شناختی کارڈ پر جنس تبدیلی میں آسانی پر تحفظات کیوں؟

سینیٹ میں جمع اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی 28 ہزار سے زائد درخواستیں ملی ہیں۔

نومبر 2017 میں ورلڈ  ٹرانس جینڈر ڈے کے موقعے پر کراچی میں ایک تقریب (اے ایف پی)

پاکستان کی سینیٹ میں حالیہ دنوں میں پیش ہونے والے اعداد وشمار کے مطابق گذشتہ تین سالوں میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کو اپنے ریکارڈز میں جنس تبدیلی کی 28723 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے لیے 2018 میں ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) ایکٹ کی منظوری کے بعد سے جنس تبدیلی کی درخواستوں کی یہ ایک بڑی تعداد ہے، جسے مذہبی حلقوں نے ’تشویش ناک‘ قرار دے کر قانون میں ’ممنکہ غلطیوں‘ کی ترامیم کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر خواجہ سرا کارکنان نے کہا ہے کہ قانون کافی پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے نچلی سطح پر خواجہ سراؤں کو فائدہ نہیں ہوا۔

سینیٹ کے 10 نومبر کے اجلاس میں سوال جواب کے سیشن میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے وزیر داخلہ شیخ رشید سے سوال کیا کہ جولائی 2018 سے جون 2021 تک نادرا کو جنس تبدیلی سرٹیفیکیٹ کے اجرا کے لیے ملنے والی درخواستوں کی کُل تعداد بتائی جائے اور ساتھ ساتھ بتایا جائے کہ درخواست دینے والوں کی موجودہ جنس کیا تھی اور وہ اسے تبدیل کروا کر کیا لکھوانا چاہتے تھے۔

وزارت داخلہ نے جواب جمع کروایا کہ نادرا جنس تبدیلی کے سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کرتا، اس کے ریکارڈز میں جنس میں تبدیلی طبی بنیادوں پر یا پھر ٹرانس جینڈر مرد یا عورت کی درخواست پر کی جاتی ہے۔

وزارت داخلہ کے اعداد وشمار کے مطابق، گذشتہ تین سالوں میں نادرا کو جنس تبدیلی کی 28723 درخواستیں موصول ہوئیں، جن پر عمل درآمد کیا گیا۔

ان میں سب سے زیادہ 16530 درخواستیں جنس مرد سے عورت میں تبدیل کرنے اور 15154 درخواستیں خاتون سے مرد میں تبدیل کرنے کی تھیں۔

اسی طرح مرد سے ٹرانس جینڈر بننے کے لیے نو درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ عورت سے ٹرانس جینڈر بننے کے لیےکوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

البتہ ٹرانس جینڈر سے مرد بننے کے لیے 21 درخواستیں اور ٹرانس جینڈر سے عورت بننے کے لیے نو درخواستیں جمع کروائی گئیں۔

دیے گئے شماریات کے حساب سے مرد سے عورت بننے کی خواہش رکھنے والے درخواست گزاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جب کہ دوسرے نمبر پر زیادہ تعداد خواتین سے مرد بننے والے درخواست گزاروں کی ہے۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اسے ’تشویش ناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018 کے قانون میں ’خطرناک غلطی ہوئی ہے جس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے مشتاق احمد نے بتایا کہ انہوں نے اس موضوع پر سوال اس لیے اٹھایا تھا تاکہ یہ جان سکیں کہ کتنی تعداد میں لوگ جنس تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

’28723 ایک بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ ایک تشویش ناک اور خطرناک بات ہے کیونکہ حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے تو اصل ٹرانس جینڈر جن کی جنس میں پیدائشی ابہام ہوتا ہے، پوری دنیا میں بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں۔‘

سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ خواجہ سراؤں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے قانون میں خواجہ سرا کا مفہوم غلط بیان گیا ہے۔

’اس قانون میں بغیر کسی میڈیکل بورڈ سے تصدیق کے شناختی کارڈ میں اپنی جنس تبدیل کی جاتی ہے۔ اس ’خامی‘ کی وجہ سے ہی درخواست گزاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔‘

انہوں نے کہا کہ 2018 کا قانون وراثت کے قانون اور معاشرتی اقدار کو تہہ وبالا کر رہا ہے۔

’اگر ایک عورت بغیر کسی طبی تصدیق کے شناختی کارڈ میں اپنا جنس تبدیل کرکے مرد بنتی ہے تو جائیداد میں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔

’اس طرح اگر مرد محض شناختی کارڈ میں اپنا جنس تبدیل کر لے تو وہ کسی بھی خواتین کے واش رومز میں جاسکتا ہے، اور کئی طریقوں سے اس کا استحصال ہوسکتا ہے۔‘

انہوں نے اس قانون میں ترامیم تجویز کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ میں جنسی شناخت تبدیل کرنے کے لیے ایک میڈیکل بورڈ ہونا چاہیے جس میں ایک خاتون سرجن، ایک مرد سرجن اور ایک ماہر نفسیات کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی شناخت کے کاغذات میں قانونی طور پر جنس کی تبدیلی کے لیے ایک قانونی طریقہ کار نافذ ہے۔

جینڈر ریکگنیشن ایکٹ 2004 کے تحت  اگرچہ جنس تبدیل کرنا افراد کا حق ہے لیکن پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر جنس تبدیل کروانے کے لیے لازماً ایک طبی بورڈ کا سرٹیفکیٹ اور دو سال کے لیے اپنی منتخب جنس کے طور پر رہنا ہوگا (کراس ڈریسنگ، وغیرہ)۔

فائدہ کس کو؟

خواجہ سراؤں کے حقوق پر کام کرنے والی معروف سماجی کارکن  نایاب علی نے کہا کہ جہاں یہ قانون ان افراد کے لیے ایک سہولت ہے، جو اپنی (طبی یا سماجی طور پر) طے کردہ جنس میں خوش نہیں اور اسے بدلنا چاہتے ہیں، وہیں تشویش کی بات یہ ہے کہ اس سے ایسے لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو صحیح معنوں میں ٹرانس جینڈر نہیں۔

ان کے بقول پاکستان کے مختلف شہروں میں زیادہ تر خواجہ سراؤں کی ایک بڑی تعداد حقیقی طور پر مردوں کی ہے۔

نایاب علی نے 2018 کے قانون کے مسودے پر کام کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تین مسودے تیار کیے گئے تھے جن کو ضم کرکے قانون کی شکل تو دی گئی لیکن یہ کافی پیچیدہ ہوگیا، اور اس سے گراس روٹ لیول پر خواجہ سراؤں کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

قاتون پر تحفظات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک عام آدمی ٹرانسجینڈر کے صحیح مفہوم سے آگاہ ہی نہیں ہے۔

نایاب کے بقول: ’اسلامی نظریاتی کونسل اور شریعت کورٹ میں بھی اسی لیے مخالفت کی جارہی ہے کہ ایک پورا مرد یا پوری عورت اگر بلاوجہ اپنا جنس تبدیل کرے تو اس کی اسلام میں ممانعت ہے۔‘

اگرچہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہے کہ وہ اپنے لیے کون سا صنف منتخب کرتا ہے، تاہم مذہبی حلقوں میں اس پر تشویش بھی پائی جاتی ہے۔

2013 میں اسلامی نظریاتی کونسل نے جنس تبدیلی اور کلوننگ کو غیر اسلامی قرار دیا تھا۔ اس وقت کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا تھا کہ گو کہ یہ حرام ہے لیکن ضرورت کے تحت میڈیکل سائنس کی مدد سے کسی بھی صنف کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

معاشرتی مشکلات

پشاور کی ایک اور خواجہ سرا ماریانہ کا کہنا تھا کہ خواجہ سرا وہ ہوتے ہیں جن میں پیدائشی طور پر جنسی اعضا میں ابہام ہوتا ہے، یا جو بظاہر لڑکا یا لڑکی پیدا ہوتے ہیں، مگر ذہنی طور پر سماج یا ڈاکٹروں کی مقرر کردہ جنس کے برعکس محسوس کرتے ہیں اور مخالف جنس کے طور پر ہی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، جس کے لیے وہ ہورمون تھارپی یا سیکس چینج آپریشن بھی کروا سکتے ہیں یا کرواتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ماریانہ نے وضاحت کی کہ ضروری نہیں کہ ہر خواجہ سرا نے آپریشن کروایا ہو، کیونکہ یہ اکثر بہت مہنگا ہوتا ہے یا لوگ ڈرتے بھی ہیں۔

بڑھتے ہوئے معاشی مسائل بھی جنس تبدیلی کی ایک وجہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے نوید میں بھی ایک ایسی ہی داستان سنائی۔

پورا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے، نوید، جو پہلے ناہید تھے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو  بتایا کہ انہوں نے غربت سے تنگ آکر اپنی جنس اس طرح تبدیل کی کہ کوئی آپریشن کیے بغیر انہوں نے باہر سے اپنی وضع قطع تبدیل کی۔

نوید کی پانچ اور بہنیں تھیں اور ایک بھائی جو بہت چھوٹا تھا۔ 20 سال پہلے انہوں نے مرد کے طور پر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ خاندان کی کفالت کر سکیں۔

’لڑکا بن کر میں نے مردوں کے اس معاشرے میں ڈٹ کر محنت کی۔ پانچ بہنوں کی شادیاں کرائیں۔ ماں کا علاج کروایا، اور اب بیمار والدکا خیال رکھ رہا ہوں۔‘

نوید نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے دوہری زندگی گزار رہے ہیں، لیکن اب ان کی کوئی خواہش بھی نہیں ہے کہ وہ لڑکی بنیں اور شادی کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان