خواجہ سراؤں کے اپنے حقوق کے لیے10 مطالبات کیا ہیں؟

احتجاج میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی نے عام عوام اور حکومت سے خواجہ سراؤں کے حقوق اور ان کی حفاظت سے متعلق دس مطالبات کیے ہیں۔

کراچی پریس کلب کے باہر خواجہ سراؤں پر تشدد کے خلاف جمعے کو ہونے والے مظاہرے میں شریک افراد (انڈپینڈنٹ اردو)

کراچی میں خواجہ سرا کمیونٹی کی جانب سے جمعے کو کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین نے حکومت سے خواجہ سراؤں کے حقوق اور ان کی حفاظت سے متعلق 10 مطالبات کیے ہیں۔

یہ احتجاج 18 ستمبر کی رات ڈیڑھ بجے کراچی سپرہائی وے کے قریب واقع گڈاپ ٹاؤن کے وائٹ ولا فارم ہاؤس میں خواجہ سرا شہزادی کی سالگرہ کے موقعے پر مورتوں اور بیلوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے سلسلے میں کیا گیا۔

18 ستمبر کی شب 10 سے 12 افراد نے مبینہ طور پر وائٹ ولا فارم ہاؤس پر حملہ کیا تھا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر محمد معیز اور ان کے ساتھ موجود مورت فردوس کی گاڑی اس حملے کی زد میں آ گئی تھی۔

 ڈاکٹر معیز کے مطابق وہ اس فارم ہاؤس پر اپنی قریبی دوست شہزادی کی سالگرہ پر آئے تھے۔ ان کے مطابق ان پر حملہ کرنے والے افراد کا تعلق ’بیلہ کمیونٹی‘ سے تھا ’جو کہ کافی عرصے سے خواجہ سراؤں اور مورتوں (کوئرز) کو تشدد اور زیادتی کا نشانہ بنا رہے ہیں مگر اب تک ان کے حوالے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔ ‘

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ ’حملے کے وقت مجھے گاڑی سے باہر نکال کر زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ لوگ (بیلے) اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ حملے کی خبر ملتے ہی فارم ہاؤس کے گارڈ نے دروازے بند کردیے تھے جس وجہ سے ہماری گاڑی اندر نہیں جا سکی تھی۔ حملہ آوروں نے جب مجھے اور فردوس کو گاڑی میں پہچانا تو ہماری گاڑی پر دھاوا بول دیا۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’بیلوں نے گاڑی کے اندر ہاتھ ڈال کر میرا فون چھین لیا، میری پیلے رنگ کی قمیص پھاڑ دی اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ‘

ان کے مطابق فون چھن جانے سے قبل انہوں نے اپنے ایک بچپن کے دوست کو واٹس ایپ پر اپنی لوکیشن بھیج دی تھی اور کہا تھا کہ ’خدا کے واسطے مجھے بچا لو، آج 40 لوگ مل کر میرا ریپ کرنے والے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’میں نے کافی مزاحمت کے بعد ان سے خود کو بچا کر گاڑی کا دروازہ بند کیا۔ تاہم اس دوران ساتھ والے فارم ہاؤس سے ہوائی فائرنگ ہوئی اور گڈاپ پولیس بھی موقعے پر پینچ گئی۔ پولیس کے ساتھ مل کر میں نے کچھ بیلوں کو پکڑا جو کہ فارم ہاؤس کی دیوار عبور کر کے اندر داخل ہوگئے تھے۔ ان میں سے ایک بیلے کو میں نے پکڑا جس نے میرے ساتھ ہونے والا تشدد دیکھا تھا، میں نے اسے کہا کہ تم پولیس کی باقی بیلوں کو پکڑنے میں مدد کرو گے۔‘

اس معاملے کے بعد ڈاکٹر معیز نے گڈاپ تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی جس میں پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کے تحت دفعات 147، 149، 427، 504 اور 506 شامل کیں ہیں۔

گڈاپ ٹاؤن کے ایس ایچ او نوٹک خان کے مطابق جس وقت وہ موقع واردات پر پہنچے، کافی حملہ آور وہاں سے بھاگ چکے تھے۔ مگر چھ افراد کو واقعے کی جگہ سے حراست میں لیا گیا مگر بعد میں انہیں ان کی درخواست پر رہا کردیا گیا تھا۔

گڈاپ پولیس نے اگلے روز اسامہ قریشی نامی حملہ آور کو بھی گرفتار کیا جو کہ ایک خاتون کے ساتھ گڈاپ تھانے سے اپنی بائیک واپس لینے آیا تھا جو اس نے اسی فارم ہاؤس کے باہر چھوڑ دی تھی۔ ڈاکٹر معیز سے اس شخص کی شناخت کروانے کے بعد پولیس نے اسے حراست میں لے لیا اور خاتون کو جانے دیا۔

خواجہ سراؤں کے مطالبات:

جمعے کو کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں خواجہ سراؤں کی جانب سے کل 10 مطالبات کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے ڈاکٹر معیز کا کہنا تھا:  ’جب تک یہ بیلے آزاد ہیں ہماری کمیونٹی ان کے تشدد کا نشانہ بنتی رہے گی۔ گذشتہ ہفتے ہونے والے ان کے حملے کی وجہ سے ہماری کمیونٹی سوگ میں ہے۔ بس اب بہت ہو گیا ہے۔ ہم نہ مزید بیلیں چاہتے ہیں اور نہ ان کی بیلائی۔ ہم پاکستان کی ریاست کے شہری ہیں اور ہم بیلا نیٹ ورک کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

خواجہ سرا کمیونٹی کے مزید مطالبات ہیں کہ پاکستان کے شہری استعماری سامراجیت کی ان تعلیمات کو ختم کریں جو کہ ان کی مقامی خواجہ سرا برادری کے خلاف ہیں۔ ان ڈھانچوں کو ختم کرنے میں ان خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے عدل و انصاف پر مبنی مساوی معاشرہ قائم کرنے میں ان کی مدد کریں کیونکہ بیلا نیٹ ورک جیسے گروہ ان کی کمیونٹی پر تشدد کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مطالبہ ہے کہ خواجہ سرا اور دیگر ٹرانس فیمینین باڈیز کو بہتر اور سستی صحت و تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ خواجہ سراؤں کو باعزت اور ایماندار روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور خواسراؤں کو معاشرے میں عزت دی جائے۔

حکومت سے ان کے مطالبات ہیں کہ جن بیلوں نے ڈاکٹر معیز اور فردوس پر حملہ کیا تھا ان بیلوں کو گرفتار کر کے اگلے ہفتے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

 اس کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت خواجہ سراؤں اور خواجہ سرا برادری کی حفاظت کے لیے قانون سازی کا مسودہ پیش کرے اور یہ عمل 2021 کے اختتام سے پہلے ہی شروع کردیا جائے۔

 اس کے علاوہ خواجہ سراؤں کے معاملات کی نگرانی کرنے والی ایک خصوصی کمیٹی سندھ میں موجود خواجہ سرا تنظیموں کے تعاون سے قائم کی جائے جس میں ایک خاص ہیلپ لائن بھی بنائی جائے جو خواجہ سرا ہنگامی حالت میں استعمال کر سکیں۔

ان کے حکومت سے مزید مطالبات ہیں کہ بیلوں کی حرکات کو سمجھنے کے لیے پولیس کا حساس ہونا ضروری ہے اور خواجہ سراؤں کو ایف آئی آر درج کرنے سے نہ روکا جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیز میں خواجہ سرا کمیونٹی کی نمائندگی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

 اس کے ساتھ ساتھ انہوں کے اپنی کمیونٹی کے افراد کے لیے محفوظ گھروں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے جس کے انتظامات ان کی کمیونٹی کے ہاتھ میں ہی ہوں تاکہ وہ ضرورت مند خواجہ سراؤں کو گھر مہیا کر سکیں، خاص طور پر نوجوان خواجہ سراؤں کو جو زیادہ تشدد کا سامنا کرتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان