اسلام آباد کا گاؤں سید پور، جس کی تاریخ قدیم بھی ہے، خونی بھی

سہ پہر تین بجے پولیس کو پتہ چلا کہ بہت سے مسلح لوگ پہاڑوں سے اتر کر سید پور کی طرف آ رہے ہیں جو گاؤں میں لوٹ مار کرنا چاہتے ہیں۔

سیدپور گاؤں کا مشہور مندر اکبر بادشاہ کے سپہ سالار مان سنگھ نے تعمیر کروایا تھا (Shikari7 - Own work: CC BY-SA 3.0)

اسلام آباد کی تعمیر سے جو 85 دیہات متاثر ہوئے ان میں سید پور سب سے بڑا گاؤں تھا جس کی آبادی 1947 میں 16 ہزار کے لگ بھگ تھی۔ مٹی کے برتن بنانے والوں کا یہ گاؤں کمہاروں کے گاؤں سے بھی معروف تھا۔

اس کے علاوہ یہ اسلام آباد کے وہ واحد گاؤں ہے جو آج بھی موجود ہے۔ 2006 میں اس کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کی بحالی کا شروع ہوا اور اسے ایک ماڈل ویلج کا درجہ ملا۔ مندر، گردوارہ اور دھرم شالا کو بھی بحال کیا گیا ہے۔

ہندو مت میں سید پور گاؤں کیوں اہم ہے؟

سید پور ویلج کی تاریخ بہت قدیم بیان کی جاتی ہے اور اس کا ذکر ہندوؤں کی قدیم ترین کتب میں ہے۔ راجہ محمد عارف منہاس اپنی کتاب ’پاکستان کے آثار قدیمہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’خطہ پوٹھوہار میں ہندوؤں کے تین متبرک تیرتھ ہیں، سید پور، ٹلہ جوگیاں اور راج کٹاس۔ کشمیری دانشور اوپ ٹالا کے مطابق سید پور کے مقام پر سنسکرت کی پہلی یونیورسٹی قائم ہوئی تھی جہاں رام، سیتا اور لکشمن بن باس کے دوران آئے تھے۔ آج بھی سید پور میں رام سیتا اور لچھمن کنڈ موجود ہیں۔‘

معروف محقق ذوالفقار علی کلہوڑو کے مطابق سید پور کے ابتدائی آباد کار راجپوت اور گکھڑ قبیلے تھے۔ مرزا فتح علی بیگ جو کہ مغل خاندان کا ایک صوفی منش آدمی تھا، وہ اس علاقے میں 1530 میں آیا جس کے نام کی نسبت سے یہ گاؤں فتح پور باؤلی کے نام سے مشہور ہو گیا کیونکہ یہاں ایک باؤلی (کنواں) بھی تھی۔

جب اکبر اعظم کے دور میں راولپنڈی کے بعض علاقے مغل سلطنت کا حصہ بنے تو فتح پور باؤلی بھی ان میں سے ایک تھا۔ تب یہ علاقہ سید خان گکھڑ کی ملکیت تھا جس کی مناسبت سے اسے سید پور کہا جانے لگا۔ سید خان مشہور گکھڑ سردار سلطان سارنگ خان کا بیٹا تھا۔

اکبر کا مشہور جرنیل مان سنگھ 1580 میں کابل جا تے ہوئے راولپنڈی میں ٹھہرا تو سید خان نے اسے سید پور آنے کی دعوت دی۔ مان سنگھ سید پور کے نظاروں سے بہت متاثر ہوا اس نے سید خان کو تجویز دی کہ اگر یہاں ایک مندر بنایا جائے تو اس کے اخراجات وہ برداشت کریں گے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں یہاں ہندوؤں کی خاصی آبادی ہو گی۔ چنانچہ نہ صرف یہاں مندر بلکہ دو کمروں پر مشتمل دھرم شالہ بھی بنائی گئی اور اس کے ساتھ گزرنے والے چار نالوں کو بھی پختہ کیا گیا جو مارگلہ کے دامن سے پھوٹتے تھے اور چشموں کا پانی لیے ہوئے نیچے کی زمینوں کو سیراب کرتے تھے۔

اس وقت یہ نالے ’رام کنڈ،‘ ’لکشمن کنڈ،‘ ’سیتا کنڈ‘ اور ’ہنو مان کنڈ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔

بعد ازاں راولپنڈی کے ایک متمول تاجر بسنت رام نے یہاں ایک آشرم بنوایا اور دھرم شالہ کو بھی توسیع دی۔ اس کے علاوہ جنہوں نے بھی اس کی تعمیر نو میں چندہ دیا ان کے نام آج بھی یہاں فرش پر لکھے ہوئے ہیں۔

تقسیم کے وقت جب ہندو جانے لگے تو مندر کا انتظام و انصرام رام لال، رادھو اور دیوان کے پاس تھا جو جاتے ہوئے مندر سے لکشمی اور کالی کی مورتیاں ساتھ لے گئے تھے۔

راولپنڈی کے گزٹیئر 1893-94 میں لکھا ہے کہ سید پور گاؤں جو مارگہ کے دامن میں اپنے خوبصورت چشموں کی وجہ سے مشہور ہے وہاں ایک سالانہ ہندو میلہ رام کنڈ کے آستانے پر ہوتا ہے جس میں کم و بیش آٹھ ہزار لوگ شرکت کرتے ہیں۔

راجہ رام چندر اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں آئے تھے جس کی وجہ سے یہ مقام ہندوؤں کے لیے متبرک ہے۔ یہ میلہ ہر سال اپریل میں بیساکھ کے موقع پر ہوتا ہے۔

مندر کے اندر لکشمی اور کالی کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ہندو مت میں لکشمی وشنو کی بیوی تھی اور اسے وشنو کی سب سے طاقت ور دیوی کی حیثیت بھی حاصل ہے جو اپنی فیاضی کی وجہ سے مشہور ہے جس کے ذمے بارشیں، خوشحالی اور تاج و تخت ہیں۔

لکشمی کے ماننے والوں کا اب ایک الگ فرقہ بھی بن گیا ہے۔ جبکہ کالی بھی ہندو مت کی دس طاقتور دیوی دیوتاؤں میں سے ایک ہے جس کا ظہور شیطانی طاقتوں کے خاتمے کے لیے ہو اتھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس مندر کے ساتھ ایک گردوارہ بھی موجود ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے سکھوں نے بیسوی صدی کے اوائل میں بنایا تھا۔ اس گردوارے کے ساتھ ایک عمارت ہے جہاں بچوں کو سکھ مذہب کی تعلیم دی جاتی تھی۔

تقسیم کے بعد گردوارے کو سکول میں بدل دیا گیا جس کی وجہ سے اس کی دیواروں پر بنے نقوش پر چونا پھیر دیا گیا تھا۔ اسی دور میں مندر کا بھی یہی حال ہوا۔ مندر میں موجود تصاویر بھی ضائع ہو گئیں۔

پاکستان میں ہندو مت کے آثار پر تحقیق کرنے والے ایک ہندو محقق ہارون سرب دیال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ گاؤں ہندومت میں بہت متبرک ہے اور اس کا قدیم نام رام کنڈ تھا جو یہاں موجود ایک متبرک تالاب کے نام پر تھا۔

اس تالاب سے دو نہریں نکلتی تھیں ایک کو ہندو اور دوسری کو مسلمان استعمال کرتے تھے۔ تاریخ میں درج ہے کہ یہان پر رام جی، سیتا جی، لکشمن جی اور ہنومان جی نے بن باس کے دوران قیام کیا۔

راجہ درش کے عہد میں شکتی ماتا نے اپنے خاوند شیو شنکر گروناتھ کی موت کے بعد خود کو ستی کر دیا تھا تو ان کے جسم کے 11 ٹکڑے ہوئے تھے۔ ایک ٹکڑا پنڈی میں بھی لایا گیا تھا۔ پنڈی کا مطلب سنسکرت میں انسان کی قربانی ہے جو اسی وجہ سے موسوم ہوا ہے۔ راولپنڈی کا نام شکتی ماتا کی نسبت سے ہے۔

مغل بادشاہ جہانگیر بھی سید پور کا داماد تھا

انڈپینڈنٹ اردو سے وابستہ معروف کالم نگار آصف محمود جنہوں نے مارگلہ پر خاصی تحقیق کر رکھی ہے، وہ سید پور سے جڑی ایک اور دلچسپ داستان بھی بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق گکھڑوں کے سردار سلطان سارنگ خان نے جب مغلوں کی حمایت میں اپنی جان قربان کی تو اس کے بعد ان کا بیٹا سید خان سردار بنا۔

اکبر اعظم نے اپنے باپ ہمایوں سے وفاداری کے صلے میں گکھڑ سردار کو جو جاگیریں عطا کیں ان میں یہ گاؤں فتح پور باؤلی بھی تھا جو بعد ازاں سید خان کی نسبت سے سید پور ہو گیا۔

تزک جہانگیری میں جہانگیر کے کابل جاتے ہوئے راولپنڈی میں جس جگہ قیام کا تذکرہ ہے وہ یہی گاؤں سید پور ہے۔ جہانگیر نے لکھا کہ پنڈی سے تھوڑا آگے ایک ایسا جاں افزا مقام ہے کہ جو اسے دیکھتا ہے اس کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

بعد میں یہ انسیت رشتہ داری میں بدل گئی اور جہانگیر نے سلطان سید خان کی بیٹی سے شادی کر لی۔ سید خان نے یہ گاؤں بیٹی کو جہیز میں دے دیا۔

16 جون، 1926، آگ، خاک اور خون

مہتاب سنگھ گردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر کے رکن تھے جب 14 جون، 1926 میں راولپنڈی میں بدترین فسادات کی تحقیق کرنے وہ امرتسر سے راولپنڈی پہنچے۔

انہیں معلوم ہوا کہ ایک روز بعد سید پور میں بھی ان فسادات کے شعلے پہنچ گئے تھے جہاں دو بڑے ہندو ساہو کاروں لچھمن داس اور اس کے بیٹے مالی رام کو تہہ تیغ کر دیا گیا اور کئی خواتین کی عزتیں لوٹ لی گئیں، ہندوؤں کے گھروں اور دکانوں کو لوٹ کر انہیں نذرِ آتش کر دیا گیا۔

وہ اپنی رپورٹ میں لکھتے ہیں کہ سید پور مارگلہ کے دامن میں ایک خوبصورت گاؤں ہے، جس میں پہاڑوں سے ایک ندی گپت گنگا بہہ کر آ رہی ہے۔ دیگر کئی ندیاں بھی سید پور میں آکر یہاں کے باغات کو سیراب کرتی ہیں۔

جب ہم یہاں پہنچے تو تباہی یہاں کے درو دیوار سے عیاں تھی۔ گاؤں میں کل 36 دکانیں تھیں جن میں سے 31 کو جلا دیا گیا تھا۔ کھاتے پیتے چار ساہو کاروں کے گھر بھی آگ کی بھینٹ چڑھے۔ دو گردواروں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ ایک گردوارے کو آگ لگانے سے اس کا برامدہ جل کر خاکستر ہو گیا مگر خوش قسمتی سے گرو گرنتھ تک آگ نہیں پہنچی۔

گردوارے سے متصل دکانیں بھی جل گئیں۔ کہا جاتا ہے گردوارے میں آگ دکانوں سے پہنچی۔ جبکہ دوسرا گردوارہ جو ساہو کار کے گھر کے پیچھے تھا مکمل طور پر جل گیا اور یہاں موجود گرو گرنتھ بھی نہ بچ سکی۔

پولیس کے سب انسپکٹر بخشی فرمان علی نے بتایا کہ سہ پہر تین بجے پولیس کو پہاڑوں سے اتر کر آنے والے عطا محمد نے بتایا کہ بہت سے مسلح لوگ پہاڑوں سے اتر کر سید پور کی طرف آ رہے ہیں جو گاؤں میں لوٹ مار کرنا چاہتے ہیں۔

اس کی اطلاع ملتے ہی امیر ہندو اپنے مسلمان دوستوں کے ہاں پناہ لینے پہنچ گئے۔ اسی دوران رات آٹھ بجے ڈاکو اللہ اکبر کے نعرے لگاتے گاؤ ں میں پہنچ گئے۔ انہوں نے ہندوؤں کی دکانیں لوٹ کر انہیں آگ لگا دی۔

گاؤں کے سب سے امیر ساہو کار لچھمن داس اور اس کا بیٹا مالی رام جو پہلے گاؤں سے فرار ہو گئے تھے وہ اپنی کوئی قیمتی اشیا لینے واپس آئے کہ حملہ آوروں کا نشانہ بن گئے۔

بعد میں گاؤں کے ذیلدار اکبر اور نمبردار حیدر خان نے ہمیں بتایا کہ شام پانچ بجے ہی انہوں نے ساہوکاروں کو بتا دیا تھا کہ گاؤں پر حملہ ہونے والا ہے وہ اپنی حفاظت کا بندو بست کر لیں تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ گاؤں میں ہندو خاندانوں کی اس وقت تک حفاظت کریں گے جب تک پولیس پہنچ نہیں جاتی۔

ہندوؤں نے ڈاکوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے گھروں کی چھتوں پر پتھر جمع کر لیے۔ گاؤں والے مسلمانوں نے حملہ آوروں کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ہندوؤں کو اپنے گھروں میں پناہ دی، ان کا قیمتی سامان بھی بچایا مگر یہ بات معلوم نہیں ہو سکی کہ ذیلدار اور نمبردار نے پولیس کو بر وقت اطلاع کیوں نہیں دی حالانکہ سید پور سے راولپنڈی تک ٹانگہ ایک گھنٹے میں پہنچ جاتا تھا۔

گولڑہ پولیس نے اطلاع دی کہ راولپنڈی سے اکالی دل سکھوں کا ایک جتھہ سید پور میں بدلہ لینے کے لیے آ رہا ہے اور اس وقت راولپنڈی کے باہر نڑالہ کے جنگل میں چھپا ہوا ہے۔ یہ اطلاع پا کر سید پور سے بہت مسلمان گھرانے اپنا سامان لے کر پہاڑوں پر چڑھ گئے، مگر بعد ازاں پولیس نے جب جنگل کی تلاشی لی تو وہاں سے ایک بھی سکھ برآمد نہیں ہوا۔

یہ ایک ہولناک واقعہ ہے جس کے اثرات سید پور کی زندگی پر بہت دیر رہے۔ تقسیم کے وقت 16 ہزار آبادی والا یہ گاؤں اب چند درجن گھرانوں پر مشتمل ہے مگر بھلا ہو سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری کا کہ انہوں نے اس کی تاریخی اہمیت کے پیشِ نظر اسے بحال کر کے ہمیں اس گاؤں کے ماضی میں جھانکنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ