مہمند کے نوجوان کی جیب خرچ سے بنائی گئی ذاتی لائبریری

سابقہ قبائلی ضلع مہمند کے نوجوان نجیب اللہ مہمند نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچاکر میچنئی کے علاقے بھائی کور میں ایک نجی لائبریری بنا ڈالی ہے، جسے چلانے میں بعض اوقات ان کی والدہ بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں۔

سابقہ قبائلی ضلع مہمند کے ایک نوجوان نجیب اللہ مہمند نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچاکر میچنئی کے علاقے بھائی کور میں ایک نجی لائبریری بنا ڈالی ہے، جسے چلانے میں بعض اوقات ان کی والدہ بھی ان کا ساتھ دیتی ہیں۔

نجیب اللہ مہمند نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ ’مشال لائبریری سابقہ فاٹا کی پہلی نجی لائبریری ہے اور میں یہ لائبریری پچھلے سات سال سے چلا رہا ہوں۔‘

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے پیس اینڈ کنفلکٹ سٹڈی میں ایم فل کرنے والے نجیب اللہ نے بتایا: ’مجھے اپنے پسماندہ علاقے میں لائبریری بنانے کا خیال اس وقت آیا جب میں نصابی کتابیں خریدنے کے لیے پشاور گیا، لیکن اس وقت میں کچھ کتابیں پیسوں کی کمی کی وجہ سے خرید نہیں سکا تو میں نے سوچا کہ جس طرح میں اضافی کتابیں خرید نہیں سکا تو علاقے میں سکول، کالج اور یونیورسٹی کے بہت سے ایسے طلبہ ہیں، جو کافی غریب ہیں اور اتنی مہنگی کتابیں نہیں خرید سکتے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح کی کوئی لائبریری علاقے میں نہیں تھی اور کالج میں جو لائبریری تھی وہ بھی ہر وقت بند ہوتی تھی۔ ’میں نے گھر میں پڑی کچھ جنرل کتابیں اکٹھی کر کے سابقہ فاٹا کی پہلی نجی لائبریری کاباقاعدہ آغاز کیا۔‘

 نجیب اللہ مہمند نے بتایا کہ ’مشال لائبریری میں خود سنبھالتا ہوں لیکن جب پڑھائی کے لیے میں اسلام آباد میں موجود ہوں تو بھائی سنبھال لیتے ہیں، لیکن زیادہ تر میری والدہ سنبھالتی ہیں اور اگر ہماری غیرموجودگی میں کوئی وزیٹر آجائے تو اس کے لیے لائبریری کو کھولنے اور رجسٹر میں انٹری وغیرہ کے بارے میں بھی وہ بتا دیتی ہیں۔‘

نجیب اللہ مہمند کی 60 سالہ والدہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ وہ اس وقت لائبریری سنبھال لیتی ہیں، جب ان کا بیٹا یا شوہر گھر میں موجود نہیں ہوتے۔

انہوں نے بتایا: ’میں خود تو نہیں لکھ سکتی لہذا کتاب لینے والے لڑکے یا لڑکی سے کہتی ہوں کہ جو بھی کتاب آپ لے جانا چاہتے ہیں، اس کا نمبر، اپنا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر رجسٹرڈ میں لکھ دیں اور کتاب لے جانے کی تاریخ بھی لکھ دیں اور جب کتاب واپس کرنے کے لیے آتے ہیں تو کہتی ہوں کہ کتاب جمع کروانے کی تاریخ بھی رجسٹر میں لکھ دیں۔‘

لائبریری میں دلچسپی لینے کے حوالے سے سوال کے جواب میں نجیب کی والدہ نے بتایا کہ ’میں کہتی ہوں کہ یہاں کے لوگوں کا یہ ارمان نہ رہ جائے اور ہر شخص روشنی کی طرف آئے۔ پہلے ہی یہ سارے علاقے اندھیرے میں ہیں، جس کی وجہ سےکوئی اچھے یا برے میں تمیز نہیں کرتا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’یہ سارے لوگ اندھیرے سے روشنی کی طرف آئیں، کتاب پڑھیں، تعلیم حاصل کریں اور جب یہ لوگ کتاب پڑھیں گے تو انہیں معلومات ملیں گی، جس کی وجہ سے وہ روشنی اور اندھیرے میں فرق پہچانیں گے۔

کیا خواتین بھی لائبریری سے مستفید ہورہی ہے؟

اس سوال کے جواب میں نجیب اللہ نے بتایا کہ ’یہ مرد غالب معاشرہ ہے لیکن خواتین بھی کم تعداد میں آتی ہیں۔ ابھی اگر لائبریری میں دیکھیں تو جو خواتین انٹر ہوچکی ہیں، ان کی تعداد 10 سے 12 تک ہے۔ ان میں سے دو تین ایک بار آکر کتابیں لےکر گئیں اور  پھر واپس کرکے پھر یہ سلسلہ جاری رکھا۔‘

انہوں نے بتایا کہ مشال لائبریری خواتین کے لیے دوردراز گاؤں میں موبائل سروس بھی مہیا کرتی ہے اور ان کے گھرکے مرد یا ان کے بچے وہ کتابیں گھر پر کتابیں لے جاتے ہیں، جن میں سے خواتین اپنی مطلوبہ کتاب چن لیتی ہیں۔

’ابھی ارادہ ہے اور مختلف محکموں سے بات بھی ہوچکی ہے کہ خواتین کے لیے الگ عمارت کی منظوری ہوجائے گی جس میں چاردیواری، واش رومز اور ہال بنایا جائے گا۔‘

نجیب نے مزید بتایا کہ موٹرسائیکل کے ذریعے ہم لائبریری سے موبائل سروس کرتے ہیں اور زیادہ دوردراز علاقوں تک طلبہ وطالبات تک کتابیں لے جاتے ہیں اور اگر ان علاقوں میں کسی کو لائبریری کے بارے میں معلومات نہیں ہیں تو وہاں پر جو دوست مشال لائبریری کے بارے میں جانتے ہیں، ان کے ذریعے طلبہ کو اکھٹا کرتے ہیں اور کتابیں بھی ان کی ذمہ داری پر جاری کرتے ہیں اور پھر واپس کتابیں جمع کرکے ہمیں واپس کردیتے ہیں۔

لائبریری کے لیے کتابیں کس طرح مہیا کیں؟

نجیب اللہ مہمند نے بتایا کہ  انہوں نے گھر میں پڑی 150 کتابوں سے مشال لائبریری کاآغاز کیا۔ ’کالج اور یونیورسٹی کے لیے جو مجھے جیب خرچ ملتا تھا، اس میں سے روزانہ 10، 15 یا 20 بیس روپے بچاتا تو مہینے کے پانچ سے چھ سو روپے تک ہوجاتے۔ پھر جب میں اسلام آباد پڑھائی کے لیےگیا تو راولپنڈی میں اتوار کو لگنے والے کتابوں کے بازار سے بہت کم قیمت پر یعنی 50، 60 فیصد رعایت پر اچھی اچھی کتابیں مل جاتیں، تو کوشش یہ تھی کہ مہینے میں چار پانچ کتابیں خرید لوں۔‘

’اس کے علاوہ مختلف لوگ اور کچھ ادارے بھی کتابیں دیتے رہے، جس کے ساتھ کتابوں کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی، جن میں اردو ادب، انگریزی ادب، پشتو ادب، اسلامی تاریخ، مقابلے کے امتحان، میڈیکل کے امتحان، بزنس سٹڈی، مختلف سوانح حیات اور شخصیات کے بارے میں موٹیویشنل کتابوں کے ساتھ مختلف ٹیسٹس اور این ٹی ایس وغیرہ کی کتابیں شامل ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نجیب نے مزید بتایا: ’میرا خیال ہے کہ کتابیں اور زیادہ بڑھا دینی چاہییں کیونکہ یہ بہت کم ہیں اور اکثر لوگوں کی ایسی ڈیمانڈ آتی ہے، جو کتابیں یہاں موجود نہیں ہوتیں تو پھر میری کوشش ہوتی ہے کہ ان کے لیے کہیں نہ کہیں سے کتابوں کا بندوبست کرسکوں۔‘

انہوں نے کہا کہ مشال لائبریری کی رجسٹریشن کی کوئی فیس نہیں ہے اور سب کچھ مفت ہے۔ گذشتہ سات سالوں میں سینکڑوں لوگ اس کے ساتھ وابستہ ہوچکے ہیں اور مہینے میں اوسط 30 سے 32 کتابیں جاری ہوجاتی ہیں جبکہ کتاب ایک مہینے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔

نجیب اللہ مہمند نے بتایا کہ ’اس کے علاوہ لائبریری میں، میں طلبہ کی کاؤنسلنگ بھی کرتا ہوں کہ انہیں کون سی فیلڈ میں جانا چاہیے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ایسے طلبہ بھی آتے ہیں، جو پرائیویٹ امتحان کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اور جن کے پاس پیسے نہیں ہوتےکہ وہ ریگولر تعلیم حاصل کرسکیں یا اپنے لیے ریگولر کتابیں خرید سکیں۔

نجیب نے کہا کہ ان کے پاس کتابیں محدود ہیں اور ڈیماند زیادہ ہے، ’لہذا میں طلبہ اور مخیر حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ کے پاس ایسی کتابیں ہوں تو وہ مشال لائبریری کو عطیہ کریں۔‘

انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ کوشش ہے کہ مشال لائبریری دنیا کی بڑی لائبریری میں شمار ہو جائے اور دوسرے قبائلی اضلاع میں بھی اس کی شاخیں کھولی جاسکیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل