محمد رضوان کے ہسپتال میں گزرے دن اور تکیے کا راز

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے اپنی بیماری کے بارے میں پہلی مرتبہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب خاموشی سے ہوا اور میں بھی بتانا نہیں چاہ رہا تھا۔‘

محمد رضوان نے اس سال 42 میچوں کی 39 اننگز میں 1743 رنز بنائے (اے ایف پی)

آئی سی سی ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے کھیلتے ہوئے عمدہ کارکردگی دکھانے والے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے بتایا ہے کہ انہوں نے سیمی فائنل سے قبل دو روز ہسپتال میں کیسے گزارے اور وہ اپنا تکیہ ہمیشہ ساتھ کیوں رکھتے ہیں۔

آپ کو یاد دلاتے جائیں کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان جمعرات کو کھیلے گئے سیمی فائنل میچ سے قبل محمد رضوان نے دو روز تک ہسپتال میں گزارے تھے اور اس کے بعد نہ صرف کھیلے بلکہ اہم 67 رنز بھی سکور کیے تھے۔

میچ کے دوران ایسا بالکل بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ محمد رضوان ہسپتال سے میچ کھیلنے آئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان نے اپنی بیماری کے بارے میں پہلی مرتبہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب خاموشی سے ہوا اور میں بھی بتانا نہیں چاہ رہا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’عجیب سی حالت تھی۔ میری فیملی بھی ساتھ تھی، میں نے ان سے کہا کہ میں ہوٹل میں ہی ای سی جی کروانے جا رہا ہوں، مگر ہسپتال جانا پڑا جہاں پہنچنے پر میری سانس رکی ہوئی تھی۔‘

’ڈاکٹر نے کہا کہ اس کی خوراک اور سانس کی ٹیوبز بند ہو چکی ہیں، مگر انہوں نے کہا کہ صبح تک ٹھیک ہو جاؤ گے۔‘

محمد رضوان بتاتے ہیں کہ ’جب میں نے نرس سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کو 20 منٹ دیر ہو جاتی تو آپ کی دونوں ٹیوبز پھٹ جاتیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ وہ تمام ٹیسٹ اور علاج اس خوشی میں کروا رہے تھے کہ اس سے میں میچ کھیلنے کے قابل ہو جاؤں گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیمی فائنل سے قبل اپنی بیماری کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’مجھے یاد ہے کہ ڈاکٹر نے آکر مجھ سے کہا کہ رضوان میں چاہتا ہوں کہ آپ پاکستان کے لیے سیمی فائنل کھیلیں۔ اس بات سے مجھے مزید ہمت ملی۔‘

محمد رضوان نے ہسپتال میں گزرے ہوئے وقت کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر نے بعد میں ان سے آکر کہا کہ اگر وہ میچ کھیلیں گے تو انہیں مختلف خطرے لاحق ہو سکتے ہیں۔

’میں نے کہا کہ جب میں آیا تھا تب تو میں ٹھیک تھا اور میچ بھی نہیں کھیلا تھا، جب اللہ نے بیمار کرنا تھا تو ہو گیا اور ہسپتال آگیا ہوں، اگر اب میچ کے بعد مجھے کچھ ہوتا ہے تو دکھ نہیں ہو گا کیونکہ یہ پاکستان کے لیے ہوگا۔‘

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ محمد رضوان ٹی 20 فارمیٹ کے تمام میچوں میں ایک کیلنڈر سال میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں۔

محمد رضوان نے اس سال 42 میچوں کی 39 اننگز میں 1743 رنز بنائے۔ انہوں نے کپتان بابر اعظم کے ہمراہ روایتی حریف بھارت کے خلاف ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں 152 رنز کی ناقابل شکست پارٹرنرشپ بھی قائم کی تھی۔

محمد رضوان کا تکیہ

ڈھاکہ پہنچنے کے بعد محمد رضوان نے کہا کہ پہلے تو سانس رک رہی تھی مگر اب وہ بہتر ہیں اور وہ کل یعنی منگل سے پریکٹس دوبارہ شروع کر دیں گے۔

محمد رضوان کو گذشتہ چند ٹوؤرز کے دوران اپنا تکیہ ساتھ لیے پھرتے بھی دیکھا گیا جس کے بارے میں بھی انہوں نے آخرکار بتا ہی دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ میڈیکیٹڈ تکیہ ہے جس کا انہیں ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے۔

’وکٹ کیپر کو کبھی جھکنا ہوتا ہے کبھی اٹھنا، ہیلمٹ بھی پہنے ہی رکھنا ہوتا ہے جس سے گردن سکڑ جاتی ہے، اس لیے میں یہ تکیہ استعمال کرتا ہوں جس سے مجھے سوتے وقت سکون ملتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ