خواہش مندوں کو سوشل میڈیا کی تفصیل بھی دینی ہوگی

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ویزے کے خواہش مندوں کے لیے ویزا درخواست فارم پر سوشل میڈیا تفصیلات فراہم کی شرط رکھ دی گئی ہے۔

ماضی میں سوشل میڈیا، ای میل اور فون نمبر جیسی تفصیلات صرف ان افراد سے مانگی جاتی تھیں جن کے لیے اضافی جانچ پڑتال کا عمل ضروری سمجھا جاتا تھا خاص طور پر ایسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے جو دہشتگردوں کے تسلط میں رہے ہوں (پی اے)

امریکہ کا سفر کرنے والے تقریباً تمام مسافروں کو گذشتہ پانچ سال کے دوران استعمال کیے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، فون نمبرز اور ای میل ایڈریسز کی معلومات ظاہر کرنا ہوں گی۔

 امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے ترمیم شدہ ویزا درخواست فارموں میں امریکی ویزے کے خواہش مند افراد کو مستقل یا عارضی ویزے کے حصول کے لیے گذشتہ پانچ سال کے دوران استعمال کیے گئے انسٹا گرام، ٹوئٹر، فیس بک، اور یوٹیوب اکاؤنٹس کی تفصیلات ظاہر کرنا ہوں گی۔

یہ ترمیم تقریباً 1.5 کروڑ افراد کو سالانہ متاثر کر سکتی ہے۔ ان میں تعلیم اور کاروبار کی غرض سے جانے والے افراد بھی شامل ہیں۔ کچھ سفارتی اور سرکاری ویزا اقسام کو اس شرط سے استشنی دیا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک علامیے کے مطابق :’قومی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اس لیے امریکہ آنے کا خواہش مند ہر فرد کڑی جانچ پڑتال کے عمل سے گزرتا ہے۔ امریکی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہم ان سیکیورٹی مراحل کو مزید موثر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ قانون کے مطابق امریکہ آنے والے افراد کے لیے آسانی پیدا کی جا رہی ہے۔ درخواست کنندوں کی اضافی معلومات ان کی شناخت اور جانچ کے عمل میں مددگار ثابت ہو گی۔‘

یہ ترمیم سالانہ 1.4 کروڑعارضی رہائش کے خواہش مند افراد کے ساتھ ساتھ سات لاکھ 10 ہزار مستقل رہائش کے خواہش مند افراد کو متاثر کرے گی۔

ماضی میں سوشل میڈیا، ای میل اور فون نمبر جیسی تفصیلات صرف ان افراد سے مانگی جاتی تھیں جن کے لیے اضافی جانچ پڑتال کا عمل ضروری سمجھا جاتا تھا خاص طور پر ایسے علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے جو دہشتگردوں کے تسلط میں رہے ہوں۔ ہر سال تقریباً 65 ہزار لوگ اضافی جانچ پڑتال کے اس عمل سے گزرتے تھے۔

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

تنظیم ’امریکن سول لبرٹیز یونین‘ نے 2018 میں جاری ایک بیان میں کہا کہ ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرتا ہو کہ سوشل میڈیا مانیٹرنگ موثر اور شک سے بالاتر ہے۔ ایسے قوانین خود ساختہ پابندیوں کو جنم دیں گے اور مسلمان اکثریتی ملکوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف امتیاز پر مبنی ہیں۔

’حکومت اس بارے میں یہ بتانے میں ناکام ہو چکی ہے کہ ان معلومات کا سرکاری اداروں اور ایجنسیوں کے درمیان کس طرح تبادلہ کیا جائے گا اور ایسا کرنا امریکہ میں رہنے والے افراد بشمول امریکی شہریوں پر کیا اثرات ڈالے گا۔‘

امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے اس بارے میں پہلی ممکنہ پالیسی مارچ 2018 میں شائع کی گئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی الیکشن مہم میں پناہ گزینوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا